Mob. 09755300295, 07556542231
Al-Risala, September 2014, pp. 32–36
By Maulana Wahiduddin Khan
2 مارچ 2009 کو نئی دہلی کے انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں ایک سیمینار ہوا۔ اس سیمینار میں جدید تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع آزادی اظہار رائے (freedom of اس موضوع کے تحت، اس سیمینار میں حسب ذیل سوال پر مذاکرہ ہوا: Is Quran subject to Rational Scrutiny? سیمینار کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اس میں شرکت کی۔ میں نے دیکھا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء پر جوش طور پر اس نظریے کی وکالت کر رہے ہیں کہ قرآن کوئی منزہ عن الخطاء کتاب (infallible book) نہیں ہے۔ ہم کو یہ حق ہونا چاہئے کہ ہم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے قرآن پر فکری تنقید کر سکیں۔
اس مذاکرہ اور اس قسم کے دوسرے مذاکروں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ لوگ عقل (reason) کا لفظ تو بہت بولتے ہیں، لیکن لوگوں کو شاید یہ نہیں معلوم کہ عقل کے حدود کیا ہیں اور عقل کے استعمال سے کیا مراد ہے۔ اصل یہ ہے کہ عقل کے استعمال کی دو صورتیں ہیں۔ ہے، ذاتی عقل (personal reason) کے تحت بولنا۔ اور دوسرا ہے، علمی طور پر ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں عقل کا استعمال کرنا۔ علمی اعتبار سے ذاتی عقل کی کوئی اہمیت نہیں، عقل کا صرف وہی استعمال درست ہے جو ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر کیا گیا ہو:
One's reason is only the capacity to understand. Reason itself is not an authority. The scientific method in this regard is that if one has some idea, one has to examine it on the basis of scientifically established facts. Only after this, one's idea will be regarded as correct. Otherwise, it is simply personal reason or pure reason. In this sense, reason is of two kinds: 1. Reason verified by scientific facts. 2. Reason unsupported by such verification.
مذکورہ سیمنار میں، میں نے یہ بات کہی تو وہاں کوئی شخص اس کو رد نہ کر سکا۔ تاہم ایک صاحب نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی عقل سے کوئی رائے بنائے تو اس کی قدر و قیمت کیا ہے۔ What, if any, is the validity of reason unsupported by میں نے کہا کہ محض ذاتی عقل کی بنیاد پر جو رائے قائم کی جائے، وہ دوسروں کے لئے نا قابلِ قبول ہوگی۔ کسی شخص کی ذاتی رائے دوسروں کے لئے اسی وقت قابل قبول ہو سکتی ہے جب کہ وہ ثابت کرے کہ اس کی رائے مسلمہ علمی بنیاد پر قائم ہے:
Personal reason unsupported by scientific data is invalid. If قرآن کی صداقت میرے تجربے کے مطابق، قرآن کے ذیل میں ریشنل اسکروٹنی (rational scrutiny) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ قرآن کے ذیل میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کے لیے ریشنل اسٹڈی (rational study) کا لفظ استعمال کیا جائے۔ قرآن نے اس معاملے میں مطالعے کا جو اصول مقرر کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک علمی اصول ہے۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيرا (4:82) یعنی اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔
اس آیت کے مطابق، قرآن کی صداقت (veracity) کو جاننے کا معیار یہ ہے کہ قرآن کے بیانات کو علمی مسلمات (scientific facts) سے تقابل کر کے دیکھا جائے ۔ اگر دونوں میں کوئی
ٹکراؤ نہ ہو تو وہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی صداقت عقلی معیار پر ثابت ہو رہی ہے۔ یہی قرآن کے عقلی مطالعے کا واحد طریقہ ہے۔
قرآن کے بیان کا ایک حصہ وہ ہے جس میں زمین و آسمان، یعنی فزیکل ورلڈ (physical world) کے بارے میں کچھ بیانات دئے گئے۔ یہ موضوع ، قرآن اور سائنس کے درمیان مشترک قرآن پر عقلی غور وفکر کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مشترک موضوعات میں قرآن نے جو حوالے دئے ہیں، وہ سائنس کے مسلمات سے مطابقت رکھتے ہیں یا اُس سے ٹکرا رہے ہیں۔ الحروف نے اس حیثیت سے تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنی دوسری کتابوں (مذہب اور جدید چیلنج، عقلیات اسلام، وغیرہ) میں مثالوں کے ذریعہ یہ واضح کیا ہے کہ ان مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان اور سائنس کے بیان میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
