Al-Risala · August 2014

پیغمبر کی اہمیت

Al-Risala, August 2014, pp. 39–42

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب جو اہل قرآن کہلائے جانے والے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، ان سے

میری گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، لیکن قرآن کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو دوسری تمام چیزوں سے الگ (detach) کرکے دیکھا جائے، تاریخ کو، حدیث کو، تفسیر کو، حتی کہ خود محمد کو بھی حذف کرکے دیکھا جائے، تب قرآن سمجھ میں آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ قرآن کو صرف قرآن کے ذریعے سمجھنا ہے، نہ کہ کسی اور چیز کے ذریعے۔ یہ بات بظاہر گریمر کے لحاظ سے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حذف کرنے کے بعد خود قرآن کو حذف کرنا پڑے گا، کیوں کہ قرآن ہمارے پاس براہ راست نہیں آیا، بلکہ اُس انسان کے ذریعے آیا جس کا نام محمد بن عبداللہ تھا، جو 570 میں مکہ میں پیدا ہوا اور 632 میں جس کی مدینے میں وفات ہوئی۔ انسان کی قبر اب بھی اس کی تاریخی یادگار کے طور پر مدینے میں موجود ہے۔ عرب میں پیدا ہونے والے اس انسان نے جب کہا کہ یہ قرآن ہے جو وحی کے ذریعے مجھ پر نازل ہوا ہے، اس کے بعد ہی قرآن قرآن بنا۔ اگر اس انسان نے ایسا نہ کہا ہوتا تو قرآن کو قرآن سمجھنے کے لیے ہمارے پاس کوئی بنیاد ہی موجود نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد بن عبداللہ کو ماننا ہی ہم کو قرآن کو ماننے کے لیے نقطہ آغاز دیتا ہے۔ اس معاملے میں اگر ہم محمد بن عبداللہ کو حذف کریں تو اس سے پہلے خود قرآن حذف ہو چکا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہم اس قسم کے قول کا تحمل نہیں کر سکتے۔

پھر یہ بات محمد بن عبداللہ پر ختم نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ محمد بن عبداللہ کے ظہور کے چودہ سو سال بعد جو قرآن ہمارے پاس موجود ہے، وہ ہم کو کیسے ملا۔ وہ اس طرح ملا کہ رسول کے اصحاب نے محمد بن عبداللہ کی زندگی میں براہ راست طور پر اُن سے قرآن کو سنا اور اس کو حفظ و کتابت کے ذریعے محفوظ کر دیا۔ اس کے بعد تابعین کے گروہ نے اصحاب رسول سے اُس کو براہ راست طور پر سنا اور پھر حفظ و کتابت کے ذریعے اس کو محفوظ کر لیا۔ یہی کام دوبارہ تبع تابعین کے گروہ نے کیا۔ بعد یہی طریقہ مسلسل طور پر نسل در نسل جاری رہا اور اب تک جاری ہے۔ انیسویں صدی میں مزید یہ ہوا کہ قرآن کو پرنٹنگ پریس میں چھاپا گیا اور اس کے مطبوعہ نسخے ساری دنیا میں پھیلا دیے گئے۔

قرآن کے معاملے میں اللہ کی حیثیت منزل کتاب کی ہے اور رسول کی حیثیت راوی کتاب کی اور امت کی حیثیت ناشر کتاب کی۔ یہ ایک طویل تاریخی سلسلہ ہے۔ اس تاریخی سلسلے نے قرآن کو آخری حد تک محفوظ اور مستند کتاب بنا دیا ہے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اللہ نے محمد بن عبد اللہ کو قرآن کا مہبط بنایا۔ یہ بلاشبہ روبوٹ (robot) جیسا کوئی معاملہ نہ تھا۔ قرآن کے مطابق ، اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ قرآن سارے انسانوں تک قابل فہم انداز میں اس مصلحت کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ اللہ ایسے انسان کو قرآن کا مہبط بنائے جو خود قرآن کو درست طور پر سمجھے اور اس کو درست طور پر دوسروں تک منتقل کرے۔

اس حکمت کے لازمی تقاضے کے طور پر سنت وجود میں آئی۔ سنت گویا صاحب قرآن کی زبان سے قرآن کی مستند تفہیم و تشریح ہے۔ جس طرح محمد بن عبد اللہ کو حذف کرنے سے قرآن حذف ہو جاتا ہے، اسی طرح سنت کو حذف کرنے سے قرآن کی مستند تفہیم و تشریح حذف ہو جاتی ہے اور جب قرآن اور اس کی مستند شرح دونوں حذف ہو جائیں تو اس کے بعد علمی اعتبار سے، انسان کے پاس کوئی مستند بنیاد باقی نہیں رہتی جس پر وہ حقیقت حیات کو جاننے کے لیے اعتماد کر سکے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جس طرح قرآن ایک تسلسل کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، اُسی طرح قرآن کی پیغمبرانہ تفہیم و تشریح بھی سنت کی شکل میں ایک قابل اعتماد تسلسل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے، خالص علمی اور تاریخی اعتبار سے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ قرآن دینِ اسلام کی واحد مستند کتاب ہے۔ لیکن قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں دین کے صرف اساسی اصول (fundamentals) بیان ہوئے ہیں۔ قرآن میں کسی بھی حکم کی تفصیل (detail) موجود نہیں۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ احکامِ قرآن کی تفصیل بھی موجود ہو، کیوں کہ انسان جیسی مخلوق کے لیے کسی حکم کی تفصیل جانے بغیر اس پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ حیثیت قرآن کے احکام کی اسی تفصیل اور تبیین کی ہے۔

اِسی کے ساتھ یہ بھی ایک معلوم بات ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے۔ اس لیے ہر دور میں

نئے تقاضے سامنے آتے ہیں۔ یہ زمانی تقاضے اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہمیشہ اضافی (relative) ہوتے ہیں، وہ حقیقی (real) نہیں ہوتے۔ اس لیے بدلے ہوئے حالات میں نئی کتاب کی ضرورت جو ضرورت ہوتی ہے، وہ صرف یہ کہ حالات کے مطابق، اصل کتاب کی تعلیمات کا دوبارہ انطباق (reapplication) تلاش کیا جائے۔ مہبطِ قرآن کے بعد یہ سلسلہ بعد کی تاریخ میں برابر جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ البتہ پیغمبر کی تشریح اور بعد کے علما کی تشریح میں ایک اصولی فرق موجود ہے، وہ یہ کہ پیغمبر کی تشریح کی حیثیت مستند تشریح کی ہوگی، جب کہ بعد کے علما کی تشریح کی حیثیت صرف اجتہادی تشریح کی۔

Printed page