وأحياناً على بكر أخينا إذا لم نجد إلا أخانا
Al-Risala, August 2014, pp. 22–26
By Maulana Wahiduddin Khan
(اور کبھی ہم اپنے بھائی بنوبکر سے لڑجاتے ہیں۔ جب ہم اپنے بھائی کے سوا کسی اور کو نہیں پاتے۔ عرب شاعر کے اس شعر میں ’أخ‘ کا لفظ اپنے ابتدائی مفہوم میں نہیں ہے، یعنی وہ سگے بھائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس شعر میں یہ لفظ اپنے استعاراتی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ جب یہ لفظ اپنے شعر میں اس کے استعاراتی مفہوم میں استعمال کیا، اْس وقت یہ لفظ اپنے اس مفہوم کے لحاظ سے ایک معروف لفظ بن چکا تھا، اس لیے کسی کو اس کے سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئی۔ پھر ہجرت نبوی (622ء) کے بعد قرآن میں انصار و مہاجرین کے بارے میں یہ آیت اتری: وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ قرآن کی اس آیت میں ”اخوان“ (بھائی) کا لفظ اپنے ابتدائی لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ اپنے استعاراتی معنی میں ہے۔ چوں کہ یہ لفظ اپنے اس استعاراتی مفہوم میں نسل در نسل
استعمال کی بنا پر لوگوں کے لیے پوری طرح قابل فہم بنا ہوا تھا، اس لیے جب یہ آیت اتری تو لوگوں نے بلا اشتباہ اس لفظ کو اس کے استعاراتی معنی میں لیا، نہ کہ اس کے ابتدائی لغوی معنی میں۔ اسی طرح 1928 میں شیخ حسن البنا کی قیادت میں مصر میں عربوں کی ایک تنظیم بنی۔ اس کا نام "الإخوان المسلمون“ رکھا گیا۔ تنظیم کے اس نام میں "الإخوان“ کا لفظ اپنے ابتدائی لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے استعاراتی معنی میں ہے، یعنی سگے بھائیوں کے معنی میں نہیں، بلکہ اسلامی بھائیوں کے معنی میں۔ اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ الاخوان المسلمون کے نام کو اس کے ابتدائی لغوی معنی میں لے اور یہ کہے کہ یہ سگے بھائیوں (blood brothers) کی ایک تنظیم ہے، تو اس کی یہ بات بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہوگئی۔ کوئی بھی ذی علم آدمی اس کو اہمیت نہیں دے گا اور نہ وہ اس کی ضرورت سمجھے گا کہ اس کا جواب دیا جائے— یہی معاملہ تمام مستعمل عربی الفاظ کا ہے۔ قول بلیغ میں کلام قرآن میں اسلوب دعوت کو بتاتے ہوئے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِیْغًا (4:63) یعنی تم اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اترنے والی ہو: And speak to them in such terms as will address their minds. اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے پیغام کو اس طرح پہنچانا مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قول بلیغ کے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اللہ نے قرآن کو عربی مبین (26:195) کی زبان میں اتارا۔ عربی مبین کی زبان کیا ہے، یہ وہی چیز ہے جس کو وضوح (clarity) کہا جاتا ہے، یعنی ایسی زبان میں جس کے اندر کامل وضوح ہو اور اس بنا پر وہ لوگوں کے لیے پوری طرح قابل فہم ہو۔
کوئی زبان سننے یا پڑھنے والوں کے لیے قابل فہم کس طرح بنتی ہے۔ ایسا لمبی مدت کے بعد کوئی زبان اچانک نہیں بنتی۔ زبان ہمیشہ دھیرے دھیرے وجود میں آتی ہے۔ بہت سے لوگ
لمبی مدت تک اس کو لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ اس طرح زبان میں ایک معنوی تسلسل قائم ہو جاتا یہی معنوی تسلسل وہ چیز ہے جو لوگوں کے لیے کسی زبان کو قابلِ فہم بناتا ہے۔ مثلاً قدیم دور کی کچھ زبانیں اب عملاً معدوم (instinct) ہو گئی ہیں۔ لکھنے اور بولنے والوں کے درمیان ان زبانوں کا تسلسل باقی نہیں رہا۔ اس بنا پر ان زبانوں میں وضوح کی صفت موجود نہیں۔ (excavation) کے دوران ان قدیم زبانوں کے کچھ کتبے (slabs) دریافت ہوئے ہیں، مگر ان کتبوں پر لکھی ہوئی قدیم زبانیں آج کے انسان کے لیے قابلِ فہم نہیں۔ قدیم زبانوں کے صرف کچھ ماہرین (experts) ہیں جو ان کتبوں کو پڑھ کر اس کا مطلب بتاتے ہیں۔
مثال کے طور پر قرآن میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَآ أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83) یعنی جب وہ اُس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔
قرآن کو سن کر مذکورہ افراد پر یہ غیر معمولی تاثر اس لیے ہوا کہ وہ ایک ایسی زبان میں تھا جو اُن کے لیے پوری طرح معلوم زبان تھی۔ پیدا ہونے کے بعد سے مسلسل طور پر وہ اس زبان کو سنتے چلے آ رہے تھے۔ اس بنا پر اس زبان میں کہی ہوئی بات اُن کے لیے پوری طرح ایک واضح کلام کی حیثیت رکھتی تھی۔ اگر زبان میں وضوح کی صفت موجود نہ ہوتی تو اس کو سننا اُن کو غیر معمولی طور پر متاثر بھی نہیں کر سکتا تھا۔
