I think, therefore, I exist.
Al-Risala, September 2014, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
وجودی فلسفہ (existentialism) کے بانی جین پال سارترے (Jean Paul Sartre) نے اس تصور کو الٹ دیا۔ اس نے کہا کہ۔ میں ہوں، اس لیے میں سوچتا ہوں: I exist, therefore, I think. ڈیکارٹ اور سارترے کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پھر کیسے فیصلہ کیا جائے کہ دونوں میں سے کون سا بیان درست ہے اور کون سا بیان درست نہیں۔ اس دوسری مثال کے معاملے میں سائنٹفک معیار قابلِ انطباق نہیں۔ تاہم یہاں ایک اور متبادل معیار موجود ہے جس کو منطبق کر کے ہم اس دوسرے معاملے میں بھی درست جواب حاصل کر سکتے ہیں۔
برٹرنڈ رسل (وفات: 1970) نے درست طور پر لکھا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں۔ علم (knowledge of things)، اور سچائیوں کا علم (knowledge of truths)۔ کے علم کے معاملے میں ہمیشہ فزیکل کرائٹیرین (physical criterion) قابلِ انطباق (applicable) ہوتا ہے۔ لیکن جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، اُس میں فزیکل کرائٹیرین
قابل انطباق نہیں۔ تاہم سچائی کے علم کے معاملے میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک اور کرائٹیرین موجود ہے، وہ ترجیح (preference) کا کرائٹیرین ہے، یعنی دو امکانات میں سے کسی ایک امکان کو اضافی قرینہ کی بنیاد پر ترجیح دینا۔
مذکورہ فلسفیانہ بحث میں ہمارے سامنے دو رائیں (proposition) موجود ہیں۔ ڈیکارٹ اور دوسرے، سارترے کی رائے۔ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ ان میں انسانی زندگی کی کوئی بامعنی توجیہہ نہیں ملتی۔ اس اعتبار سے، دونوں کے اوپر البرٹ کامو (Albert Camus) کا تبصرہ یکساں طور پر صادق آتا ہے۔ اُس نے انسانی زندگی کے بارے میں کہا کہ ــ ہم سب اس لغو دنیا میں کیوں ہیں، کیا صرف مرنے کے لیے۔
ڈیکارٹ اور سارترے کے مذکورہ اقوال اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے کہ انسانی وجود کا مقصد کیا ہے۔ انسان کس طرح اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے ایسی حالت میں اُس دوسری رائے کو ترجیح کے اصول کی بنیاد پر درست مانا جائے گا جس میں انسانی زندگی کی بامعنی توجیہہ پائی جاتی ہو۔ یہ رائے وہی ہے جو وحی (revelation) کے ذریعے معلوم یہ رائے زندگی کی بامعنی توجیہہ پیش کرتی ہے اور یہ معنویت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی رائے درست ہے۔
وحی پر مبنی اس رائے کے مطابق، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ــ میں ایک خالق کی تخلیق یہی خالق ہے جس نے مجھ کو وجود دیا ہے۔ یہی خالق ہے جس نے مجھ کو سوچنے کی طاقت دی اس خالق کی رحمت کے بغیر میرا کوئی وجود نہیں۔
I am a creation of a Creator. It was this Creator Who gave me existence. It was this Creator Who gave me thinking power. I was nothing without the blessing of this Creator.