قرآن: کتابِ فطرت
Al-Risala, August 2014, pp. 2–4
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کا مقصد نزول کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی ایک ابتدائی آیت میں موجود ہے۔ سورہ البقرہ کی پہلی آیت یہ ہے: ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ (2:2) یعنی یہ الکتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
قرآن کی اس آیت میں کتاب کے ساتھ ’الف لام‘ استعمال ہوا ہے، عربی قاعدہ کے مطابق، یہاں الکتاب میں (الف لام) عہد کا ہے، یعنی اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ یہ وہی کتاب معہود (Promised Book) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت جس رہنما کتاب کا تقاضا کر رہی تھی، قرآن وہی رہنما کتاب ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے جن سوالات کا جواب چاہتا تھا، اُن سوالات کا جواب اس کتاب میں دیا گیا ہے۔ قرآن میں فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي ھُدًى (2:38) کے الفاظ میں اِسی کتاب ہدایت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے، ایک متلاشی حق حیوان ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات (purpose of life) کیا ہے۔ زندگی کیا ہے اور موت کیا ہے۔ انسان کے لیے ابدی سعادت کی صراطِ مستقیم کیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کے دل میں یہ سوالات ہوتے ہیں، خواہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کرے یا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے آغاز ہی سے اس کا انتظام کیا۔ بار بار تاریخ میں ایسے پیغمبر آئے جو اس سلسلے میں انسان کو اللہ کا کلام پہنچاتے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں کے ذریعے جو کلام الہی انسان کے پاس اللہ نے بھیجا تھا، بعد کو وہ اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہا۔ اس کے بعد اللہ نے یہ کیا کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اس نے اپنی آخری کتاب قرآن نازل فرمائی اور یہ بھی فیصلہ کر دیا کہ یہ کتاب قیامت تک اپنی اصل حالت میں محفوظ رہے، تاکہ دوبارہ کسی نئے پیغمبر یا نئی کتاب کی ضرورت پیش نہ آئے۔
قرآن کو ابدی کتاب ہدایت کی حیثیت سے محفوظ کرنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ ایسی جامع منصوبہ بندی کی جائے جو اسباب کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلی معنوں میں قرآن کی ابدی حفاظت کی ضامن بن جائے۔ اگر قرآن کامل معنوں میں محفوظ نہ رہے تو انسان کے لیے اس کی اہمیت مشتبہ ہو جائے گی۔
1- اس مقصد کے لیے پہلی ضرورت یہ تھی کہ عربی زبان جو کہ قرآن کی زبان ہے، وہ قیامت تک ایک زندہ زبان (living language) کی حیثیت سے باقی رہے۔ چناں چہ عربی زبان کے حق میں یہ واقعہ پوری طرح پیش آیا۔ زبانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ چند سو سال کے بعد زبان اتنا زیادہ بدل جاتی ہے کہ بعد کے لوگ قدیم زبان کو سمجھ نہیں پاتے، مگر عربی زبان تمام معلوم زبانوں میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتی ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں جو عربی زبان رائج تھی اور جس میں قرآن اتارا گیا، وہ عربی زبان آج بھی اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔ عربی زبان کی گریمراور اس کی لغات آج بھی وہی ہیں جو پہلے تھیں۔ علم الالسنہ کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ عربی زبان کی یہ صفت تمام زبانوں میں ایک استثنا ہے۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ کو قرآن کو محفوظ رکھنا تھا، اس لیے اُس نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کی زبان بھی کامل طور پر محفوظ رہے۔ لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘، صفحہ: 181-169)۔
2- یہی معاملہ قرآن کے متن (text) کا ہے۔ اس معاملے میں بھی اللہ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن عربی کا متن کسی ادنیٰ تغیر کے بغیر پوری طرح محفوظ رہے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں تمام صحابہ کے اتفاق سے زید بن ثابت انصاری نے قرآن کا جو مکتوب نسخہ (written version) تیار کیا تھا، بعد کے زمانے میں قرآن کے جو نسخے تیار کیے گئے، وہ اسی اولین نسخے کی کامل نقل تھے۔ حفاظت متن کا یہ سلسلہ اعلیٰ اہتمام کے ساتھ تاریخ میں مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ آج قرآن کے مطبوعہ نسخے دنیا بھر میں بے شمار مدرسوں، مسجدوں، گھروں اور لائبریریوں میں موجود ہیں۔ یہ سب مطبوعہ نسخے زید بن ثابت انصاری کے
اولین نسخے کی کامل نقل ہوتے ہیں۔ محققین (scholars) نے لمبی تحقیق کے بعد اعتراف کیا ہے کہ قرآن کے متن میں ایک آئیوٹا (iota) کے بقدر بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے حفاظتِ قرآن کا یہ اہتمام اس لیے کیا کیوں کہ اگر قرآن کے متن میں ادنی تغیر ہوجائے تو لوگوں کی نظر میں قرآن کا استناد (credibility) مشتبہ ہو جائے گی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ساتھ ایک اور خصوصی معاملہ کیا اور وہ تھا قرآن کی تاریخ کا تحفظ۔ قرآن کی تاریخ ہر جزئی اور کلی اعتبار سے پوری طرح محفوظ ہے۔ اس پر عربی زبان میں باقاعدہ کتابیں موجود ہیں۔ قرآن کی یہ تاریخ اتنی مکمل صورت میں لکھی گئی ہے کہ آج جو شخص ان کتابوں کو پڑھے، وہ پوری طرح جان لے گا کہ قرآن کی حفاظت کا تاریخی اہتمام کس طرح کیا گیا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کے معنی اور مفہوم کا ہے۔ مسلم اہلِ علم نے کثرت سے قرآن کی تفسیریں لکھیں اور قرآن سے متعلق علوم پر کتابیں تیار کیں۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ قرآن کی آیتوں کے معنی پوری طرح معلوم اور محقق ہو گئے۔ یہ واقعہ بھی قرآن کی حفاظت کا ایک حصہ ہے۔ قرآن کے الفاظ جس طرح محفوظ کیے گئے، اُسی طرح قرآن کے الفاظ کے معانی بھی محفوظ کیے جاتے رہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو محفوظ متن کی موجودگی میں بھی قرآن ایک نا قابل فہم مجموعہ بن جاتا۔ لوگ قرآن کے عربی الفاظ کو پڑھتے، لیکن وہ قرآن کے معنی ومفہوم سے بے خبر رہتے۔
مثال کے طور پر قرآن کی پہلی سورہ میں دین (1:4) کا لفظ آیا ہے۔ اسی طرح قرآن کی سورہ یوسف میں بھی دین (12:76) کا لفظ آیا ہے۔ دونوں جگہ لفظ ایک ہے، مگر دونوں جگہ لفظ کے معنی مختلف ہیں، اور یہ فرق تواتر کے ذریعے پوری تاریخ میں منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ وہ آج کے لوگوں تک پہنچ گیا، وغیرہ۔
قرآن کے معنی کا یہ تحفظ بہت ضروری تھا۔ اگر یہ تحفظ موجود نہ ہوتا تو قرآن کے معانی کو سمجھنے میں بہت زیادہ اختلافات ہوتے۔ یہاں تک کہ یہ بھی ممکن تھا کہ قرآن کا عربی متن موجود ہو، اس کے با وجود قرآن ایک نا قابل فہم کتاب بن جائے۔