تعبیر و تفسیر یا تحریف
Al-Risala, August 2014, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کا عربی متن (text) محفوظ حالت میں ہر جگہ موجود ہے۔ کسی بھی صاحب علم آدمی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ آبجیکٹیو (objective) انداز میں مطالعہ کر کے قرآن کے معنی میں نئے پہلوؤں کی نشان دہی کرے۔ قرآن کی بنیادی تعلیم ایک ہے اور وہ ہمیشہ ایک رہے گی، لیکن قرآن کی آیتوں میں نئے پہلوؤں کی دریافت ہمیشہ جاری رہے گی، جیسا کہ خود حدیث میں قرآن کے بارے میں آیا ہے: لا تنقضي عجائبه (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2906) یعنی قرآن کے عجائب (wonders) کبھی ختم نہ ہوں گے۔
لیکن اس مطالعہ قرآن کی دو صورتیں ہیں—ایک ہے تعبیر (interpretation) کا طریقہ اور دوسرا ہے، تحریف (distortion) کا طریقہ—قرآن میں نئی تعبیرات کی گنجائش ہمیشہ باقی رہے گی، لیکن تحریف کی گنجائش یقینی طور پر نہیں۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں کچھ مثالیں نقل کی
مثال کے طور پر قرآن میں اہل جہنم کے بارے میں آیا ہے کہ : قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (74:43) - قرآن کی اس آیت میں ’مصلین‘ کا لفظ آیا ہے، لیکن یہاں صلوۃ کی عملی صورت کا ذکر نہیں ہے، اب اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں ’مصلین‘ سے مراد پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے لوگ ہیں تو یہ ایک جائز تعبیر و تفسیر ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس آیت میں ’مصلین‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سماجی تنظیم (social organization) میں شامل تھے، تو یہ آیت کی ایک محرّف (distorted) تشریح ہوگی جو علمی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
اس معاملے کی ایک اور مثال لیجئے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) یعنی خدا نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے، تا کہ تم اُن پر سوار ہو اور زینت کے لیے بھی، اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔ قرآن کی اس آیت میں انسان کے بری سفر اور برّی سفر کا ذکر ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ویخلق ما لا تعلمون، کے الفاظ میں ہوائی سفر کا ذکر ہے جس کی ٹیکنالوجی بوقت نزول قرآن نیچر میں موجود تھی اور بعد کو انسان اس مخفی ٹیکنالوجی کو دریافت کر کے ہوائی جہاز بنانے والا تھا اور بحری اور بحری سفر کے علاوہ ہوائی سفر کا بھی اس میں اضافہ کرنے والا تھا۔ اگر کوئی شخص قرآن کی اس آیت کی یہ تفسیر کرے تو وہ ایک جائز تفسیر ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ویخلق ما لا تعلمون، کے الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی ایک اور آتشی مخلوق ہے جو ستاروں کی دنیا میں رہتی ہے تو یہ بلا شبہ ایک بے بنیاد تعبیر و تفسیر ہوگی جو علمی طور پر ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کے بارے میں اللہ کا یہ فیصلہ پوری طرح واقعہ بنا۔ یہی وجہ ہے کہ نزولِ قرآن کے چودہ سو سال بعد آج بھی بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے درمیان قرآن کے الفاظ اور اس کے معانی دونوں اُسی طرح معلوم اور مالوف ہیں جیسا کہ وہ نزول قرآن کے وقت اس درمیان میں نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ غیر مسلم اہلِ علم نے قرآن کا گہرا مطالعہ کیا اور غیر مشتبہ طور پر اس کو سمجھتے رہے۔ قرآن کے بارے میں لوگوں کی اس معرفت (understanding) کی تصدیق انسانوں کے ذریعے براہ راست بھی کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ قرآن کے موضوع پر لکھی ہوئی بے شمار کتابیں دنیا بھر کے کتب خانوں میں موجود ہیں، ان کتابوں کا مطالعہ بھی قرآن کے بارے میں مذکورہ حقیقت کی بالواسطہ تصدیق کرتا ہے۔