Man was born free, but I see him in chains.
Al-Risala, August 2014, pp. 11–13
By Maulana Wahiduddin Khan
اس جملے میں زنجیر (chain) کا لفظ اپنے اصلی معنی کے اعتبار سے استعمال نہیں ہوا ہے، بلکہ وہ اپنے مجازی معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں روسو کے لفظ کو مجازی معنی کے اعتبار سے نہیں لوں گا، بلکہ میں اس کو اس کے لغوی معنی کے اعتبار سے لوں گا، تو روسو کا یہ جملہ بالکل بے معنی ہو کیوں کہ روسو کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انسان حقیقی معنوں میں لوہے کی زنجیروں میں بندھا ہوا ہے۔ روسو نے اس لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کیا تھا، یعنی سیاسی زنجیر یا سیاسی بندھن کے معنی میں۔ اصطلاح سازی کا یہ طریقہ ہر زبان میں بلا اختلاف رائج ہے۔ ہر زبان میں ہر موضوع پر بے شمار اصطلاحات وضع ہوئی ہیں جو مسلسل طور پر کتابوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ علم کی ترقیاں اصطلاح سازی کے اسی اصول پر قائم ہیں۔ ہر موضوع کی کتابیں اس قسم کی اصطلاحات سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں لفظ کے اصطلاحی معنی کو نہیں، بلکہ ہر لفظ کو اس کے ابتدائی لغوی معنی میں لوں گا تو علمی ترقی کا خاتمہ ہو جائے گا اور کتب خانوں میں جمع شدہ کتابیں عملاً نا قابل فہم
دستاویز بن کر رہ جائیں گی ۔
مثال کے طور پر جرمن سائنس داں میکس پلانک (Max Planck) نے طبیعیات میں ایک نظریہ دریافت کیا ۔ اس نظریے کو کوانٹم تھیوری (Quantum Theory) کہا جاتا ہے ۔ کا مطلب یہ ہے کہ انرجی کا عمل مسلسل انداز میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ غیر مسلسل انداز میں ہوتا ہے: Quantum Theory: The theory that energy is not absorbed nor radiated continuously but discountinuously in definite units called quanta. اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ کوانٹم تھیوری کی ترکیب کو اس کے اصطلاحی معنی میں نہ لے، بلکہ وہ ”کوانٹم“ کے لفظ کو اس کے ابتدائی لغوی معنی (مقدار) میں لے کر اس پر بحث کرے تو اس کی ساری بحث آخری حد تک غیر علمی ہوگی۔ اور اگر اس کے اصول کو مان لیا جائے تو کوانٹم تھیوری کے موضوع پر لکھی ہوئی تمام کتابیں ایک نا قابل فہم دستاویز بن کر رہ جائیں گی۔ زبان کے معاملے میں یہی اصول ہر شعبہ علم میں رائج ہے۔ اسلام میں بھی اس کو اسی اعتبار سے استعمال کیا گیا ہے۔ قرآن میں بہت سے الفاظ ہیں جو بطور اصطلاح استعمال ہوئے ہیں، یعنی ایک مفہوم بتانے کے لیے کسی قریبی لفظ کو اختیار کرنا۔ مثلاً صلوة، صوم، زکوة، حج، وغیرہ۔ ان الفاظ کا ایک ابتدائی لغوی مفہوم ہے، لیکن قرآن میں اس کو اصطلاحی معنی کے اعتبار سے استعمال کیا گیا ہے۔ اصطلاحی مفہوم تاریخ میں مسلسل طور پر جاری رہا۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ ان الفاظ کو وہ اس کے معروف اصطلاحی معنی کے برعکس صرف اس کے لغوی معنی میں لے اور پھر اس کا خود ساختہ مفہوم بتا کر اس پر بحث شروع کر دے تو اس کی ساری بحث بلا شبہ بے بنیاد (baseless) قرار پائے گی۔ قسم کی بحث کی کوئی قیمت نہ علمی اعتبار سے ہوگی اور نہ اسلامی اعتبار سے۔ زبان اور معنی کا تاریخی تواتر ہر زبان کا یہ اصول ہے کہ اس کے الفاظ کے معنی اہل زبان کے استعمال سے متعین ہوتے ہیں۔ مجلسوں میں، تعلیم گاہوں میں، غرض ہر جگہ لمبی مدت تک اُن کا استعمال جاری رہتا ہے اور اُس پرڈکشنریاں
بھی لکھی جاتی ہیں۔ اس طرح لمبی مدت کے عمل کے بعد اہلِ زبان اور اہلِ علم کے درمیان الفاظ کے مفاہیم مسلمہ طور پر متعین ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ زبان جاننے والوں کے درمیان الفاظ کے مفاہیم پر کوئی شبہہ باقی نہیں رہتا۔ یہی ہر زبان میں ہوتا ہے اور یہی معاملہ اسلام میں بھی پیش آیا ہے۔ قرآن ساتویں صدی کے ربع اول میں عربی زبان میں اترا۔ عربی زبان اُس وقت ایک تحریری زبان بن چکی تھی ۔ اُس وقت سے اب تک عربی زبان ایک زندہ زبان کے طور پر زمین کے ایک بڑے رقبے میں رائج ہے۔
قرآن نے جن الفاظ کو لغوی یا اصطلاحی معنی میں استعمال کیا تھا، وہ رسول کے معاصرین کے درمیان بڑے پیمانے پر اُسی مفہوم میں دہرائے جاتے رہے۔ اس کے بعد ایک بڑی انسانی آبادی میں نسل درنسل برابر یہ سلسلہ جاری رہا۔ مسلم معاشرے کے علاوہ، مسجدوں میں اور مدرسوں میں اور اداروں میں بڑے پیمانے پر ان اصطلاحات کا مسلسل چرچا ہوتا رہا۔ ان پر کثرت سے کتابیں اور ڈکشنریاں لکھی گئیں۔ اس عمل (process) کو علمی زبان میں تواتر کہا جاتا ہے۔ (continuation) نے قرآن کے الفاظ اور اس کی اصطلاحات کو غیر مشتبہ طور پر ایک بڑے انسانی گروہ کے درمیان معلوم اور مسلم بنا دیا۔
اس معاملے کو تاریخی تواتر (historical continuation) کہا جا سکتا ہے۔ تواتر ہر زبان کے کتب خانے کو علوم کا مستند ماخذ بنائے ہوئے ہے۔ یہی تاریخی تواتر قرآن کے مفاہیم کو سمجھنے کے لیے بھی پوری طرح موجود ہے۔ جو اصول دوسرے علمی شعبوں کی کتابوں کو ناقابل انکار حقیقت کا درجہ دئے ہوئے ہے، وہی اصول قرآن اور اس کے الفاظ واصطلاحات کو بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت کا درجہ عطا کرتا ہے۔
اس معاملے میں جو لوگ قرآن کے الفاظ واصطلاحات پر شک کریں، وہ صرف قرآن کے الفاظ واصطلاحات پر شک نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ علوم کی پوری تاریخ کو عملاً منسوخ قرار دے رہے ہیں، اور اس قسم کی منسوخی کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بلا شبہہ وہ بدابتہ ہی