عبادات کی اصولی حیثیت
Al-Risala, August 2014, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
جو لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ قرآن میں مذکور نماز اور دوسری عبادات کی ایسی تفسیر کرتے ہیں جو علمی اجماع اور عملی تواتر کے ذریعے ثابت شدہ تعبیر کے خلاف ہے ، ان کے شعور یا لاشعور میں غالباً ایک تحفظ (reservation) موجود ہوتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بے شمار مسلمان مسجدوں میں جمع ہو کر نمازیں ادا کر رہے ہیں، لیکن ان مسلمانوں کی زندگیوں میں اس کا کوئی صالح نتیجہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے وہ عبادت کی دوسری دوسری تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اقامت صلوٰۃ کا مطلب معروف نماز نہیں، بلکہ سوشل ورک ہے، وغیرہ۔
یہ سوچ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس معاملے کو باعتبار حقیقت، صرف نظری اصول (theoretical criterion) کی بنیاد پر دیکھا جائے گا، نہ کہ عملی نتیجہ (practical result) کی اس کا سبب انسان کی آزادی ہے۔ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں اختیار کی آزادی (freedom of choice) حاصل ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو صرف اصول بتایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک عمل کا تعلق ہے، وہ تمام تر انسان کے اپنے ارادہ (will) پر منحصر ہے۔ آدمی اگر چاہے گا تو وہ ایسی عبادت کرے گا جو مطلوب نتیجے کے مطابق ہو، اور اگر وہ نہ چاہے تو وہ یہ بھی کر سکتا ہے کہ وہ سرے سے عبادت نہ کرے، یا یہ کہ وہ فارم (form) کے اعتبار سے بظاہر عبادت کرے، لیکن اس کی عبادت میں عبادت کی روح (spirit) شامل نہ ہو۔ اس بنا پر عبادت کے معاملے میں صرف یہ ممکن ہے کہ اس کا اصل حکم بیان کیا جائے، نتیجے کو انسان کی آزادی کا معاملہ سمجھا جائے، نہ کہ خود عبادت کی اصولی حیثیت کا معاملہ۔