Al-Risala · September 2014

منصوبہ خداوندی

Al-Risala, September 2014, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب نے 15 ہجری (636ء) میں مدینہ سے فلسطین کا سفر کیا تھا۔ کے بارے میں ایک روایت ہے جس کو مؤرخ الطبری نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے: لما استمد أهل الشام عمر علی أهل فلسطين، استخلف عليا، وخرج ممدا لهم، فقال علي: أين تخرج إنك تريد عدوا كلبا، فقال: إني أبادر بجهاد العدو موت العباس، إنكم لو قد فقدتم العباس لانتقض بكم الشر كما ينتقض أول الحبل (تاریخ الأمم والملوك للطبري: 248/2) یعنی عدی بن سہل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اہل شام نے فلسطین والوں کے خلاف عمر سے مدد طلب کی تو آپ نے (مدینہ میں) علی کو اپنا جانشین بنایا اور ان کی مدد کے لیے روانہ علی نے کہا: آپ خود کہاں جا رہے ہیں، آپ ایک سخت دشمن کا قصد کر رہے ہیں۔ عمر نے کہا کہ میں عباس کی موت سے پہلے جلد دشمن سے جہاد کرنا چاہتا ہوں، کیوں کہ اگر تم نے عباس کو کھودیا تو شر تمھارے درمیان اُسی طرح پھیل جائے گا جس طرح رسی کی پہلی گرہ کھل جاتی ہے۔ اس روایت کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے اس معاملے میں حضرت عباس بن عبد المطلب کا حوالہ کیوں دیا۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ حضرت عمر فاروق کی ایک اجتہادی رائے تھی۔ ان کی زندگی کے مختلف واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہلِ بیت رسول کو خصوصی اہمیت دیتے تھے۔ مثلاً انھوں نے اپنے دورِ خلافت میں اہلِ بیت کا وظیفہ دوسروں سے زیادہ مقرر کیا۔ قحط کے زمانے میں انھوں نے حضرت عباس کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی، وغیرہ۔

حضرت عمر فاروق کی یہ رائے بلاشبہ ان کی ذاتی رائے تھی۔ مزید یہ کہ یہ خاتم النبیین کے بارے میں منصوبہ الہی کا کم تر اندازہ (under estimation) کے ہم معنی تھا۔ قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کا تعلق براہ راست منصوبہ الہی سے تھا، نہ کہ

اہل بیت سے۔ چنانچہ قرآن میں اس سلسلے میں مختلف آیتیں آئی ہیں، اس سلسلے میں ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (61:8)۔

حضرت عباس بن عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ ان کی وفات 32 ہجری (653ء) میں ہوئی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد اعداء اسلام کی طرف سے مسلسل مخالفانہ وا قعات پیش آتے رہے جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ لیکن ان مخالفانہ سرگرمیوں کے با وجود اسلام اپنی اصل حالت پر قائم ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اسلام کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔

اہل بیت کا احترام اپنی جگہ مسلّم ہے، لیکن تاریخ میں اللہ کی منصوبہ بندی ہرگز کسی شخص یا خاندان کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ بر تر انسانی مصالح کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ خاتم النبیین کے ظہور کے بعد اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ خدا کا دین ابدی طور پر قائم ہو جائے ۔ قرآن وسنت کا متن محفوظ ہو جائے ۔ دین کا ایک مستند ماڈل وجود میں آ جائے ۔ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے یہ ممکن ہو جائے کہ جو شخص ہدایت الہی کو جاننا چاہے، وہ بلا اشتباہ اُس کو جان سکے۔ یہ تاریخ کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کو اس طرح مکمل ہونا تھا کہ انسان کی آزادی برقرار رہے اور دین کی حفاظت کا مقصد بھی پوری طرح حاصل ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اعدا (مخالفین) کی سرگرمیوں کو آزادانہ طور پر باقی رکھتے ہوئے دین کے بارے میں اللہ کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانا ۔ یہ واقعہ منصوبہ خداوندی کے مطابق، پوری طرح انجام پایا۔ یہ خدا کے منصوبے کا کم تر اندازہ ہوگا کہ اس کی تکمیل کے لیے کسی فرد یا خاندان کی موجودگی کو ضروری سمجھا جائے ۔ فرد یا خاندان کے لیے اللہ کا قانون الگ ہے اور اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے اللہ کا قانون الگ ۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ملاکر نہیں دیکھا (26 مارچ 2014)

Printed page