یہ واقعہ قرآن کی صداقت (veracity) کا ایک عقلی ثبوت ہے۔ مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان کے درست ہونے سے ہم کو یہ قرینہ (probability) ملتا ہے کہ ہم یہ قیاس کر سکیں کہ غیر مشترک موضوعات میں بھی قرآن کے بیانات درست ہیں۔ اس طریق استدلال کو سائنس میں معقول (valid) قرار دیا گیا ہے اور اس کو استدلال بذریعہ احتمال (argument from probability) کہا جاتا ہے، یعنی معلوم دنیا کے بارے میں قرآن کے بیانات کے درست ثابت ہونے سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ غیر معلوم دنیا کے بارے میں بھی قرآن کے بیانات احتمالی طور پر (probably) درست ہیں۔ اس اصولِ استدلال کے بارے میں مزید معلومات کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔
Science and the Unseen World by Arthur Eddington Human Knowledge by Bertrand Russell علم کی دو قسمیں عقل کا استعمال کسی خلا میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ موجودہ دنیا میں ہوتا ہے جس دنیا کے اندر ہم زندگی
گزارتے ہیں، مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کی تمام چیزیں ایک قسم کی نہیں ہیں، بلکہ یہاں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے۔ چنانچہ فلاسفہ نے علم کی دو قسمیں کی ہیں ۔ علم (knowledge of things)، سچائی کا علم (knowledge of truths)۔
انسان کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے جس سے وہ ان علوم تک پہنچ سکتا ہے اور وہ عقل آدمی اپنی عقل کو استعمال کر کے دونوں قسموں کے علم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انسان کے پاس ذاتی طور پر، عقل کے سوا، کوئی دوسرا ذریعہ نہیں جس سے وہ ان علوم سے واقفیت حاصل
تاہم جس طرح علوم کی دو قسمیں ہیں، اُسی طرح عقل کے استعمال کی بھی دو قسمیں ہیں۔ تک چیزوں کو جاننے کا معاملہ ہے، اُن کے سلسلے میں مشاہدہ (observation) اور تجربہ (experience) کے ذریعہ کو استعمال کرنا ممکن ہے، طبیعی علوم (physical sciences) کے مطالعے کا دائرہ چیزیں (things) ہیں، اس لیے طبیعی علوم میں اصلاً مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ علم کا دوسرا دائرہ، یعنی سچائیوں تک کس طرح پہنچا جائے۔ کے علماء سائنس کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ چیز جس کو سچائی کہا جاتا ہے، اُس تک پہنچنے کا صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ استنباط (inference) ہے، یعنی مشاہداتی حقائق کے حوالے سے، غیر مشاہداتی حقائق کے علم تک پہنچنا۔
بیسویں صدی کے نصف اول تک طبیعی سائنس (physical science) کی دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ علم وہی ہے جو مشاہداتی ذرائع سے معلوم ہو۔ لیکن علم کا سفر جب عالم کبیر (macro world) سے گزر کر عالم صغیر (micro world) تک پہنچا تو یہ مفروضہ ٹوٹ گیا۔ اب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ استنباط بھی علم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے، شرط یہ ہے کہ وہ مسلمہ علمی قواعد کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقلی طریق مطالعہ اور اسلامی طریق مطالعہ کا فرق
ختم ہو جاتا ہے۔ عقلی طریق مطالعہ، اسلام کے مطالعے کے لیے بھی اتنا ہی مفید بن جاتا ہے جتنا کہ دوسرے علوم کے لیے۔
اسلام کے عقائد کا تعلق عالم غیب (unseen world) سے ہے، اس لیے بظاہر وہ عقلی مطالعے سے باہر کی چیز معلوم ہوتا ہے، لیکن استنباط کو مستند طریق مطالعہ ماننے کے بعد یہ فرق باقی نہیں مثال کے طور پر وحی (revelation) کو لیجیے۔ اسلام کے مطابق، قرآن وحی پر مبنی ایک کتاب وحی مشاہدے سے باہر کی چیز ہے، اس بنا پر بیسویں صدی کے نصف اول تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ قرآن صرف ایک عقیدے کی کتاب ہے، اس کی صداقت کو عقلی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اب جب کہ استنباطی استدلال کو مستند استدلال سمجھا جا چکا ہے، اب اصولی طور پر یہ فرق باقی نہیں رہا۔ قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو استنباطی اصول کے مطابق، یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کا تعلق ایک ایسے ماخذ (source) سے ہے جو انسانی علم سے ماورا اپنا وجود رکھتا ہے۔ معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مصر کے فرعون (Pharaoh Ramesses II) کے جسم سے تعلق رکھتا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: راقم الحروف کی کتاب ’’عظمتِ قرآن‘‘) سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Dr. M. Aslam Khan (Principal)