Al-Risala · September 2014

مسلم فلسفہ مسلم الہیات

Al-Risala, September 2014, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم الہیات (Muslim Theology) اور مسلم فلسفہ (Muslim Philosophy)

دونوں معروف اصطلاحیں ہیں، لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ مسلم الہیات کی اصطلاح ایک علمی اصطلاح ہے، جب کہ مسلم فلسفہ کی اصطلاح کوئی علمی اصطلاح نہیں۔ الہیات مبنی بروحی علم کا نام ہے، جب کہ فلسفہ ایک ایسے علم کا نام ہے جو مکمل طور پر مبنی بر عقل (reason-based) ہوتا ہے۔ میں عقل کو وحی کے تابع قرار دیا گیا ہے، جب کہ فلسفہ میں عقل کو مکمل طور پر آزاد سمجھا جاتا ہے۔ فلسفہ ایک مستقل علمی شعبہ ہے۔ تاریخ کے بڑے بڑے دماغ فلسفہ کے موضوع پر غور و فکر کرتے رہے ہیں۔ فلسفہ کی تعریف (definition) یہ ہے ـــ کائنات کی حقیقت کی تلاش آزاد طور پر صرف عقل کی روشنی میں:

Pursuit of the ultimate nature of the universe purely through rational analysis. یہ فلسفیانہ تصور اسلام کے تصورِ علم کے مطابق نہیں۔ اسلام کے تصور کے مطابق، انسان اپنے آزاد عقلی غور فکر کے ذریعے صرف محدود علم تک پہنچ سکتا ہے، کلی حقیقت تک نہیں (17:85)۔ تصور علم اس کے بالکل مختلف ہے۔ فلسفہ اس تصورِ علم پر مبنی ہے کہ انسان اپنی عقل کے ذریعے تمام حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے، حقیقتِ کائنات کی دریافت صرف عقل کے ذریعے ممکن ہے۔ عباسی دور میں مسلم فلسفہ وجود میں آیا۔ مسلم فلسفہ کا تصور صرف مرعوبانہ ذہن کی پیدا وار تھا، کیوں کہ اُس زمانے میں فلسفہ کو سب سے بڑا علم (Queen of Art) سمجھا جاتا تھا۔ یہ کہ اسلام میں فلسفہ نہیں، بلکہ الہیات ہے۔ اسلام میں علم کلام، اسی مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا، لیکن قدیم زمانے سے مسلم متکلمین اپنے غیر سائنسی ذہن کی بنا پر اس کو صحیح نہج پر ڈیولپ (develop) نہ کر سکے۔

Printed page