Al-Risala · September 2014

وحدت، تنوع

Al-Risala, September 2014, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

وسیع تقسیم کے اعتبار سے، علوم کی دو قسمیں ہیں - علوم طبعی (physical sciences) اور علوم انسانی (human sciences) علوم طبعی کی بنیاد تجرباتی علم (experimental knowledge) پر ہے، اس لیے علوم طبعی میں قطعیت (certainty) تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ علوم انسانی میں تجرباتی علم جیسی بنیاد قابل حصول نہیں، اسی بنا پر یہ صورت حال نظر آتی ہے کہ جو لوگ علوم انسانی کے شعبے میں کام کرتے ہیں، اُن کے درمیان ہمیشہ رائے کا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ علوم طبعی کی طرح علوم انسانی میں قطعیت تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔

یہی وہ مسئلہ ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے وحی (revelation) کا سلسلہ قائم کیا۔ مبنی بر وحی علم (revealed knowledge) ہم کو وہ یقینی بنیاد عطا کرتا ہے جو انسانی موضوعات کے معاملے میں ایک مسلمہ بنیاد (axiom) کی حیثیت رکھتی ہے۔ وحی کے ذریعے ہم کو ایسے قطعی مسلمات حاصل ہو جاتے ہیں جن پر غور و فکر کر کے انسانی زندگی کا قابل اعتماد نقشہ بنایا جا سکے۔ تاہم یہاں ایک فرق ہے۔ علوم طبعی میں ہمیشہ ایک پہلو ہوتا ہے، یعنی یہ کہ ظاہر کے اعتبار سے کسی چیز کا نقشہ (structure) کیا ہے۔ لیکن علوم انسانی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ہمیشہ چیزوں کے دو پہلو ہوتے ہیں - ایک، اسپُرٹ اور دوسرے، فارم (form)۔ اسی بنا پر وحی الہی میں چیزوں کی تقسیم دو طرح سے کر دی گئی ہے - اسپُرٹ اور فارم۔

وحی الہی کے مطابق، اسپُرٹ میں وحدت مطلوب ہے۔ اس کے برعکس، فارم کے معاملے میں تنوع (diversity) کو مطلوب کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس تقسیم کے مطابق، تقویٰ (divine consciousness) کو اسپُرٹ کا درجہ دیا گیا ہے، اور عبادت، اخلاق اور معاملات کے شعبوں میں اصولی طور پر تنوع کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسلام ایک مبنی بر وحی مذہب ہے۔ اسلام کے نقشے میں اسی اصول کو اختیار کیا گیا ہے۔

Printed page