شاکلہ انسانی کا مسئلہ
Al-Risala, September 2014, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
شاکلہ کا مسئلہ کیا ہے۔ اس کے بارے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: قل كل يعمل على فربکم اعلم بمن هو أهدى سبیلا (17:84) یعنی کہو کہ ہر کوئی اپنے اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب تمھارا رب ہی جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔ شاکلہ کے لفظی معنی طریقہ کے ہیں۔ شاکلہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں مائنڈ سٹ (mindset) کہا جاتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے ہر انسان کا ایک شاکلہ (mindset) بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے مطابق سوچتا ہے اور اسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس کا شاکلہ صحیح شاکلہ ہے۔ اس کو جانچنے کی مستند صورت یہ ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کی بیان کردہ گائڈ لائن (guide line) کو معلوم کیا جائے اور اس کا گائڈ لائن کو معیار (criterion) بنا کر اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے کہ کس کا شاکلہ درست ہے اور کس کا شاکلہ درست نہیں۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے شاکلہ کو درست شاکلہ بنائے۔ گہرے تدبر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ گہرا تدبر آدمی کو ایک طرف درست معلومات دیتا ہے اور دوسری طرف وہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کر سکے۔ اس طرح شاکلہ کی تصحیح یا شاکلہ سازی کا ایک لمبا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنے شخصی شاکلہ کو خدائی شاکلہ کے مطابق بنائے ۔ اس عمل کو ایک لفظ میں ، تعمیر شاکلہ کہا جا سکتا ہے۔ تعمیر شاکلہ کے بغیر آدمی کے اندر صحیح سوچ (right thinking) نہیں آتی اور جس آدمی کے اندر صحیح سوچ نہ ہو، وہ واقعات کا صحیح تجزیہ نہیں کر سکے گا۔ وہ اپنے عمل کی صحیح منصوبہ بندی میں ناکام رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اپنی زندگی کا صحیح آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے شاکلہ کو درست شاکلہ بنائے ۔ وہ حالات سے بنے ہوئے شاکلہ پر نہ ٹھہرے، بلکہ بے لاگ غور و فکر کے ذریعے اپنے اندر صحیح تفکیر (right thinking) کی صلاحیت پیدا کرے۔