سوال و جواب
Al-Risala, January 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
ماہ نامہ الرساله، نومبر 2013 کے شمارے میں آپ نے ”تعاہد کیا ہے“ کے عنوان کے تحت ایک بات یہ لکھی ہے کہ : ”تم قرآن میں نئے نئے معانی تلاش کرتے رہو‘۔ براہ کرم، اس کی وضاحت (ڈاکٹر محمد رفیق بہار، سری نگر، کشمیر)
آپ کے اس سوال کا جواب خود قرآن میں موجود ہے۔ مثلاً آپ قرآن کی سورہ ص کی اس آیت کا مطالعہ فرمائیں: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کی آیتوں کا ایک مطلب وہ ہے جو الفاظ کے ترجمے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کا دوسرا مطلب وہ ہے جو عقلی غور و فکر کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کے فہم کی دو سطحیں ہیں— ایک، لفظی اور دوسرے، معنوی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: لكل آية منها ظهر وبطن (صحیح ابن حبان، رقم الحديث: 75) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک لفظی مفہوم ہے اور اس کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو اُس کے بین السطور میں پایا جاتا ہے، جس کو صرف تدبر کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا تنقضي عجائبه (المستدرك للحاكم، رقم الحديث: 2040) یعنی قرآن کے عجائب (wonders) کبھی ختم نہ ہوں گے۔
مثلاً قرآن میں پانی کے بارے یہ آیت آئی ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا آپ نے قرآن کی اس آیت کو پڑھا تو اس کا پہلا مفہوم آپ کے ذہن میں یہ آیا کہ پانی اللہ کا ایک بابرکت عطیہ ہے، پھر آپ نے سوچا کہ پانی کیسے آپ کو ملا۔ اس طرح آپ نے بارش کے نظام کو دریافت کیا، پھر مزید آپ نے یہ سوچا کہ پانی جب سمندر میں تھا تو وہ نمکین تھا، پھر بارش کے ذریعے آپ کو میٹھا پانی کیسے ملا۔ اس طرح آپ اس واقعے تک پہنچے کہ فطرت میں ازالہ نمک (desalination) کا آفاقی نظام قائم ہے۔ اس طرح جب آپ سوچیں گے تو آپ کے ذہن میں ایک چین ری ایکشن
(chain reaction) کا عمل (process) جاری ہو جائے گا اور آپ ایک کے بعد ایک، نئے معانی کو دریافت کرتے رہیں گے۔ یہی وہ حقیقت ہے کو جس کو الرسالہ کے مذکورہ مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے کشمیر کی نسبت سے کافی لکھا ہے۔ یہ کشمیریوں کے ساتھ آپ کی خیر خواہی کی دلیل ہے۔ آپ نے ”کشمیر میں امن“ (Peace in Kashmir) اور ”صبح کشمیر“ (Dawn Over Kashmir) نام کی کتابوں کو تحریر کر کے کشمیریوں کو صحیح رہنمائی دی ہے۔ ایک اگر historical document ہے تو دوسری ideological document ہے۔ دونوں تحریروں میں تاریخ اور مذہب کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔ میں کشمیر کے gun culture میں جوان ہوا، لہٰذا میں کشمیر کے صوفی کلچر سے عملاً بے البتہ میرے والد بتاتے ہیں ”میں جب اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو کشمیر کی موجودہ صورت حال مجھے ایک خواب نظر آتی ہے۔ جب گاؤں میں ہمارا کوئی مہمان آتا تھا تو اس کی تواضع کے لئے ہم مرغ ذبح کرتے تھے، لیکن مرغ ذبح کرنے کے لیے ہمیں مشکل ہی سے کوئی آدمی ملتا تھا۔ اکثر لوگوں کے پاس چاقو تک نہ ہوتا تھا۔ لوگ جانور کو مارنے سے کتراتے تھے، کسی انسان کو تکلیف دینے کو تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا “ ایک روز میں نے کیڑے مار دوا چھڑکی۔ صبح کو میرے والد نے مجھے بلایا۔ مرے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا قتل ہے۔ “ میں اس رحم دلی کے مزاج کو یاد کر کے آج یہ ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ یہی کشمیریوں کی فطرت تھی جس کو عرف عام میں ہم ”کشمیر یت“ سے یاد کرتے ہیں۔ جہاں تک میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، کشمیر کی نسبت سے آپ کا مشن کشمیر کو دوبارہ اپنے فطری حالت پر لانا ہے تا کہ ہم دنیا کو امن و سلامتی (اسلام) کا پیغام دے سکیں۔ برائے مہربانی مزید رہنمائی سے نوازیں (انجینئر سید عابد حسین، بڈگام، کشمیر) کشمیر کا مسئلہ ہو یا اس قسم کے دوسرے مسائل، ہر ایک کا سبب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگ محدود طور پر صرف اُس مسئلے کو لے کر سوچتے ہیں جس سے وہ عملاً دو چار ہیں۔ وہ ان مسائل سے
اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے ۔ یہ اوپر اٹھ کر سوچنا ہی چیز ہے جس کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کہا گیا خلق عظیم کا لفظی مطلب ہے برتر کردار، لیکن برتر کردار برتر آئیڈیا لوجی سے پیدا ہوتا ہے، برتر آئیڈیا لوجی نہیں تو برتر کردار بھی نہیں ۔
مومن کے لیے برتر آئیڈیالوجی صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دوسری چیزوں کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے ۔ اس کے اندر خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) آجائے- ۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اندر خدا رخی سوچ نہیں ، وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں۔ ان کی موجودہ سوچ اسی کی بنیاد پر بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں ۔ ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں ۔
موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً لایخل مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ ان دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو اب تک وہ ہو چکا ہوتا۔ لیکن 60 سال سے زیادہ مدت کی غیر معمولی کوششوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے کسی بھی درجے میں حل نہیں ہوئے۔ ایسی حالت میں کشمیریوں اور عربوں دونوں کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں ۔ اس کے سوا ہر دوسری تدبیر صرف نقصان میں اضافہ کرے گی ، وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی نہیں۔
کشمیر کے مسلمان اب تک دو چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھے آزاد کشمیر یا مگر یہ دونوں نشانے قومی سوچ پر بنے ہیں ، نہ کہ خدائی سوچ پر۔ صحیح یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی سوچ پر نظرثانی کریں اور یہ کہیں کہ ہمارا نشانہ نہ آزاد کشمیر ہے اور نہ پاکستانی کشمیر، ہمارا نشانہ صرف خدائی کشمیر (divine Kashmir) ہے۔ خدائی کشمیر کو اپنا نشانہ بنانے کا مطلب ہے خدا والی سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی تو آپ نے وہاں یہ اشو نہیں کھڑا کیا کہ مکہ
سیاسی طور پر کس کے قبضے میں ہو۔ اس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ صورت موجودہ (statusquo) کو تسلیم کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیا۔ کشمیریوں کو بھی اسی نہج پر کام کرنا ہے۔ کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جو سیاسی اسٹیٹس کو (political statusquo) بن گیا ہے، وہ اُس سے ٹکراؤ نہ کریں، بلکہ اس کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنی ساری کوشش پر امن دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں۔ یہی وہ سنت ہے جو عربوں کو فلسطین میں اختیار کرنا ہے۔ فلسطین میں عربوں کے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی متشددانہ تحریک کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ یک طرفہ طور پر ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ دیں اور اپنی ساری طاقت پر امن دعوت میں لگا دیں۔ دعوت الی اللہ کے عظیم مواقع ہیں، اسرائیل کے درمیان بھی اور سیاحوں (tourists) کے درمیان بھی جو دنیا بھر سے بکثرت روزانہ فلسطین کے علاقے میں آتے ہیں۔
دعوت الی اللہ کا کام اہل ایمان کا اصل مشن ہے۔ اسی مشن کی ادائیگی پر اُن کو اللہ کی نصرتیں حاصل ہوں گی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جن چیزوں کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں، اُس مسئلے کا حل اللہ کی نصرت کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ محض ذاتی کوشش کے ذریعے، اور اللہ کی نصرت صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے: وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ (22:40)۔
ادارۂ المورد (لاہور، پاکستان) کی اردو اور انگریزی مطبوعات (میزان، البیان، وغیرہ) گڈ ورڈ بکس میں دستیاب ہیں۔ ان کو یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