Al-Risala · August 2014

قرآن اور لسانیات

Al-Risala, August 2014, pp. 7–11

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان (language) انسان کی ایک امتیازی صفت ہے۔ تمام حیوانات میں انسان واحد مخلوق ہے جو سوچتا ہے اور پھر اپنی سوچ کو نطق (speech) کی صورت میں بیان کرتا ہے۔

اس صلاحیت کا اظہار ہمیشہ الفاظ کے ذریعے ہوتا ہے، مگر الفاظ کوئی جامد (static) چیز نہیں۔ انسان کے اندر فکر کا عمل (thought process) ہمیشہ ارتقا کرتا رہتا ہے، اسی طرح زبان میں بھی ہمیشہ ارتقا کا عمل جاری رہتا ہے۔ فکر اور زبان دونوں یکساں طور پر ارتقا پذیر حقیقتیں ہیں، نہ کہ جامد حقیقتیں۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں انسان نے جنگلوں میں ایک حیوان کو دریافت کیا جو کہ انسانی سواری کے لیے نہایت موزوں تھا۔ انسان نے اپنی زبان میں اس کو گھوڑا (horse) کا نام دیا۔ کے بعد دھیرے دھیرے ارتقا ہوا اور گھوڑے کے ساتھ گاڑی کا تصور شامل ہوا۔ اب ایک نئی سواری وجود میں آئی جس کو گھوڑا گاڑی (horse cart) کہا جانے لگا۔ اس طرح گھوڑے کے لفظ میں ایک استعمالی اضافہ ہوا۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں مزید ترقی ہوئی اور انسان نے بھاپ کی طاقت (steam power) کو دریافت کیا۔ اب بھاپ کی طاقت کو بتانے کے لیے گھوڑے کے لفظ کا ایک نیا استعمال وجود میں آیا جس کو ہارس پاور (horse power) کہا جاتا ہے۔ ان تینوں الفاظ میں ایک مشترک مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود تینوں کے معنی الگ الگ ہیں، اور یہ الگ الگ مفہوم انسانوں کے درمیان ان الفاظ کے استعمال سے تدریجی طور پر بنا ہے۔

یہی ہر زبان کا معاملہ ہے۔ ہر زبان میں لفظ کے اصلی مفہوم کے ساتھ ہمیشہ اس کے استعمالی مفاہیم پائے جاتے ہیں، اور یہ استعمالی مفہوم اہل زبان کے درمیان اُن کے مسلسل لکھنے اور بولنے سے زبان کا حصہ بنتے ہیں۔ اہل زبان کے درمیان کسی انقطاع کے بغیر جاری اس عمل کو لسانی تواتر (linguistic continuation) کہا جاتا ہے۔

دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی یہی عمل پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عربی زبان کا ایک لفظ کایز کو ہے۔ اس لفظ کا ابتدائی مفہوم بڑھنا (to flourish) ہے۔ اس لحاظ سے یہ لفظ جمود کی ضد ہے۔ پہلے یہ لفظ اپنے ابتدائی مفہوم میں استعمال ہوتا تھا، لیکن اسلام میں جب مال کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی تعلیم آئی تو معنوی قربت کی بنا پر اس کے لیے زکوۃ کی اصطلاح اختیار کی کیوں کہ اسلام کا تصور یہ ہے کہ انفاق کا مطلب صرف خرچ نہیں، بلکہ اس سے مال میں اضافہ

ہوتا ہے، وہ مال میں برکت کا ذریعہ ہے۔

اسی طرح اسلام میں ایک اور تعلیم آئی جس کا مقصد یہ تھا کہ انسان کے اندر روحانی ارتقا (spiritual development)لایا جائے، انسان کی فطرت میں چھپے ہوئے روحانی امکان کو انفولڈ اس مفہوم کے لیے بھی قریب تر لفظ یہی تھا۔ چناں چہ اس عمل کو تزکیہ کہا گیا۔ مفہوم کے اعتبار سے تزکیہ کا لفظ اسلام کا ایک اصطلاحی لفظ بن گیا اور اس معنی میں وہ لوگوں کے درمیان استعمال ہونے لگا۔ تقریر و تحریر کے متواتر استعمال سے تزکیہ کا یہ اصطلاحی مفہوم پوری طرح معلوم اور متعین ہوگیا، حتی کہ اب اہل زبان اور اہل علم کے درمیان اس لفظ کے اصطلاحی مفہوم پر کوئی اشتباہ موجود نہیں۔ یہی مثال پورے قرآن پر صادق آتی ہے۔ قرآن کا متن عربی زبان میں ہے۔ قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں۔ قرآن میں استعمال ہونے والے عربی الفاظ کی تعداد 86430 شمار کی گئی ہے۔ الفاظ کہیں اپنے اصلی معنی کے اعتبار سے ہیں اور کہیں استعمالی معنی کے اعتبار سے اور کہیں قرآن کی اپنی اصطلاح کے اعتبار سے۔ قرآن کے عربی الفاظ کے یہ تمام مفاہیم تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، یہ مفاہیم غیر مشتبہ طور پر معلوم ہیں۔ چودہ سو سال کی مدت میں اہل زبان اور اہل علم کے درمیان متواتر استعمال کے نتیجے میں ان الفاظ کا مفہوم غیر مشتبہ طور پر متعین ہوگیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآنی الفاظ کے ان ثابت شدہ استعمالی مفاہیم کو نہ مانے، تو اس کا کیس علم کا کیس نہیں، بلکہ اس کا کیس ایک بدیہی امر کے انکار کا کیس ہے اور ایسے انکار کی علم اللسان کے اعتبار سے بلاشبہ کوئی قیمت نہیں۔ زبان اور اس کا استعمال زبان (language)کیا ہے۔ زبان ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان تبادلہ خیال کا ذریعہ ہے۔ زبان کا بنیادی عمل خیالات کا اظہار (expression of thought)ہے۔

