Al-Risala · September 2014

اصلاح کا طریقہ

Al-Risala, September 2014, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ قرآنی آیتوں میں سے دوسری آیت یہ بتاتی ہے کہ جب امت کا یہ حال ہو جائے تو اُس وقت اس کی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہئے ۔ آیت کے مطابق ، اُس وقت ایک مصلح کو وہی کرنا چاہئے جو ایک کسان کسی مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اختیار کرتا ہے ، یعنی پہلے زمین کو تیار کرنا اور اس کے بعد اس میں فصل اگانا ۔ اسی طرح امت کے زوال کے بعد ایک مصلح کو یہ کرنا ہے کہ وہ امت کے اندر دوبارہ معرفتِ دین پیدا کرے ، وہ امت کے افراد میں دوبارہ ذہنی بیداری لائے ، امت کے افراد جو پیدائشی دین پر کھڑے ہوئے ہیں ، ان کے لیے دین کو اُن کی از سر نو دریافت (rediscovery) بنادے ، وغیرہ ۔

موجودہ زمانے کے مسلمان مکمل طور پر اس زوال کی حالت پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے اندر بظاہر کچھ دینی شکلیں دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کے افراد روح دین سے خالی ہیں۔ یہی وہ مسلمان ہیں جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اُن کی مسجدیں بھر ہوئی ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے خالی ہوں گی (مساجدهم عامرة، وهي خراب من الهدى) جامع الأحاديث للسيوطي، ایک اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بظاہر مسلمان ایک بڑی بھیڑ کی شکل میں ہوں گے، لیکن ان کے اندر ایک بھی خاشع شخص موجود نہیں ہوگا (حتى لا ترى فيها خاشعا) كنز العمال، ان مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام کا آغاز اُن کو خیر امت فرض کرکے نہیں ہوسکتا۔ کے درمیان مؤثر اصلاحی کام صرف اس طرح ہوسکتا ہے کہ پہلے ان کو زوال یافتہ امت تسلیم کیا جائے اور پھر بالکل آغاز سے ان کی اصلاح کی منصوبہ بندی کی جائے، یعنی تجویز سے پہلے تشخیص۔ قرآنی سورتوں کی ترتیب قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب کا نہایت گہرا تعلق امت کی اصلاح کے مسئلے سے ہے۔ معلوم ہے، قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب اُن کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے مختلف ہے۔ عمومی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مکہ میں قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئیں، اُن کو ترتیب میں

مصحف کے آخر میں رکھ دیا گیا، اور جو سورتیں بعد کو مدینہ میں اتریں، ان کو ترتیب میں مصحف کے ابتدائی حصے میں رکھ دیا گیا ۔ ترتیب میں یہ تبدیلی اتفاقی نہیں ہے، بلکہ اس کو بالقصد طور پر اختیار کیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مکی دور میں جب قرآن اترنا شروع ہوا اُس وقت امتِ مسلمہ بحیثیت ’’امت‘‘ موجود نہ تھی۔ اُس وقت مکہ میں اور اطرافِ مکہ میں دعوت کا کام کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ گروہ تیار ہوا جس کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ گویا کہ مکی دور میں اسلام کا سفر غیر اسلام سے اسلام کی طرف یا غیر امتِ مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا۔ لیکن مدنی دور میں یہ ہوا کہ عملاً وہ گروہ وجود میں آگیا جس کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ امتِ مسلمہ کے نام سے ایک امت وجود میں آگئی تو اب تاریخ کے سفر کی نوعیت بدل گئی۔ پہلے یہ ہوا تھا کہ تاریخ کا سفر امتِ غیر مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا تھا، لیکن امت بننے کے بعد ایک نیا تاریخی عمل (process) شروع ہو گیا، اور وہ تھا عروج سے زوال کی طرف یا تشکیلِ امت سے امت کے تنزّل (degeneration) کی طرف۔

مکی دور میں اسلام کی دعوت کا طریق کار یہ تھا کہ اسلام کے نہ ماننے والوں کو اسلام کی اہمیت بتا کر اُنھیں اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔ لیکن مدنی دور کے بعد یہ ہونے والا تھا کہ صرف تین نسل (قرون ثلاثہ) کے بعد امت میں زوال کا دور آ جائے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، یہ تبدیلی لازم اس کے لیے ضرورت تھی کہ امت کے مصلحین کو یہ بتایا جائے کہ امت کے زوال (degeneration) کے بعد امت کے احیاء نو (regeneration) کا طریق کار کیا ہو گا۔ یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن کی سورتوں کی وہ ترتیب اختیار کی گئی جس کو توقیفی ترتیب کہا جاتا ہے۔ یہ ترتیب اتفاقی نہیں، بلکہ وہ خود فرشتۂ وحی (جبرئیل) کی ہدایت کے مطابق کی گئی ۔ اس حکمتِ ترتیب میں یہ ہوا کہ عمومی طور پر مدنی سورتوں کو مصحف میں پہلے رکھ دیا گیا اور مکی سورتوں کو مؤخر کر دیا گیا۔ اس ترتیب کی حکمت بالکل واضح ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں صرف مشرک قبیلے آباد تھے، لیکن جب آپ نبوت کے 13 سال کے بعد ہجرت

کر کے مدینہ گئے تو یہاں کی صورتِ حال مختلف تھی۔ مدینہ کی آبادی کا تناسب اس طرح تھا کہ دو عرب قبیلے تھے: اوس اور خزرج، اور تین یہودی قبیلے تھے: بنونضیر، بنوقضاعہ، بنوقینقاع۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین میں ایک نیا مخاطب گروہ (یہود) وجود میں آگیا۔ اب ایسا ہوا کہ مسلسل طور پر یہود سے انٹرایکشن ہونے لگا۔ یہود کے سامنے آپ دینِ اسلام پیش کرنے لگے۔ یہود کے سوالات کا جواب دیا جانے لگا۔ یہود، جن کی حیثیت امتِ موسیٰ کی تھی، اُن کے احوال برابر قرآن میں زیرِ بحث آنے لگے۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ مدنی سورتوں کا بڑا حصہ یہودونصاریٰ کے تذکرے پر مشتمل ہے۔

یہ یہودونصاریٰ کون تھے؟ وہ دراصل دورِ قدیم کی زوال یافتہ امت تھے۔ حال میں امتِ مسلمہ کا مستقبل دکھائی دیتا تھا۔ اسی لیے قرآن کی مصحفی ترتیب میں مدنی سورتوں کو پہلے کر دیا گیا، کیوں کہ انھیں زوال یافتہ حالات کی روشنی میں وہ لائحہ عمل تیار ہونا تھا جو امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں کی اصلاح کے لیے درکار تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ بعد کی مسلم نسلوں کو خیر امت فرض کر کے کام کا آغاز نہیں کرنا ہے، بلکہ اس واقعے کو تسلیم کر کے اس کے اندر اصلاح کا کام کرنا ہے کہ یہ امت زوال کے اُس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں یہودونصاریٰ پہنچے تھے۔ اس بنا پر ان کی اصلاح کے لیے وہی اسلوب اختیار کرنا ہے جو قرآن کی سورہ الحدید کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے، یعنی پہلے امت میں ذہنی بیداری لانا اور اس کے بعد اس کی عملی اصلاح کرنا۔

بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ حاصل کرنے کے لیے رابطہ قائم کریں: 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)

Printed page