Al-Risala · August 2014

زبان کی تاریخ

Al-Risala, August 2014, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کی تعریف (definition) یہ کی جاتی ہے کہ اس کے اندر تصوراتی فکر (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ چناں چہ انسان کے ذہن میں پہلے کسی چیز کا تصور آتا ہے، اس کے بعد اس کے لیے الفاظ وضع ہوتے ہیں۔ مثلاً پہاڑ کو دیکھ کر پہاڑ جیسی چیز کا تصور پہلے آیا، اس کے بعد اس فطری ظاہر ہے کو بتانے کے لیے پہاڑ (mountain) کا لفظ وضع ہوا۔ نہیں ہے کہ پہاڑ کا لفظ پہلے وضع ہوا ہو اور اس کے بعد انسان نے پہاڑ کو دریافت کر کے اُس کو ’’پہاڑ‘‘ کا نام دیا ہو۔

یہی معاملہ اُن تعبیری الفاظ کا ہے جو قرآن میں استعمال کیے گئے ہیں۔ مثلاً انسان کے ذہن میں مسجد کا تصور (concept) پہلے آیا، اس کے بعد عبادت کے لیے بننے والی عمارت کو مسجد کہا جانے لگا۔ اسی طرح انسانی ذہن میں (صلوة) کا تصور پہلے آیا، اس کے بعد عبادت کی ایک مقرر صورت کو صلوة

کہا جانے لگا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بہت سے لوگ مقرر اوقات میں اجتماعی طور پر کھلے مقامات پر اعلان کے ساتھ اقامت صلوۃ کا فریضہ انجام دینے لگے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوا کہ نماز کی عبادت تمام لوگوں کے لیے اُسی طرح معلوم اور معروف واقعہ بن گئی جس طرح اس نوعیت کی دوسری تمام اجتماعی روایات ایک معروف واقعہ بنی ہوئی ہیں۔

زبان کسی خلا (vacuum) میں سفر نہیں کرتی، زبان ہمیشہ تاریخ میں سفر کرتی ہے۔ طرح انسان تاریخ میں سفر کرتا ہے، اُسی طرح انسان کی زبان بھی تاریخ میں سفر کرتی ہے۔ زبان کی تاریخ زبان کو ایک قابل فہم تسلسل بناتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ زبان کو اس کی تاریخ سے الگ کر کے اس کا مطالعہ کرے تو یقینی طور پر وہ غلطی کرے گا۔ وہ نہ تاریخ کو درست طور پر سمجھ سکے گا اور نہ زبان کو۔

Printed page