Al-Risala · August 2014

قرآن اور پیغمبر

Al-Risala, August 2014, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حذف (detach) کرکے قرآن کو سمجھیں گے وہ اپنے اس قول سے صرف یہ بتا رہے ہیں کہ وہ قرآن کی اسکیم سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی اسکیم کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ پیغمبر کے بغیر قرآن کو سمجھنے کا دعویٰ کرنا بلا تشبیہہ ایسا ہی ہے جیسے البرٹ آئن سٹائن کو حذف کرکے نظریہ اضافیت (theory of relativity) کو سمجھنا ممکن نہیں ہے، اسی طرح پیغمبر کے بغیر قرآن کو سمجھنا سرتا سر نا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بار بار اُن نبیوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا میں آئے۔ یہ تمام پیغمبر جدید انسان کی نسبت سے، صرف ایک مذہبی عقیدہ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی حیثیت تاریخی پیغمبر (historical prophet) کی نہیں۔ کیوں کہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں ان پیغمبروں کا حوالہ (reference) موجود نہیں ہے۔ قرآن کی دعوت میں مدعو کی نسبت سے، گویا یہ ایک خلا پایا جاتا تھا۔ یہاں مدعو کہہ سکتا تھا کہ قرآن جن پیغمبروں کا حوالہ دے کر اپنی بات پیش کرتا ہے، ان کا ریکارڈ مدوّن تاریخ میں موجود نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مدعو کی اس بات کا محکم جواب ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آئے کہ آپ کی ذات اور آپ کا

مشن مدون تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ ایک مستشرق (orientalist) نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:

Muhammad was born within the full light of history. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی وہ خاص حیثیت ہے جس کو قرآن میں مقام محمود (17:79) کا عنوان دیا گیا ہے۔ ’’مقامِ محمود‘‘ سے مراد تاریخی مقام یا تاریخی پیغمبر ہے۔ پیغمبر اسلام نبیوں کے سلسلے کی تاریخی تکمیل ہیں۔ محمود کا لفظی مطلب ہے: تعریف کیا ہوا یا اعتراف کیا ہوا۔ یہاں تاریخی پیغمبر سے مراد ہے ۔ نبی معترف (historically acknowledged prophet)۔

ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی عظیم عمارت کا ایک لبنۃ‘ (صحیح البخاري، رقم الحديث : 3535) ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبیوں کی طویل فہرست کے باوجود مدعو کی نسبت سے، بظاہر ایک کمی پائی جاتی تھی، وہ یہ کہ پچھلے انبیا اللہ کے سچے رسول ہونے کے باوجود مورخین کے ریکارڈ میں درج نہ ہو سکے۔ گویا خالص مور خانہ اعتبار سے، یہ انبیا صرف اعتقادی انبیا تھے، وہ تاریخی انبیا نہ تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن استثنائی طور پر ایک ایسا مشن تھا جو مورخین کے معیار کے مطابق، عالمی تاریخ میں ریکارڈ ہو گیا۔ اس طرح پیغمبر اسلام کے ذریعے استثنائی طور پر ایک تاریخی پیغمبر (historical prophet) وجود میں آیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ نہ صرف پیغمبر اسلام ایک تاریخی پیغمبر بن گئے، بلکہ آپ کے سوا دوسرے پیغمبروں کی حیثیت بھی اصولی طور پر تاریخی پیغمبر کی ہوگئی، پیغمبر اسلام اگر اس تاریخی فہرست کا براہ راست حصہ تھے تو دوسرے تمام پیغمبر اس تاریخی فہرست کا بالواسطہ حصہ۔

Printed page