توجیہی لٹریچر
Al-Risala, January 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت الی اللہ کے مشن کی اصل نظریاتی بنیاد صرف قرآن اور سنت ہے۔ قرآن اور سنت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس مشن کی نظریاتی بنیاد بن سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور چیز ہے جو علمی اعتبار سے اس کی لازمی ضرورت ہے۔ یہ قرآن اور سنت کی بنیاد پر تیار کیا جانے والا توجیہی لٹریچر ہے۔ عباسی دور میں مسلم علما نے جو لٹریچر تیار کیا، وہ اس معاملے کی پہلی مثال ہے۔ یہ لٹریچر اُس دور کے فقہا اور علما نے تیار کیا تھا۔ جلد ہی اس لٹریچر کو مستند پیٹرن (authentic pattern) کی حیثیت بعد کے زمانے میں جو اسلامی کتابیں لکھی گئیں، وہ اس پیٹرن پر لکھی گئیں۔ یہ لٹریچر اُس زمانے میں تیار کیا گیا جب کہ زمین کے بڑے حصے میں مسلمانوں کی سلطنتیں قائم تھیں۔ اس ماحول میں ایسا ہوا کہ یہ لٹریچر براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی پیٹرن میں ڈھل گیا۔ مثال کے طور پر اسی دور میں وہ کتابیں لکھی گئیں جن میں یہ کہا گیا تھا کہ شتم رسول کی سزا قتل تمام فقہا نے یہ قانون وضع کر دیا کہ شاتم کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یقتل حدا)۔ ارتداد (apostasy) کی سزا قتل قرار پائی۔ ان قوانین کا ماخذ قرآن و سنت میں موجود نہ تھا، وہ صرف دورِ سلطنت کے سیاسی ماحول کی پیداوار تھے۔ اسی طرح اس دور میں بہت سے مسائل اور قوانین وضع کیے گئے جو صرف وقت کے سیاسی ماحول کی پیداوار تھے۔ مثلاً دار الاسلام اور دار الکفر کی اصطلاحیں، ذمی اور غیر ذمی کے قوانین، وغیرہ۔
اسلامی دعوت کی نظریاتی بنیاد (قرآن و سنت) ہمیشہ ایک ہی رہے گی لیکن اس کا توجیہی لٹریچر ہمیشہ ایک نہیں رہ سکتا۔ کیوں کہ توجیہی لٹریچر کا تعلق ابدی حقائق سے نہیں ہے، بلکہ حالات زمانہ سے قدیم زمانے میں جو توجیہی لٹریچر تیار ہوا تھا، وہ قدیم سیاسی حالات کے اعتبار سے تھا۔ اب اس کی حیثیت کلاسکل لٹریچر (classical literature) کی ہو چکی ہے۔ آج کے حالات کے اعتبار سے اس کا ریلوینس (relevance) تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اب نئے حالات کے اعتبار سے نیا توجیہی لٹریچر درکار ہے جو جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔
آج اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایسا لٹریچر درکار ہے جو روح عصر (spirit of the age) کے مطابق ہو۔ صرف ایسا لٹریچر ہی جدید ذہن کو ایڈریس کر سکتا ہے اور لوگوں کو یہ یقین عطا کر سکتا ہے کہ اسلام میں آج کے انسان کے لیے بھی اُسی طرح قابل اعتماد رہنمائی موجود ہے جس طرح قدیم انسان نے اس میں اپنے لیے قابلِ اعتماد رہنمائی پائی تھی۔
موجودہ زمانے میں اسلام کے لیے جو نیا توجہی لٹریچر درکار ہے، اس کی چند خصوصیات ہیں۔ اول یہ کہ وہ اپنے دلائل کے اعتبار سے مبنی بر عقل (reason based) ہو۔ قدیم روایتی طریقہ آج کے لیے کار آمد نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کا اپروچ یونی ورسل اپروچ (universal approach) قدیم انداز کا گروہی اپروچ (sectarian approach) آج کے انسان کے لیے قابلِ قبول تیسری بات یہ کہ اس لٹریچر کو مکمل طور پر پیس فل (peaceful) لٹریچر ہونا چاہئے۔ لٹریچر جس کے اندر براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد (violence) کا فکر موجود ہو، وہ آج کے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ آخرت میں قابلِ رشک درجہ اُس گروہ کو ملے گا جو ان تقاضوں کے مطابق، اکیسویں صدی میں دعوتِ الی اللہ کا فریضہ انجام دے۔ (13 جولائی 2013) ہندی داں طبقے کے لئے ایک قیمتی تحفہ ”پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کا جیون“ ”سیرت رسول‘‘ کا ہندی ترجمہ یہ کتاب سیرتِ رسول کا ایک سادہ اور واقعاتی مطالعہ اس کتاب میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو تاریخ وار انداز میں، کسی تشریح یا تعبیر کے بغیر، بیان کیا گیا ہے۔ وہ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کی ایک تاریخی تصویر ہے۔ زیر نظر کتاب معلوماتی اسلوب میں سیرتِ رسول کا ایک تفصیلی تعارف ہے۔