Al-Risala · August 2014

لفظ اور معنی کا تواتر

Al-Risala, August 2014, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر لفظ کا ایک مفہوم ہوتا ہے۔ یہ مفہوم لفظ کے ساتھ اس کے لایفک جز (inseparable part) کے طور پر شامل رہتا ہے۔ جس طرح لفظ تاریخ میں سفر کرتا ہے، اُسی طرح اس کا مفہوم بھی ساتھ ساتھ سفر کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان ہر دور کے لوگوں کے لیے باہم قابل فہم وسیلہ (mutually understandable means) بنی رہتی ہے۔ اگر لفظ اور معنی کے درمیان خلا (gap) واقع ہو جائے تو انسانوں کے درمیان با معنی تبادلہ خیال (meaningful exchange) ختم ہو جائے گا اور انسانی بستیاں عملاً گونگے لوگوں کی بستیاں بن جائیں گی۔ اس معاملے کو عام طور پر اہلِ علم نے بیان کیا ہے۔ چناں چہ شاہ اسماعیل شہید دہلوی اپنی کتاب ”عبقات“ میں اس نقطہ نظر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: لا يخفى على من له أدنى ممارسة بأساليب الكلام أن هذا القول ناش عن جهل متراكم، إذ وضع الألفاظ لمعانيها من المتواترات (عبقة: 5، بحوالہ ”میزان“، جاوید احمد غامدی، صفحہ:33) یعنی اسالیب کلام پر جس شخص کو کچھ بھی ممارست حاصل ہے، اُس سے یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی کہ یہ نقطہ نظر (کہ لفظ اپنے معنی کے ساتھ متواتر نہیں ہوتا)

سرتا سر جہالت ہے۔ اس لیے کہ لفظ کا اپنے معنی کے لیے وضع ہونا ایک ایسا عمل ہے جو تواتر پر مبنی ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ عربی زبان کا ایک لفظ ’أخ‘ ہے۔ یہ لفظ اپنے ابتدائی لغوی مفہوم کے لحاظ سے، سگے بھائی (blood brother) کے لئے استعمال ہوتا ہے، مگر اسی کے ساتھ اس کا ایک استعاراتی مفہوم (metaphorical meaning) بھی ہے، یعنی کسی کو غیر خونی رشتے کے باوجود اظہار تعلق کے لیے بھائی کہنا۔ ’أخ‘ کا یہ استعاراتی مفہوم بھی قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے اور اب تک مسلسل طور پر وہ اُسی طرح لوگوں کے درمیان بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ عرب میں ظہورِ اسلام سے قبل کا جو زمانہ تھا، اس کو جاہلیت کا زمانہ کہا جاتا ہے، یعنی حقیقت سے بے خبری کا زمانہ۔ ابوتمام الطائی (وفات: 231ھ) نے قدیم دور کے عرب شعرا کے کلام کا ایک منتخب مجموعہ تیار کیا تھا جو بعد کو ”دیوان الحماسۃ“ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں جاہلی دور کے ایک تغلبی شاعر عمیر بن شُسیم بن عمر والقطامی (وفات: 130ھ) کے کچھ اشعار نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے:

Printed page