سبق کی اہمیت
Al-Risala, September 2014, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
ولیم ہنری بل گیٹس (William Henry Bill Gates III, b. 1955) مشہور امریکی دولت مند ہے۔ اس نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں کہا کہ اپنی خوشی کا جشن منانا اچھا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی نا کامی سے سبق سیکھیں : It is fine to celebrate success, but it is more important to کاميابی کا جشن منانا صرف پائے ہوئے کو لے کر اُس پر خوش ہونا ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ اپنی نا کامی پر غور کر کے اُس سے سبق حاصل کریں تو اس سے آپ کو بہت سے نئے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً ذہنی ارتقا (intellectual development)، مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے زیادہ کارگر اصول کی دریافت، تخلیقی فکر (creative thinking) میں اضافہ، وغیرہ۔ ناکامی کو عام طور پر لوگ منفی معنی میں لیتے ہیں ، مگر ناکامی میں ہمیشہ کوئی مثبت پہلو چھپا ہوا وہ یہ کہ ہر نا کامی آپ کے لیے ایک یاددہانی (reminder) ہے۔ ناکامی کے واقعے کو اگر معتدل ذہن کے ساتھ لیا جائے تو آدمی ناکامی کا واقعہ پیش آنے کے بعد مایوس نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ اُس پر غور کرے گا کہ اس کے منصوبے میں کہاں غلطی ہوگئی۔ اس طرح کی سوچ آدمی کو اس کی غلطی سے باخبر کرے گی۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جائے گا کہ اپنی اگلی منصوبہ بندی زیادہ درست طور پر کرے اور زیادہ صحیح طریقہ اختیار کر کے ماضی کی نا کامی کو مستقبل کی کامیابی میں تبدیل کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر منفی تجربے میں ایک مثبت پہلو موجود ہوتا ہے۔ اس مثبت پہلو کو دریافت کیجئے اور پھر آپ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوں گے۔ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت، اس بات کی ہے کہ آدمی سبق لینا آدمی کو ذہنی طور پر اتنا زیادہ تیار ہونا چاہئے کہ جب کوئی صورت حال اُس کے سامنے آئے تو وہ فوراً اُس کے اندر چھپے ہوئے سبق کے پہلو کو دریافت کر لے۔
آخرت سے غفلت کیوں؟
قرآن کی سورہ الروم میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَفِلُونَ (30:7) یعنی وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے بے خبر ہیں۔
یہ واقعہ کیسے پیش آتا ہے کہ انسان آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنے آپ کو ایک دنیا میں پاتا ہے۔ اُس کا ہر تجربہ بتاتا ہے کہ وہ آخرت کے سوا ایک اور دنیا کے اس کے تمام تعلقات اسی معلوم دنیا کے ساتھ ہوتے ہیں۔ صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک اس کی پوری زندگی اسی دنیا کے اندر گزرتی ہے۔ اس طرح وہ موجودہ دنیا کے ساتھ اتنا زیادہ مانوس ہو جاتا ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ بظاہر جو کچھ ہے، وہی کل دنیا ہے، اس کے آگے اور کچھ نہیں، حتیٰ کہ وہ لوگ جو رسمی عقیدے کے طور پر آخرت کو مانتے ہیں، وہ بھی عملاً پوری طرح اس کا مصداق ہوتے ہیں۔
ایسی حالت میں آخرت پر زندہ یقین صرف اُس شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جو اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking) پیدا کرے، یعنی دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے الگ ہو کر سوچنا، جسمانی اعتبار سے بظاہر اسی دنیا میں ہونا، لیکن سوچ کے اعتبار سے آخرت کی دنیا میں پہنچ جانا۔ تجریدی فکر کا طریقہ واحد طریقہ ہے جو کسی آدمی کو آخرت کی یاد میں جینے والا بنا سکتا ہے۔ یہی آخرت رخی سوچ وہ چیز ہے جس سے آدمی کے اندر حقیقی معنوں میں ربانی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ ربانی شخصیت کی تعمیر کا نہیں۔
ربانی انسان بننے کی شرط صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو النفس المطمئنة، (complex free soul) بنائے (89:27)۔ ایسے ہی انسان کو اللہ کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور یہ صرف اللہ کی توفیق ہے جو کسی انسان کو ربانی انسان بناتی ہے۔