اہل قرآن کا کیس
Al-Risala, August 2014, pp. 27–31
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ چند مثالیں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ”اہل قرآن“ کہا جاتا ہے، ان کا کیس علمی اعتبار سے کتنا زیادہ بے بنیاد (baseless) ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانیں گے، لیکن ہم قرآن کا مفہوم صرف ڈکشنری کے ذریعے طے کریں گے، نہ کہ اُس تشریح کے ذریعے جو
اہل اسلام کے درمیان رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے سے لے کر اب تک تواتر کی بنا پر رائج اس قسم کی بات بلاشبہ آخری حد تک غیر علمی ہے۔ یہ اصول نہ صرف قرآن کو سمجھنے میں مانع ہے، بلکہ وہ دنیا کی کسی بھی کتاب کو سمجھنے کے لیے یقینی طورپر وہ مانع کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ہر ملک میں اساسی قانون کی ایک تحریری دستاویز ہوتی ہے جس کو کانسٹیییی ٹیوشن (constitution) کہا جاتا ہے۔ کانسٹ ٹیوشن کی یہ اصطلاح ایک معروف اصطلاح ہے جس کو ساری دنیا میں اس کے اصطلاحی معنیٰ کے اعتبار سے تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن جہاں تک لغوی مفہوم کا تعلق ہے، کانسٹ ٹیوشن کے معنیٰ ساخت (structure) کے ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص کانسٹ ٹیوشن کے لغوی مفہوم کو لے لے اور اس کی روشنی میں وہ مختلف ملکوں کے آئینی دستاویزات کا مفہوم متعین کرے تو یقینی طور پر غلطی کرے گا اور اس کی تشریحات بلا شبہ قابلِ رد قرار پائیں گی۔ کسی کتاب کے مطالعے کے لیے یہی واحد درست طریقِ مطالعہ ہے۔ جو لوگ اس طریقِ مطالعہ کو نہ مانیں، وہ دوسری کتابوں کو سمجھنے سے بھی قاصر رہیں گے اور ایسے لوگ قرآن کو سمجھنے سے بھی یقینی طور پر محروم ہو جائیں گے۔ ایسے لوگوں کا کیس علمی مطالعے کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ صرف فکری بھٹکاؤ کا کیس ہے۔ اس کی کوئی اہمیت نہ علمی اعتبار سے ہوگی اور نہ اسلامی اعتبار سے۔ قرآن یا انکارِ قرآن ایسی حالت میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم قرآن کو صرف قرآن کے ذریعے سمجھیں گے، حدیث اور تاریخ اور دورِ اول کے علما کی تشریحات کو الگ کر کے ہم قرآن کا مطالعہ کریں گے۔ اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ قرآن میں آئے ہوئے جن الفاظ کو اصطلاح (terms) کے مفہوم میں لیا جانے لگا ہے، وہ سب قرآن کو سمجھنے میں رکاوٹ ہیں۔ مثلاً صلوۃ، صوم، زکوۃ اور حج، وغیرہ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہم قرآن کے الفاظ کو ان کے اصطلاحی معنوں میں نہیں، بلکہ ان کے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے لیں گے اور خالص لغوی انداز میں ان کا مفہوم متعین کریں گے۔
یہ نظریہ آخری حد تک غیر علمی نظریہ ہے۔ اس قسم کے نظریے کو لے کر دنیا کی کوئی کتاب سمجھی نہیں
اسکالرشپ کا کوئی بھی اصول اس نظریے کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ نظریہ صرف کچھ ایسے لوگوں کی ذہنی پیداوار ہے جو غالباً نہ علم کے حدود کو سمجھتے اور نہ وہ لسانیات (linguistics) کے اصول سے کوئی واقفیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کا فریم ورک بھی وہی ہے جو دوسری علمی کتابوں کو سمجھنے کے لئے مسلمہ طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اہلِ قرآن کا جو موقف ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مکمل طور پر ایک غیر علمی موقف ہے، نہ کہ کوئی علمی موقف۔ مسلمہ علمی اصولوں میں سے کوئی بھی اصول اس نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتا۔ اس قسم کی انفرادیت علم کے میدان میں بلاشبہہ قابلِ رد ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر بار بار حکم دیا گیا ہے کہ اے ایمان والو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اس سلسلے میں ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: يٰئَيُّهَا الَّذِينَ اَمَنُوا اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ (4:59)۔