ہر زبان ابتداء صرف بول چال کی زبان (dialect)ہوتی ہے، پھر استعمال کے دوران دھیرے دھیرے وہ لکھنے کی زبان بنتی ہے۔ مثلاً انگریزی زبان ہزار سال پہلے صرف بول چال کی

اس کے بعد وہ ترقی کر کے لکھنے کی زبان بنی۔ ابتدا میں انگریزی زبان کے الفاظ کی تعداد بہت کم تھی، جب کہ اکیسویں صدی میں انگریزی زبان کے الفاظ کی تعداد بڑھتے بڑھتے ایک ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔

کسی زبان میں الفاظ کا اضافہ بنیادی طور پر دو طریقے سے ہوتا ہے۔ ایک ہے خارجی کلچر کے اختلاط سے زبان کے الفاظ میں اضافہ ہونا۔ مثلاً کیلنڈر (calendar) اصلاً لاطینی زبان کا لفظ اس کے بعد وہ انگریزی میں شامل ہو کر انگریزی زبان کا حصہ بن گیا۔ الفاظ کا یہ اضافہ ہر زبان میں ہوتا ہے اور مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ زبان میں الفاظ کے اضافے کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو استعمال (usage) کے ذریعے ہوتا تقریباً ہر لفظ کے معنی میں استعمال کے ذریعے اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر زبان میں ہوتا ہے۔ کسی بھی زبان کی ڈکشنری کو دیکھ کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح الفاظ کے مفہوم میں اضافے کا یہ عمل جاری رہتا ہے۔ کسی لفظ کے ابتدائی معنی کو لغوی معنی کہا جاتا ہے اور اس کے اضافہ شدہ معنی کو استعمالی معنی - لفظ کے معنی میں استعمال کی بنا پر اضافے کی ایک صورت وہ ہے جس کو اصطلاح (term) کہا جاتا ہے۔ ہر زبان میں یہ اصول رائج ہے۔ اس پر باقاعدہ ڈکشنریاں بنائی گئی ہیں جن میں الفاظ کے اصل معنی کے ساتھ اس کے اصطلاحی معنی بھی بتائے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر انگریزی زبان میں ایک لفظ گیس (gas) ہے۔ لفظ گیس کا ابتدائی مفہوم انتشار (chaos) تھا۔ بعد کو یہ لفظ اصطلاح بن کر گیس کے موجودہ کیمیاوی معنی میں استعمال ہونے گیس کی یہ اصطلاح سترھویں صدی عیسوی میں بنی۔ بلجیم کے ایک سائنس داں وان ہیل مانٹ نے گیس کے لفظ کو کیمسٹری کی ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کیا:

“Gas” formed in the 17th century by the Belgian chemist and physician Jan Baptist Van Helmont (1577-1644) as a technical term in chemistry. (EB:10/652)

اسی طرح لفظ کے استعمالی معنی کی ایک مثال وہ ہے جس کو مجازی معنی (metaphor)

کہا جاتا ہے۔ الفاظ کو مجازی معنی میں استعمال کرنے کا طریقہ ہر زبان میں کثرت سے رائج ہے۔ کوئی لفظ جب مجازی معنی میں استعمال ہو تو لفظ اگر چہ اپنی ہیئت کے اعتبار سے وہی رہتا ہے، لیکن باعتبار استعمال اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً ایک بہادر آدمی کو اگر یہ کہا جائے کہ تم شیر ہو تو شیر کا لفظ اگر چہ وہی رہے گا، لیکن اس کے معنی میں ایک نیا مفہوم شامل ہو جائے گا۔ اب وہ لفظ اپنے اصلی معنی کے بجائے اپنے مجازی معنی کے اعتبار سے مراد ہوگا۔

اس معاملے کی ایک مثال فرانسیسی فلاسفر روسو (Jean Jacques Rousseau) کی اس کتاب کا فرانسیسی نام یہ تھا کنٹرات سوشیال (Contrat Social)۔ فرانسیسی زبان میں 1762 میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد اس کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس نام سے سوشل کنٹریکٹ (Social Contract)۔ روسو کی یہ کتاب حسب ذیل جملے سے شروع ہوتی ہے انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں دیکھتا ہوں:

Printed page