Al-Risala · August 2014

قرآن اور سنت متواترہ

Al-Risala, August 2014, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو دین ہم کو ملا ہے، بنیادی طور پر اس کی دو قسمیں ہیں قرآن اور سنتِ متواترہ۔ سنتِ متواترہ عملاً اُس دینِ اسلام کا مستند حصہ بن چکی ہے جس کو ہم نے انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام کہا ہے۔ یہ اُسی طرح قابلِ اتباع ہے، جس طرح قرآن کی آیات ۔

سنتِ متواترہ کے سلسلے میں اب ہم کو صرف اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس پر بحث کرنا۔ جہاں تک اخبارِ آحاد (احادیث) کا تعلق ہے، اُن کی نوعیت کسی قدر مختلف ہے۔ اخبارِ آحاد عملًا ظنی کے حکم میں ہیں، لیکن ظنی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ موضوع روایت کی طرح قابلِ رد ہیں۔ ظنی کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ تحقیق مزید کا موضوع (subject to rechecking) ہیں، اور جب تحقیق کے ذریعے اخبارِ آحاد کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو وہ بلا شبہ دوسری صحیح احادیث کی طرح قابلِ اتباع ہو جائیں گی۔ اس معاملے میں یہی جمہور کا مسلک (حدیث الآحاد حجة، يجب العمل به إذا صح، وعلى هذا جمهور المسلمين)

Printed page