اسلام ایک محفوظ دین
Al-Risala, August 2014, pp. 31–35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (15:9) یعنی بے شک ہم نے الذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لَا يَأْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيْلُ مِنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ (41:42) یعنی اس میں نہ باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ حکیم اور حمید کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
ان آیتوں میں جس حفاظت کا ذکر ہے، اُس سے مراد براہ راست طور پر قرآن ہے، لیکن بالواسطہ طور پر اُس سے مراد وہ پورا دین اسلام ہے جس پر اللہ نے اپنی رضا مندی (5:3) کا اعلان کیا یہ محفوظ دین دنیا میں لوگوں کے لیے ہدایت الہی کا مستند ماخذ ہے اور آخرت کے اعتبار سے وہ لوگوں کے اوپر اللہ کی حجت ہے۔
اب یہ سوال ہے کہ یہ دین کس طرح ایک محفوظ دین بنا۔ یہ واقعہ معجزاتی طور پر نہیں ہوا، بلکہ وہ اسباب کے دائرے میں اُسی طرح وقوع میں آیا جس طرح اس عالم اسباب میں دوسری تمام باتیں وقوع میں آتی ہیں۔ اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حفاظت دین کے اس کام کو اسباب کے دائرے میں انجام دیا، اور اس کی عملی صورت یہ تھی کہ اللہ نے اسلام کو ایک انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین (institutionalized religion) کی حیثیت دے دی۔ اس سے پہلے دین اسلام کی حیثیت صرف ایک نظری صداقت کی تھی، لیکن انسٹی ٹیوشنلائزیشن (institutionalization) کے بعد یہ
ہوا کہ دین اسلام کے ساتھ ایک مزید صفت جمع ہوگئی، یعنی اجتماعی سطح پر دین اسلام کو مسلسل طور پر ایک مظاہراتی (demonstrable) چیز بنا دینا۔ یہ تقریباً وہی چیز ہے جس کو تاریخی زبان میں عملی تواتر کہا جاتا ہے۔
دین کو انسٹی ٹیوشن کی صورت دینے کے لیے ایک ضروری چیز درکار تھی، اور وہ تھی اہل ایمان کی بڑی تعداد جو زمین کے وسیع رقبے میں پھیلی ہوئی ہو۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ دین اسلام ہر دن لوگوں کے سامنے ایک قابل مشاہدہ چیز کی حیثیت سے مسلسل طور پر آتا رہتا ہے، یہاں تک کہ دین کی عملی صورت بھی اُسی طرح ثابت شدہ بن جاتی ہے جس طرح اس کی نظری صورت ہے۔ دین کی نظری صورت کتابوں میں محفوظ ہے اور دین کا فارم عملی تواتر یا انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کی صورت میں لوگوں کے لیے قابل مشاہدہ بنا ہوا ہے۔
دین اسلام کو ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کی صورت دینا اس لیے ممکن ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ماس کنورزن (mass conversion) ہوا، لوگوں کی بڑی تعداد اسلام قبول کر کے دین اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئی۔ اس طرح زمین کے بڑے رقبے میں مسلسل طور پر یہ اجتماعی واقعہ پیش آنے لگا کہ لوگ مختلف صورتوں میں قرآن کو یکساں طور پر پڑھ رہے ہیں، بے شمار مسجدوں میں بیک وقت ایک ہی پیٹرن پر اذان کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور ایک ہی پیٹرن پر مسلسل اجتماعی صورت میں نمازیں ادا کی جارہی ہیں، ایک مقرر مہینہ (رمضان) میں ہر جگہ لوگ ایک ہی انداز میں روزے رکھ رہے ہیں، ایک ہی مقرر تاریخ میں بڑی تعداد میں لوگ دنیا کے مختلف مقامات سے آکر مکہ میں اجتماعی طور پر حج کے مناسک ادا کر رہے ہیں۔ اِسی طرح بے شمار مدرسوں میں روزانہ ایک ہی نہج پر بڑی تعداد میں لوگ قرآن اور حدیث کا چرچا کر رہے ہیں، وغیرہ۔
یہی مطلب ہے دین اسلام کو انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین بنانے کا۔ جب دین اسلام اس طرح مسلسل طور پر ایک قابلِ مظاہرہ چیز بن جائے تو اُس وقت اس کی ہیئت ایک ایسے عملی واقعے کی ہو جاتی ہے جس کا انکار ممکن نہ ہو۔ نظری چیزوں میں انسان کے لیے اقرار و انکار کا آپشن (option)
موجود رہتا ہے، لیکن جو نظریہ عملی صورت میں ڈھل کر قابلِ مشاہدہ بن جائے، اُس سے انکار اتنا ہی ناممکن ہو جاتا ہے جتنا کہ سورج کے نکلنے کے بعد سورج کا انکار۔
