زبان کا تلفظ اور اس کا مفہوم
Al-Risala, August 2014, pp. 19–21
By Maulana Wahiduddin Khan
زبان خواہ کوئی بھی ہو، اس کے کسی لفظ کا تلفظ (pronunciation) اور اس کا مفہوم (meaning) دونوں سماعی ہیں، نہ کہ قیاسی، یعنی اہل زبان کے درمیان لمبی مدت تک زبان کے الفاظ اپنے تلفظ اور اپنے مفہوم دونوں کے اعتبار سے استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح نسل در نسل استعمال کے تسلسل سے زبان کے الفاظ کا تلفظ اور ان کا مفہوم دونوں غیر مشتبہ طور پر متعین ہو جاتے الفاظ کا یہ تلفظ اور ان کا یہ مفہوم کسی عقلی منطق پر قائم نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمام تر اہل زبان کے درمیان استعمال کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر انگریزی زبان میں مچھلی کو فِش (fish) کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا یہ تلفظ اہلِ زبان کے درمیان صدیوں کے استعمال کے نتیجے میں پوری طرح معلوم اور متعین ہو گیا ہے۔ برٹش رائٹر برنارڈ شاہ (وفات: 1950) نے کہا کہ میں فش کا تلفظ گھوٹی (ghoti) کروں گا۔ منطق یہ تھی کہ انگریزی زبان میں کبھی ایف (F) کا حرف جی (G) کی آواز دیتا ہے۔ اسی طرح آئی (I) کا حرف کبھی او (O) کی آواز دیتا ہے۔ اسی طرح ایس ایچ (Sh) کبھی ٹی (T) کی آواز دیتا ہے۔ مگر اہل زبان نے برنارڈ شا(Bernard Shaw) کی اس بات کو کوئی اہمیت نہ دی۔ برنارڈ شا کی بات کو صرف ایک جوک (joke) کہہ کر نظر انداز کر دیا۔
اسی طرح مہاتما گاندھی (وفات: 1948) نے ہندو دھرم کی مقدس کتاب بھاگود گیتا (Bhagwad Gita) کی شرح لکھی۔ اس میں انھوں نے بتایا کہ بھاگود گیتا میں مہا بھارت کا جو قصہ
ہے، وہ خارجی معنوں میں کسی حقیقی جنگ کا قصہ نہیں ہے، بلکہ وہ داخلی معنوں میں ایک روحانی جنگ (spiritual war) کا قصہ ہے۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے، کسی ہندو اسکالر نے اس شرح کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ اس کو مہاتما گاندھی کا صرف ایک ذاتی خیال کہہ کر نظر انداز کر دیا۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ قرآن کی زبان عربی ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں رسول اور اصحاب رسول کی کوشش سے پورے عرب نے قرآن کے دین کو قبول کر لیا۔ بعد مسلسل دعوت و تبلیغ کی کوشش جاری رہی، یہاں تک کہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان وہ وسیع خطہ وجود میں آیا جس کو عرب دنیا (Arab World) کہا جاتا ہے۔
عرب دنیا میں عمومی طور پر اور عرب دنیا کے باہر خصوصی طور پر، قرآن اپنی عربی زبان میں پڑھا جانے لگا۔ لوگوں نے قرآن کو حفظ کیا، قرآن کی ڈکشنریاں تیار کیں، قرآن کی تفسیریں لکھیں، قرآن سے متعلق علوم پر بے شمار کتابیں عربی زبان میں تیار کیں، یہاں تک قرآن پر مبنی عربی کتابوں کا ایک وسیع اسلامی کتب خانہ وجود میں آگیا۔ عربی زبان کا یہ استعمال اور اہل زبان کے درمیان اس کا چرچا ایک تاریخی عمل تھا جو کہ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت تک جاری رہا۔
اب یہ تاریخ اکیسویں صدی میں پہنچ چکی ہے۔ زبان کے تمام معلوم قوانین کے مطابق، اب قرآن میں استعمال ہونے والے عربی الفاظ ہر اعتبار سے معلوم اور محقق (established) ہو چکے ہیں، الفاظ کے تلفظ کے اعتبار سے بھی اور اس کے معنی کے اعتبار سے بھی۔ اب اگر کوئی شخص قرآن میں استعمال ہونے والی زبان کو اس کے معروف معنی سے ہٹا کر کسی نئے معنی میں استعمال کرے تو اس کا یہ فعل بلا شبہ ایک مضحکہ خیز (ridiculous) فعل ہوگا۔ وہ ہر گز اس قابل نہیں ہوگا کہ اس پر کوئی سنجیدہ توجہ دی جائے۔
مثلاً قرآن میں ایمان اور اسلام کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اہل زبان کے درمیان ایمان واسلام کا دینی مفہوم غیر مشتبہ طور پر معلوم اور متعین ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایمان و اسلام کے مذہبی اطلاق (religious connotation) کا انکار کرے اور کہے کہ ایمان واسلام کا مطلب امن (peace)
ہے، اور وہ یہ دعویٰ کرے کہ ایمان و اسلام دراصل امن کے معنی میں ہے اور اس کا مقصود یہ ہے کہ دنیا میں پر امن سماج (peaceful society) قائم کی جائے تو اس کو ایک غیر سنجیدہ خیال کہہ کر رد کر دیا جائے گا۔ اسلام بلاشبہ امن (peace) چاہتا ہے، لیکن ایمان و اسلام کے الفاظ کی حیثیت خالص دینی اصطلاح کی ہے۔
ان اصطلاحوں کے مفہوم کو مذکورہ انداز میں بدلنا ایمان و اسلام کے سیکولرائزیشن کے ہم معنی ہوگا جو بداہتہ ہی قابلِ رد ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہے کہ رب کا مطلب ربوبیت کا نظام یا سوشلسٹ سسٹم (socialist system) ہے تو اس قسم کی بات کو ہرگز سنجیدہ طور پر نہیں لیا کیوں کہ رب کا مفہوم زبان کے استعمال کی طویل تاریخ کے نتیجے میں حتمی طور پر معلوم اور متعین ہو چکا ہے۔