Al-Risala · September 2014

علم کی دو قسمیں

Al-Risala, September 2014, pp. 43–45

By Maulana Wahiduddin Khan

علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ علم جس کا تعلق انسانی فکر اور انسانی زندگی سے ہوتا ہے۔ ایسے علم کو اصطلاح میں علم انسانی (humanities) کہا جاتا ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جس کا تعلق مادی شعبہ سے ہے۔ ایسے علوم کو سائنسی علوم کہا جاتا ہے۔ دونوں قسم کے علم کے مطالعے کے طریقے الگ ایک علم کے طریقے کو دوسرے علم کے معاملے میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً سائنسی علوم کی بنیاد ریاضیات (mathematics) پر ہے۔ ایسے علوم میں قطعی استدلال یا نا قابل انکار استدلال ممکن ہوتا ہے۔ ان کو دو اور دو چار کی طرح ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے سائنسی علوم میں اختلاف نہیں پایا جاتا۔

سائنسی علوم میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی موضوع پر مختلف اہل علم کا اتفاق رائے حاصل کر لیا مگر علم انسانی (humanities) میں اس قسم کا ریاضیاتی استدلال ممکن نہیں۔ اس لیے علم انسانی کے معاملے میں لازمی اتفاق رائے بھی ممکن نہیں۔

دونوں قسم کے علوم میں اس فرق سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جو شخص علم انسانی یا مذہب کے معاملے میں یقین کا درجہ حاصل کرنا چاہے، اُس کو یہ توقع نہیں رکھنا چاہئے کہ یہاں سائنسی علوم کی مانند ریاضیاتی استدلال ممکن ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی علوم کا معاملہ ففٹی ففٹی کے اصول پر مبنی ہے۔ پچاس فی صد استدلال (reasoning) اور پچاس فی صد

پہلے جز ء کا تعلق معلومات (information) سے ہے، اور دوسرا جز ء معرفت یا حقیقت شناسی (realization of truth) سے تعلق رکھتا ہے۔ جو آدمی صرف معلومات کو جانتا ہو، مگر اس کے اندر حقیقت شناسی کی صلاحیت موجود نہ ہو، وہ ہمیشہ ذہنی انتشار (confusion) میں مبتلا رہے گا، وہ کبھی سچائی تک پہنچ نہ سکے گا۔

سوال و جواب آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ۔ ” قرآن ایک اعتبار سے، کتاب وحی ہے اور دوسرے اعتبار سے کتابِ انقلاب ہے۔ پہلے اعتبار سے، وہ رہنما اصول (guiding principles) کا مجموعہ ہے اور دوسرے اعتبار سے، اس کے ذریعے ایک ایسا عمل (process) جاری ہوا جو اپنے تکمیلی مرحلے میں پہنچ کر معرفتِ اعلیٰ کا ذریعہ بن گیا‘۔ اس کی مزید وضاحت فرمائیں۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کے حسبِ ذیل دو ارشادات کا مطالعہ کیجیے: 1- اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (5:3) یعنی آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔

2- وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهِ فَتَعْرِفُوْنَهَا (27:93) یعنی کہو کہ تمام حمد اللہ کے وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم اُن کو پہچان لو گے۔

قرآن کی ان آیتوں میں ایک خاص فرق ہے، وہ یہ کہ پہلی آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ صیغہ حال (present tense) میں ہے۔ اور دوسری بات صیغۂ استقبال (future tense) میں کہی گئی ہے۔ اس فرق سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ ایک ایسی بات ہے جو نزولِ قرآن کے زمانے میں حاصل ہوگئی۔ اس کے برعکس، دوسری آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بعد کے زمانے میں حاصل ہوگی، یعنی آفاق و انفس میں ظہورِ آیات۔ الرسالہ میں آپ بار بار لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو سیاسی ماڈل کے بجائے دعوتی ماڈل اختیار کرنا دعوتی ماڈل سے آپ کی مراد کیا ہے، اس کو واضح فرمائیں۔ (محمد امان اللہ، دہلی)

آج کل یہ حال ہے کہ جس شخص کے دل میں بھی کام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، وہ فوراً سیاسی انداز میں کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کام کا سیاسی ماڈل بہت زیادہ معروف ہو گیا ہے۔ اس بنا پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ سیاسی ماڈل کے سوا کسی اور ماڈل کا تصور نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کام کا سب سے زیادہ بہتر، اور سب سے زیادہ نتیجہ خیز ماڈل وہ ہے جس کو دعوتی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دعوتی ماڈل سے مراد نظریاتی ماڈل ہے، یعنی ایک فکر یا ایک آئیڈیالوجی کی بنیاد پر پرامن جدوجہد کرنا۔ انسان ایک سوچنے والا وجود (thinking being) ہے۔ اس لیے فکری ماڈل فوراً اس کو اپیل کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی کے پاس اگر ایک حقیقی آئیڈیالوجی ہو تو وہ انتہائی حد تک طاقت ور بن جائے گا۔ حقیقت پر مبنی فکر گویا ایک نظریاتی بم (ideological bomb) کی حیثیت رکھتا ہے، جو تمام طاقت ور چیزوں سے زیادہ طاقت ور ہے۔

Printed page