قرآن اور فیصلہ الہی
Al-Risala, August 2014, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کے لیے اللہ نے مقدر کر دیا ہے کہ اس میں باطل نہ اس کے آگے سے داخل ہو سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ خدائے حکیم اور حمید کی طرف سے اتارا گیا
اس آیت میں آگے (before) سے مراد قرآن کے الفاظ ہیں اور پیچھے (behind) سے مراد ان الفاظ کے معانی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں نہ کوئی لفظی تبدیلی (change in words) ممکن ہے اور نہ کوئی معنوی تبدیلی (change in meaning)۔ قرآن کے تحفظ کے بارے میں اس فیصلہ الہی کا تقاضا ہے کہ قرآن اول دن سے لے کر قیامت تک ان دونوں پہلوؤں کے اعتبار سے، کامل طور پر انٹیکٹ (intact) رہے۔ کسی ادنی وقفہ (gap) کے بغیر قرآن کی یہ محفوظیت مسلسل طور پر
یہ بات قرآن کے لفظ اور معنی دونوں کے اعتبار سے، یکساں طور پر مطلوب ہے۔ قرآن کا لفظ جس طرح تاریخ میں کسی انقطاع کے بغیر منتقل ہو رہا ہے، اسی طرح اس کا مفہوم بھی تاریخ میں کسی انقطاع کے بغیر کامل صحت کے ساتھ منتقل ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ قرآن کے بارے میں اللہ کا منصوبہ مکمل نہ ہوسکا، جو کہ بلاشبہ ناممکن ہے۔ قرآن بظاہر ایک کتاب ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک فیصلہ خداوندی قرآن اللہ اور بندے کے درمیان برہان (4:174) ہے۔ برہان کا مطلب حجت ہے۔ دوسرے الفاظ میں، قرآن ایک مستند دستاویز (authoritative document) ہے۔
قرآن میں پیشگی طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ انسان سے اللہ کو کیا مطلوب ہے اور کس بنیاد پر انسان کے لیے ابدی عذاب یا ابدی انعام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ قرآن کی اس نوعیت کا تقاضا ہے کہ قرآن اپنے لفظ اور اپنے معنی دونوں اعتبار سے، کامل طور پر محفوظ رہے۔ قرآن کی یہ محفوظیت کسی جنگل میں یا کسی پہاڑ پر نہیں ہو سکتی۔ قرآن کی محفوظیت لازمی طور پر انسانوں کے درمیان ہوگی۔ ایسی حالت میں
قرآن کی لفظی اور معنوی حفاظت کا معیار وہی ہوگا جو دوسری کسی انسانی کتاب کا ہو سکتا ہے اور علمی تاریخ کے مطابق، وہ معیار یہ ہے کہ کتاب کے الفاظ اور اس کے معانی کا استعمال انسانوں کی ایک بڑی جماعت کے درمیان نسل در نسل (generation after generation) جاری رہے، تاریخ کے کسی بھی لمحے میں لوگوں کے درمیان ان کا تسلسل نہ ٹوٹے۔