زبان میں معنوی تسلسل کا یہ معاملہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ کسی بھی عذر کی بنا پر اس میں تبدیلی کو قبول نہیں کیا جاتا، کیوں کہ ہر تبدیلی وضوح کو متاثر کرے گی۔ زبان کے الفاظ میں ان کے معانی کا تسلسل اتنا ہی زیادہ اہم ہے جتنا کہ خود زبان اہم ہے۔ زبانوں کے الفاظ کا تلفظ اگر محفوظ نہ رہے تو ان الفاظ کی درست ادائیگی ممکن نہ ہوگی۔ اسی طرح زبانوں کے الفاظ کا معنوی تسلسل اگر باقی نہ رہے تو زبان ایک قابلِ فہم زبان کی حیثیت سے اپنا وجود ختم کر دے گی۔
مثال کے طور پر تمام زبانوں میں کیفیت کو دل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مثلاً انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ (wholeheartedly)۔ موجودہ زمانے میں سائنس کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہر قسم کی کیفیات کا مرکز دماغ (mind) ہے۔ دل کا تعلق صرف گردشِ خون (circulation of blood) سے ہے۔
اس تحقیق کے باوجود زبان میں یہ تبدیلی نہیں کی گئی کہ ہول ہارٹڈلی کے بجائے ہول مائنڈلی (wholemindedly) کہا جانے لگے۔ کیوں کہ اس سے زبان کا معنوی تسلسل متاثر ہو رہا تھا اور زبان کے معنوی تسلسل کے متاثر ہونے کا مطلب یہ تھا کہ لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے زبان کے وضوح کی صفت باقی نہ رہے۔ اس لیے معنوی تسلسل کے پہلو کی رعایت کی گئی اور زبان کے استعمال کے اعتبار سے اس کو باقی رکھا گیا۔ حالاں کہ علم تشریح الاعضا (anatomy) میں اب دل (heart) کا مطالعہ صرف اس حیثیت سے کیا جاتا ہے کہ وہ گردش خون کو قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح دنیا کی تمام زبانوں میں چاند کی روشنی (moonlight) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، حالاں کہ جدید فلکیات کے مطالعے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ چاند میں اپنی کوئی روشنی نہیں۔ رات کے وقت چاند کے اوپر جو روشنی دکھائی دیتی ہے، وہ دراصل چاند کی سطح پر سورج کی روشنی کے انعکاس (reflection) کی بنا پر ہے۔ اس دریافت کے باوجود تمام زبانوں میں اب بھی چاند کی روشنی (moonlight) کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوا کہ اس تحقیق کے بعد اس ظاہر کے لیے ’مون لائٹ‘ کے لفظ کو متروک قرار دے دیا جائے اور اس کی جگہ اس کو سن لائٹ ریفلیکٹڈ بائی مون (sunlight reflected by moon) کہا جانے لگے۔ اس لیے ہوا کہ اس معاملے میں لفظ کو بدلنا صرف اس قیمت پر ہوتا کہ لفظ کا معنوی تسلسل ٹوٹ جائے اور زبان میں وضوح کی صفت باقی نہ رہے۔
یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے جو عربی مبین کی زبان میں اترا ہے۔ عربی زبان بھی اُسی طرح لفظی اور معنوی تسلسل کے ذریعے بنی ہے جس طرح دوسری زبانیں بنی ہیں۔ انسانوں کی ایک بڑی جماعت
لمبی مدت تک عربی زبان بولتی اور لکھتی رہی۔ اس طرح لوگوں کے اندر نسل در نسل یہ لسانی عمل جاری رہا، یہاں تک کہ لفظی اور معنوی تسلسل کے نتیجے میں عربی زبان آخری حد تک معلوم اور متعین زبان بن یہی وجہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں جب قرآن عربی زبان میں اترا تو فورا ہی اس نے سننے والوں کے ذہن کو ایڈریس کیا۔ انسانوں کی بڑی تعداد نہ صرف قرآن پر ایمان لائی، بلکہ اس نے عربی زبان بھی سیکھی، تاکہ وہ قرآن کو اس کی اصل زبان میں سمجھ سکے۔ اسلام سے پہلے عربی زبان عرب میں موجود تھی، لیکن اُس وقت وہ زیادہ تر ایک قبائلی زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔ جلد ہی ان تمام قبائل نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑے پیمانے پر عربی زبان کی خدمت کی۔ انھوں نے عربی زبان کے لغات تیار کیے، انھوں نے عربی زبان کو بول چال کے دائرے سے نکال کر لکھنے کی زبان بنا دیا۔ انھوں نے قرآن کے استعمالات اور قرآن کی اصطلاحات کو پوری طرح اخذ کیا۔ اُن پر کتابیں تیار کیں ۔ اس طرح زمین کے بڑے رقبے میں قرآن اور اس کی زبان کا چرچا وسیع پیمانے پر جاری ہو گیا۔ یہ عمل ہزار سال سے زیادہ مدت تک جاری رہا، یہاں تک کہ قرآن کا ہر بیان پوری طرح ایک ثابت شدہ بیان بن گیا۔ قرآن کی زبان، قرآن کے استعمالات، قرآن کی اصلاحیں کروڑوں لوگوں کے درمیان غیر مشتبہ طور پر مسلمہ حقیقت قرار پا گئیں۔ اب ہزار سال سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد جو لوگ قرآن کی زبان، اس کے استعمالات اور اس کی اصطلاحات کو دوبارہ نیا مفہوم دینا چاہیں، تو یہ بلاشبہ نہ قابل قبول ہو گا ۔ یہ ایک ایسا فعل ہو گا جس کا جواز نہ اسلام میں ہے اور نہ علم میں ہے اور نہ لسانیات میں۔ وہ صرف اس قابل ہے کہ اس کو بے اصل قرار دے کر مکمل طور پر رد کر دیا جائے۔