یہی وجہ ہے کہ واضعینِ حدیث نے اسلام کے اُس ثابت شدہ وزن (established version) پر کوئی حدیث وضع نہیں کی جو کہ بڑی تعداد کے اجتماعی عمل (عملی تواتر) کے ذریعے ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ مثلاً کوئی موضوع حدیث ایسی نہیں ہے جو یہ بتائے کہ قرآن کی آیت الحمد للہ رب العالمین اصل میں الشکر للہ رب العالمین کے الفاظ میں اتری تھی۔ اسی طرح کوئی موضوع حدیث اس مفہوم کی نہیں ہے کہ سورہ الاخلاص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’قل‘ کے بغیر صرف ’ھو اللہ أحد‘ کی صورت میں پڑھا۔ یہی معاملہ انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کے دوسرے پہلوؤں کا ہے۔ مثلاً کوئی موضوع حدیث اس مفہوم کی نہیں ہے جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ فجر کی نماز تین رکعت ہے اور مغرب کی نماز دو رکعت۔ طرح کوئی موضوع روایت ایسی نہیں ہے جو یہ بتائے کہ روزہ رکھنے کا مہینہ رمضان نہیں ہے، بلکہ رجب ہے، یا یہ کہ حج کی ادائیگی کا مہینہ ذوالحجہ نہیں ہے، بلکہ محرم ہے، وغیرہ۔ حدیث کی مستند کتابوں مثلاً موطا امام مالک اور صحیح البخاری میں جو روایتیں ہیں، عام طور پر وہ سب انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام کی موافقَت میں ہیں، اس کے خلاف نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، وضعِ حدیث کا واقعہ عملاً ظہورِ اسلام کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد پیش اُس وقت تک انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے تشکیل پا چکا تھا۔ ہر پہلو اجتماعی سطح پر ایک مسلّمہ واقعہ بن چکا تھا۔ اس لیے واضعینِ حدیث نے جو حدیثیں وضع کیں، وہ دین کے اُس مجموعے کے بارے میں نہ تھیں جو کہ اب انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین بن چکا تھا، بلکہ وہ اس کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں تھیں۔ مثلاً قرآن کے متن کے بارے میں کوئی موضوع حدیث موجود نہیں، البتہ فضائل قرآن کے باب میں موضوع روایتیں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح پانچ وقتہ نماز کو اس سے کم یا زیادہ بتانے کے لیے کوئی موضوع روایت موجود نہیں، البتہ نماز کے
فضائل کے بارے میں موضوع روایتیں موجود ہیں۔ اسی طرح ماہِ رمضان کے روزے کی فرضیت کے خلاف کوئی موضوع روایت موجود نہیں، البتہ روزے کے فضائل کے بارے میں موضوع روایتیں موجود ہیں، وغیرہ۔
اسلام کی تاریخ میں بعد کے زمانے میں اس طرح کی جو حدیثیں وضع کی گئیں، ان کا مقصد تشویق (motivation) تھا، یعنی کسی عمل کے بڑے بڑے فائدے بتا کر لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرنا۔ اسلام میں وضع کا یہ طریقہ مسیحی قوموں کی مضاہات (9:30) کے طور پر پیدا مسیحیت میں سینٹ پال کے زمانے میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لوگوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنے کے لیے جھوٹی باتیں وضع کی جائیں۔ اس طریقے کو بعد کی مسیحی روایات میں مقدس فریب (Pious Fraud) کہا جاتا ہے۔ برسبیلِ مضاہات یہ مسیحی طریقہ مسلمانوں میں رائج ہوا۔ یہ طریقہ زیادہ تر مسیحی نو مسلموں کے ذریعے اسلام میں داخل ہوا۔ موضوع روایات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن وہ اسلام کے لیے کوئی خطرہ نہیں، کیوں کہ دورِ اول کے محدثین نے کسی حدیث کو قبول کرنے یا رد کرنے کے لیے نہایت محکم اصول بنا دئے ہیں جن کو اصولِ علمِ حدیث کہا جاتا ہے۔ علمِ حدیث ایک مستقل موضوع ہے۔ یہ علم اتنا زیادہ محکم اور منظم بن چکا ہے کہ اس کی روشنی میں کسی بھی روایت کو جانچ کر قطعیّت کے ساتھ یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سی حدیث صحیح ہے اور کون سی حدیث موضوع۔ روایات کو جانچنے کا یہ کام مختلف محدثین نے انجام دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں شیخ ناصر الدین البانی (وفات: 1999) اور دوسرے محقق علما نے طویل تحقیق کے بعد اس کام کو نہایت مستند طور پر انجام دے دیا ہے۔
اسی طرح دوسرے اجزاءِ دین کا معاملہ ہے۔ دین کے جو اجزا انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام کا حصہ بن چکے تھے، ان کے بارے میں کوئی موضوع روایت موجود نہیں، البتہ دوسرے پہلوؤں کے بارے میں کثرت سے موضوع روایتیں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دین کا وہ حصہ جس کو سنتِ ثابتہ، بالفاظِ دیگر انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کہا جاتا ہے، وہ موضوع روایتوں سے یکسر خالی ہے۔
انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کا حصہ بن جانے کی وجہ سے اس میں کوئی کمی یا زیادتی کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ کا وہ حصہ جس کا تعلق منفرد اقوال سے ہے، یعنی ان اقوال سے جو اخبارِ آحاد (احادیث) کی کیٹیگری میں آتے ہیں، اُس میں امکانی طور پر ہر قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں۔