خلاصہ بحث
Al-Risala, August 2014, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن اپنے الفاظ کے اعتبار سے بھی محفوظ ہے اور اسی طرح قرآن کے معنی اور مفہوم بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔ حفاظت کا یہ معاملہ براہ راست طور پر خدا کے فیصلے کے تحت ہوا ہے۔
اب اگر اکیسویں صدی میں کوئی شخص اٹھے اور کہے کہ امت مسلمہ قرآن کے الفاظ کے جو معنی اب تک سمجھتی رہی ہے، وہ غلط ہے، یا مفسرین، قرآن کے الفاظ مثلاً صلوة اور زکوۃ اور حج، وغیرہ کے جو معنی بتاتے رہے ہیں، وہ درست نہیں، تو اس قسم کا بیان کوئی سادہ بیان نہیں۔ وہ براہ راست طور پر اللہ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے ہم معنی ہے، وہ عملاً خود قرآن کی تردید ہے۔
اس دنیا میں اللہ نے ہر انسان کو آزادی دی ہے۔ اس بنا پر ایک انسان یہ کر سکتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں قرآن کو نہیں مانتا، لیکن یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ وہ قرآن کو مانے اور پھر یہ کہے کہ قرآن کے معنی بعد کے زمانے میں بدل گئے۔
قرآن کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا محکم انتظام کیا ہے کہ اس میں کوئی بھی شخص کسی قسم کی تبدیلی نہ کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ تاریخ کے درمیان میں اٹھے اور قرآن کے معنوی تواتر کو توڑ دے۔ قرآن میں اس قسم کی مداخلت (intervention)
کا مطلب یہ ہوگا کہ بعد کی نسلوں کے لیے قرآن درست طور پر قابلِ فہم نہ رہے اگر ایسا ہو تو اس کا کا مطلب یہ ہوگا کہ بعد کی نسلوں کے لیے قرآن درست طور پر قابل فہم نہ رہے۔ الّا یہ کہ ہو اس کا مطلب نعوذ باللہ، یہ ہوگا کہ قرآن کی حفاظت کے بارے میں اللہ کا فیصلہ باطل قرار پا گیا، وہ پوری تاریخ میں جاری نہ رہ سکا۔
قرآن کو ماننے یا نہ ماننے کا تعلق انسان کی شخصی آزادی سے ہے، جس کا حق ہر ایک کو فطری طور پر حاصل ہے، لیکن قرآن کی تاریخی محفوظیت کا تعلق تمام تر علم سے ہے اور علم کے معاملے میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر ایک ایسا بیان دے جس کی تصدیق علم کے مسلمہ اصولوں سے نہ ہوتی ہو۔
پہلی بات کا تعلق انسان کی اپنی آزادی سے ہے۔ ہر انسان کو پیدائشی طور پر یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے اور چاہے تو ذاتی دائرے میں وہ اپنی آزادی کا غلط لیکن جہاں تک علم کے اُن اصولوں کا تعلق ہے جو اپنی تاریخ کے نتیجے میں یونی ورسل نارم (universal norms) کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اُن میں کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اُن کو نہ مانے یا خود ساختہ طور پر وہ ان کا نیا مفہوم بیان کرے۔
بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ اور دعوتی لٹریچر حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)
Mob. 09755300295, 07556542231 ہندوستان مابعد آزادی بحران اور اس کا حل (پریس ریلیز)