اس طرح کی آیتوں سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت کے معاملے میں اللہ اور رسول کے درمیان تفریق جائز نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اصلًا جو چیز مطلوب ہے، وہ اللہ کی اطاعت ہے، لیکن یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ خود اللہ کی اطاعت کی درست ادائیگی کے لیے رسول کی اطاعت لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللَّهِ (4:64) یعنی ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے، اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: مَنْ يُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ الله (4:80) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
یہی بات ایک روایت میں بیان کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں روایت کے الفاظ یہ ہیں : لا ألفين أحدكم متكأ على أريكته، يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول لا ندري، ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2663) یعنی تم
میں سے کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے ہوئے ہو، اس کے پاس میرے حکموں میں سے کوئی حکم آئے جس میں میں نے کسی بات کو کرنے کا حکم دیا ہو اور کسی بات سے منع کیا ہو، پھر وہ کہے کہ ہم نہیں جانتے، ہم نے اللہ کی کتاب میں جو پایا، اس کی ہم نے پیروی کی۔ قرآن کی مذکورہ آیت اور اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے، وہ نہایت سنگین بات مستقبل کے اُس فتنے کی طرف اشارہ ہے جب کہ امت میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں، لیکن ہم حدیث رسول کو نہیں مانتے۔ اس سے مراد واضح طور پر وہی لوگ ہیں جن کو موجودہ زمانے میں منکرین حدیث یا اہل قرآن کہا جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ دین اگر صرف انفرادی دین کا نام ہو تو دین کو عملاً ترک کرنے کے بعد بھی آدمی اپنے اس ترک کو چھپا سکتا ہے۔ وہ لوگوں کو یہ تاثر دے سکتا ہے کہ وہ دین پر قائم ہے۔ لیکن جب دین ایک انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین (institutionalized religion) بن جائے تو اس قسم کی پوزیشن اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اب دین کا ایک باقاعدہ اجتماعی فارم بننے کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص دینی نظام کا حصہ ہے تب بھی لوگ اُس کو جان لیتے ہیں اور اگر وہ دینی نظام کا حصہ نہیں ہے تب بھی لوگ اُس سے باخبر ہوجاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دین کا انسٹی ٹیوشنلائزیشن اس امر میں مانع ہے کہ کوئی شخص دین سے کٹ جائے، اس کے باوجود وہ انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین یا بالفاظ دیگر مسلم معاشرے کا مقبول حصہ بنا رہے اور اس کے معاشرتی فوائد (social interest) میں کوئی فرق واقع نہ ہو۔ یہ شعوری یا غیر شعوری طور پر عملاً وہی پالیسی ہے جس کو کور آپ (cover-up) پالیسی کہا جاتا ہے، جو حدیث کے انکار کے نام پر عملاً خود دین کے انکار کے ہم معنی ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانیں گے، لیکن ہم حدیث کو نہیں مانیں گے، وہ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ وہ دین کی ذمہ داریوں سے جدا بھی ہو جائیں اور اسی کے ساتھ وہ مسلم معاشرے کا حصہ بھی بنے رہیں، تا کہ ان کے دنیوی مفادات (worldly benefits) بدستور محفوظ رہیں۔
مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس طرح کی روش اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک بلا اعلان ارتداد (undeclared apostasy) یا جائز کردہ ارتداد (justified apostasy) ہے۔ ایسی روش اختیار کریں، وہ بلا شبہ ایک سنگین رسک (risk) لے رہے ہیں۔ ان کے لیے شدید طور پر یہ خطرہ ہے کہ ان کا کیس دنیا میں برہان سے محرومی کا کیس بن جائے اور آخرت میں اللہ کی ابدی رحمت سے محرومی کا کیس۔