Al-Risala · August 2014

چند مثالیں

Al-Risala, August 2014, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی آیتوں کو سمجھنے کے لیے صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں جو الفاظ لغوی معنی میں آئے ہیں، اُن کو لغوی معنی میں لیا جائے اور جو الفاظ استعمالی مفہوم میں آئے ہیں، اُن کو اُن کے استعمالی مفہوم میں لیا جائے، خواہ وہ مجاز کے مفہوم میں ہوں یا اصطلاحی مفہوم میں یا کسی اور مفہوم میں۔ الفاظ کا یہ مفہوم ان کے استعمالی تواتر سے معلوم ہوگا، نہ کہ صرف ڈکشنری کے آزادانہ استعمال سے۔ الفاظ کا یہ استعمالی مفہوم لوگوں کے درمیان نسل در نسل کے تاریخی تواتر سے متعین ہو گیا ہے۔ الفاظ کا یہ استعمالی مفہوم آج بھی اہلِ علم کے درمیان تمام اسلامی اداروں میں غیر مشتبہ طور پر رائج ہے۔ الفاظ کا یہ اصطلاحی مفہوم ہزاروں کتابوں میں مسلسل طور پر ریکارڈ ہوتا چلا ان کتابوں سے اصلاً وہ کتابیں مراد ہیں جو عربی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ یہ علمی کتابیں پہلے مخطوطات اور مطبوعات کی صورت میں کتب خانوں میں تھیں، اب وہ انٹرنیٹ کی صورت میں ہر جگہ آن لائن موجود ہیں اور اب اس پر مزید اضافہ یہ ہوا ہے کہ یہ ڈیجیٹل فارمیٹ(digital format) میں ہر جگہ آن لائن اور آف لائن موجود ہیں۔

مثال کے طور پر قرآن میں ’صلوۃ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ صلوۃ کا لفظ قرآن کی ایک صلوۃ سے مراد وہ مخصوص عبادت ہے جو اسلام میں اہل ایمان کے لیے مقرر کی گئی صلوۃ کا یہ مفہوم تاریخی تواتر سے غیر مشتبہ طور پر اب ایک معلوم واقعہ بن چکا ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ صلوۃ کو اس کے اصطلاحی معنی میں بطور عبادت نہیں لے گا، بلکہ وہ صلوۃ کو اس کے لغوی معنی کے اعتبار سے لے گا، یعنی اس معنی میں کہ صلوۃ سے مراد مخصوص عبادت نہیں، بلکہ صلوۃ کا مطلب ہے : اتباع دین، تو قرآن کے لفظ کی ایسی تفسیر بلا شبہ نہ ناقابل قبول ہوگی۔ کے اعتبار سے، اُس کا کوئی وزن نہ ہوگا۔

اسی طرح مثال کے طور پر قرآن میں ’حج‘ کا لفظ معروف سالانہ عبادت کے لیے استعمال رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے سے لے کر اب تک علمی اور تاریخی تواتر کے اعتبار سے حج کے اس مفہوم میں کوئی شک نہیں۔ اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ حج کو اس کے معروف اصطلاحی معنی سے ہٹا کر اس کے لغوی معنی میں لے اور یہ دعوی کرے کہ حج کا مطلب حجت کرنا ہے، یعنی دلائل کے ساتھ امت کے مسائل پر باہم ڈسکشن کرنا۔ اس قسم کی تفسیر بلا شبہ قابلِ رد ہوگی، کیوں کہ وہ مسلمہ علمی اصولوں کے خلاف ہے۔

اسی طرح ’صوم‘ کی مثال لیجیے۔ صوم عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ ابتدائی معنی کے اعتبار سے، صوم کا مطلب رکنا (abstinence) ہے۔ اسلام میں جب رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا فرض کیا گیا تو روزے کے لیے ایک اصطلاحی لفظ وضع کیا گیا۔ یہ اصطلاحی لفظ صوم تھا۔ صوم کا لفظ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے اس مفہوم کے لیے ایک قریب تر لفظ تھا۔ ابتدائی معنی کے لحاظ سے صوم کا لفظ صرف رکھنا تھا، لیکن جب صوم کو بطور اصطلاح استعمال کیا گیا تو اس کے معنی یہ ہو گئے کہ رمضان کے مہینے میں دن کے اوقات (from dawn to dusk) میں کھانے پینے جیسی چیزوں سے رکے رہنا۔ میں صوم کا لفظ ایک متعین عبادتی اصطلاح کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے سے لے کر اب تک اہل اسلام کے درمیان نسل در نسل صوم کا

لفظ اپنے اِسی اصطلاحی مفہوم میں رائج رہا۔ اِسلام کے متعلق ہزاروں کتابوں میں صوم کا لفظ اِسی اصطلاحی معنی میں استعمال کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ صوم کا لفظ اپنے عبادتی اصطلاح کے مفہوم میں ایک معلوم اور مُسلّم لفظ بن گیا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ چودہ سوسالہ تاریخی تسلسل کو نظر انداز کر کے وہ صرف لُغت کے ذریعے صوم کے لفظ کا معنی متعین کرے تو یہ بلاشبہ ایک ناقابل تسلیم فعل ہوگا۔ علم کے تمام معروف طریقے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔

Printed page