Al-Risala · August 2014

عبادت اور عملی تواتر

Al-Risala, August 2014, pp. 44–46

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ عبادت انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے (51:56)۔ بار بار اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے (2:21)۔ انسان سے جو اصل چیز مطلوب ہے، وہ یہی اللہ معبود ہے اور انسان اس کا عابد۔ اسی عبادتی تعلق کی درستگی پر دین کا مدار ہے۔ عبادت کی اصل روح ایک ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو آخری حد تک جھکانا اور پست کرنا (أصل العبودية: الخضوع والتذلل)۔ اس روح عبادت کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ میں سے ایک صلوۃ (نماز) ہے۔ صلوۃ کی اصل حقیقت خشوع (23:2) ہے۔ لیکن صلوۃ کا ظاہری فارم بھی اس خشوع کا ایک لازمی حصہ ہے، جیسا کہ انسان کے وجود میں روح کے ساتھ جسم اس کی شخصیت کا ایک لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہوتا ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے کہ پنج وقتہ نماز کا موجودہ نظام تدوین حدیث کے بعد وجود میں آیا ہے۔ یہ نظریہ سرتاسر بے بنیاد ہے، تاریخ ہرگز اس نظریے کی تائید نہیں حقیقت یہ ہے کہ نماز کا موجودہ نظام اگر حدیث کی تدوین کے بعد قائم ہوتا تو وہ سرے سے قائم ہی نہ پنج وقتہ نمازوں کا موجودہ نظام اسی وجہ سے قائم ہے کہ وہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باقاعدہ طور پر وجود میں آ چکا تھا اور اس کے بعد وہ تاریخ میں بلا انقطاع مسلسل طور پر جاری رہا۔

تاریخ کے مطابق ، احادیث رسول کی جمع و تدوین عملاً تیسری صدی ہجری میں عباسی دور میں حدیث کی جمع و تدوین سے پہلے پنج وقتہ نمازوں کا نظام بن چکا تھا۔ لوگ مسجدوں میں روزانہ جماعت کے ساتھ مقرراوقات پر نماز ادا کر رہے تھے۔ نماز باجماعت کا یہ نظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قائم ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: صلوا كما رأيتموني أصلي (صحيح الجامع للألباني، رقم الحديث : 893)۔

یہ حدیث اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، صرف ایک امر رسول نہیں ہے، بلکہ وہ ایک امر فطرت نماز جیسی عبادت جس کا ایک فارم ہو، وہ دیکھے بغیر ہرگز ادا نہیں کی جاسکتی۔ ضروری ہے کہ اس کا ایک ماڈل موجود ہو جس کو دیکھ کر لوگ اُسی طرح اس کو دہراتے رہیں۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، ہجرت کے بعد مسجد کی تعمیر ہوئی اور اس میں نماز با جماعت قائم کی گئی۔ یہ واقعہ خود قرآن (9:108) سے ثابت ہے۔

آپ کے صحابہ (ہم عصر اہلِ ایمان) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست طور پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور اسی نمونہ رسول کے مطابق انھوں نے نمازیں ادا کیں۔ اس کے بعد اگلی نسل (تابعین) نے صحابہ کو دیکھا اور ان کے نمونے کے مطابق، انھوں نے نمازیں ادا کیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کی تیسری نسل (تبع تابعین) نے تابعین کو دیکھا اور ان کے نمونے کے مطابق انھوں نے نماز اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہا اور اگلی نسل کے لوگ پچھلی نسل کے لوگوں کو دیکھ کر بڑی تعداد میں اجتماعی طور پر مقرراوقات میں نماز ادا کرتے رہے۔ یہ سلسلہ اب تک بلا انقطاع جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کہنا کہ حدیثوں کی جمع و تدوین کے بعد نمازیں شروع ہوئیں ، یہ ایک سرتا سر بے بنیاد (baseless) بات ہے۔ نماز ایک عملی عبادت ہے، وہ صرف حدیثوں کو پڑھ کر ادا نہیں کی جاسکتی۔ حدیثوں کو پڑھ کر زیادہ سے زیادہ نماز کا ایک نظریاتی تصور (theoretical concept) بن سکتا ہے، مگر صرف نظریاتی تصور سے عملی عبادت ادا نہیں کی جاسکتی۔ نماز کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ایک عملی نمونہ (practical model) موجود ہو۔

یہ صحیح ہے کہ حدیثوں میں نماز کے طریقے اور آداب کا ذکر بطور اصول کیا گیا ہے، لیکن یہ نماز کا صرف ایک نظریاتی بیان (theoretical description) ہے۔ اور صرف نظریاتی بیان نماز کی عملی ادائیگی کے لئے کافی نہیں۔ بالفرض اگر حدیث کی جمع و تدوین سے پہلے نماز کا عملی نمونہ موجود نہ ہوتا اور لوگ حدیثوں کو پڑھ کر نماز ادا کرنا شروع کرتے تو ناممکن تھا کہ نماز کا کوئی واحد عملی نظام بن سکے۔ ایسی حالت میں عملی طور پر نماز کی اتنی زیادہ صورتیں ہوتیں کہ جتنے زیادہ آدمی اتنی ہی زیادہ نماز کی اس طرح عبادت کا ایک جنگل تو وجود میں آسکتا تھا، لیکن عبادت کا ایک یکساں نظام (uniform system) قائم ہونا ہر گز ممکن نہ تھا۔

Printed page