Al-Risala · September 2014

الاخوان المسلمون

Al-Risala, September 2014, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا تھے۔ انھوں نے 1928 میں اس تحریک کو قائم کیا۔ مدت میں پوری عرب دنیا براہ راست طور پر اور بقیہ دنیا بالواسطہ طور پر الاخوان المسلمون کی حقانیت پر لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ صدر جمال عبد الناصر (وفات: 1971) کے زمانے سے لے کر جنرل السیسی تک مسلسل طور پر اُن کے خلاف وہ واقعہ ہو رہا ہے جس کو تمام مسلم رہنما اور تمام مسلم علماء ظلم قرار دیتے ہیں۔ اس معاملے میں مجھے اپنے سوا کسی اور کا استثنا(exception) (exception) معلوم نہیں۔ لیکن ظلم کا یہ نظریہ یقینی طور پر قرآن کی تردید ہے۔ قرآن میں بار بار یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ اُن لوگوں کی ضرور نصرت کرتا ہے جو حق کے راستے پر چلنے والے ہوں۔ ایسی حالت میں سوال یہ نہیں ہے کہ اہل حق پر ظلم ہو رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ظلم کے باوجود اللہ کی نصرت کیوں نہیں آ رہی ہے؟

مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کو ایک سال کے بعد 3 جولائی 2013 کو ختم کر دیا گیا۔ کے بعد مصر سے مختلف قسم کی خبریں آتی رہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ مصر کی طالبات نے ایک مہم چلائی ہے جس کا نام ہے طالبات ضد الانقلاب- اس مہم کا عنوان یہ ہے: صلاة الفجر، بداية النصر - یعنی فجر کی نماز نصرت الہی کا آغاز ہے۔ (ملاحظہ ہو: تعمیر حیات، لکھنؤ، 25 اپریل 2014، صفحہ: 15) اس سلسلے میں سوال یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق، الاخوان المسلمون کے تمام عورت اور مرد نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس میں بلاشبہ فجر کی نماز بھی شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عمل الاخوان المسلمون کے آغاز ہی سے اس کے اندر جاری ہے، پھر اللہ کی نصرت کیوں نہیں آئی؟ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ الاخوان المسلمون کا کیس وہ نہیں ہے جس کو اخوانی حضرات نے بطور خود سمجھا ہے، بلکہ اُن کا کیس وہ ہے جو ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: عن عائشة قالت دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم فعرفت في وجهه أن قد حضره

شيء، فتوضأ وما كلّم أحداً فلصقت بالحجرة أسمع ما يقول فقعد على المنبر فحمد الله وأثنى عليه، وقال: أيها الناس، إن الله تعالى يقول لكم مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل أن تدعوا فلا أجيب لكم وتسألوني فلا أعطيكم وتستنصروني فلا أنصركم، فما زاد عليهن حتى نزل (صحيح ابن حبان، رقم الحديث: 290) یعنی حضرت عائشہ سے روایت وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میں نے آپ کے چہرے کو دیکھ کر محسوس کیا کہ کوئی بات پیش آئی ہے۔ پھر آپ نے وضو کیا اور آپ نے کسی سے بات نہیں چناں چہ میں حجرے کی دیوار کے پاس کھڑی ہو کر سننے لگی کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ پھر آپ ممبر پر کھڑے ہوئے اور حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! اللہ تم سے کہتا ہے کہ تم معروف کا حکم کرو اور منکر سے روکو، اس سے پہلے کہ تم مجھ سے دعا کرو اور میں تمھاری دعا قبول نہ کروں، اور تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمھاری حاجت روائی نہ کروں، اور تم مجھ سے مدد طلب کرو اور میں تمھاری نصرت نہ کروں۔ آپ نے اس کے بعد مزید کچھ نہیں فرمایا اور منبر سے اتر گئے۔ اس حدیث رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں امت مسلمہ کے اُس دور زوال کا ذکر ہے جب کہ امت صراط مستقیم سے ہٹ چکی ہوگی، لیکن قانون فطرت کے مطابق، ان کے اندر نماز اور دعا کا کلچر بظاہر باقی رہے گا۔ جب امت کا یہ حال ہو جائے تو اُس وقت علماء کا کام یہ ہوگا کہ وہ اس کو دوبارہ صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کریں۔ دعا اور عبادت کے ظاہر کلچر کی بنا پر ایسا نہیں ہوسکتا کہ اُن پر اللہ کی نصرت آ جائے۔

اس اصول کے مطابق، الاخوان المسلمون کا کیس یہ ہے کہ اُن پر امر بالمعروف کے تقاضے پورے کیے جائیں، نہ کہ دعا و نماز کے نام پر قومی کلچر کا احیا۔ الاخوان المسلمون کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اساس غلط طور پر سیاسی اسلام پر رکھی گئی ہے۔ ان کی تمام سرگرمیاں اسی کا اظہار ہیں۔ یہی ان کی اصل الاخوان المسلمون پر اللہ کی نصرت اسی اصولی غلطی کی اصلاح پر آئے گی، کوئی اور تدبیر اُن کو نصرت الہی کا مستحق بنانے والی نہیں۔

Printed page