Al-Risala · September 2014

سوال و جواب

Al-Risala, September 2014, pp. 45–49

By Maulana Wahiduddin Khan

الرسالہ میں آپ نے کئی بار لکھا ہے کہ مسلمانوں کو اپوزیشن کی سیاست سے بچنا چاہیے۔ کرم، اس معاملے کی مزید وضاحت فرمائیں (محمد شارق، سری نگر)

سیاست چلتی ہے ٹکراؤ پر۔ یہ مقولہ سیاست یا پولیٹکل ایکٹوزم (political activism) کو درست طور پر بتاتا ہے۔ سیاست ٹکراؤ کا کلچر ہے۔ سیاست میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مد مقابل (rival) بنا کر اُس کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔ ابتداءً یہ مہم پرامن طور پر شروع ہوتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ نفرت اور تشدد اور جنگ تک پہنچ جاتی ہے، حتیٰ کہ جب مقصد حاصل نہیں ہوتا تو وہ خودکُش بم باری (suicide bombing) جیسی تباہ کن صورت حال اختیار کر لیتی ہے۔ اپوزیشن کی سیاست (politics of opposition) بلا شبہ شیطان کی سنت ہے۔ تخلیق کے وقت ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں جو روش اختیار کی اور جس طرح اُس نے

آدم کے آگے جھکنے سے انکار کیا، وہ آج کل کی زبان میں گویا اپوزیشن کی سیاست تھی۔ اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیطان ابدی طور پر اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔ اُس کے لیے یہ مقدر ہو گیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے نفرت اور عداوت میں جئے اور کبھی وہ اُس سے نہ نکل نہ سکے۔ ابلیس کا یہ انجام انسانی نسلوں کے لیے ایک سبق ہے۔ انسانوں میں سے جو لوگ اپوزیشن کی سیاست کریں، وہ ابلیس کی اِسی سنت پر چل رہے اپوزیشن کی سیاست دوسرے لفظوں میں، منفی سیاست ہے، اور منفی سیاست سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا، نہ سیاسی لیڈروں کے لیے اور نہ اُن لوگوں کے لیے جو ایسے لیڈروں کا ساتھ کشمیر اور دوسرے مقامات کے مسلمان جو اپوزیشن کی سیاست میں مشغول ہیں، وہ ایسا کر کے ایک بہت بڑا رسک (risk) لے رہے ہیں۔ یہ اللہ کی رحمت سے محرومی کا رسک (خطرہ) ہے۔ بلاشبہ اللہ کی رحمت سے محرومی اتنی بری چیز ہے کہ اُس سے زیادہ بری چیز اور کوئی نہیں۔ پیغمبر کے زمانے کے لوگوں کو پیغمبر کی صحبت کے ذریعے اللہ کی معرفت مل گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے بعد کے لوگوں کو یہ معرفت کیسے حاصل ہوگی۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) کسی انسان کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ معرفت کوئی پراسرار چیز نہیں۔ یہ علم انسانی (human knowledge) کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ آدمی کو حقیقی معنوں میں اللہ کی معرفت حاصل ہو جائے، وہ اس کی پوری زندگی میں شامل ہو جائے گی۔ وہ فکر سے لے کر عمل تک اس کی پوری شخصیت کی تشکیل کرے گی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معرفت کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے مبنی بر صحبت معرفت اور دوسرا ہے مبنی بر علم معرفت۔ زندگی میں جو لوگ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں، ان کو صحبتِ رسول کے ذریعے اللہ کی معرفت کا رزق حاصل ہوتا ہے۔ پیغمبر کے بعد بھی معرفت کی حیثیت ایک اعلیٰ ایمانی مطلوب کی ہوتی ہے، لیکن پیغمبر کے بعد معرفت کے حصول کا ذریعہ علم ہے۔ علم وحی بھی اور علم انسانی بھی۔

الرسالہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا تقاضا ہے کہ آپ نہ صرف اس کو خود پڑھیں بلکہ اس کی ایجنسی لے کر اس کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں دوسروں تک پہنچائیں ۔ گویا الرسالہ کے متوقع قارئین تک اس کو مسلسل پہنچانے کا ایک بہترین درمیانی وسیلہ ہے۔ الرسالہ (اردو) کی ایجنسی لینا ملت کی ذہنی تعمیر میں حصہ لینا ہے جو آج ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسی طرح الرسالہ (انگریزی) کی ایجنسی لینا اسلام کی عمومی دہی میں حصہ لینا ہے۔ جوان ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسی طرح ارساله (اَمریری) کی دعوت کی مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے جو کارِ نبوت ہے اور ملت کے او پر سب سے بڑا فریضہ ہے۔ ایجنسی کی صورتیں 1- اس رسالہ کی ایجنسی کم از کم پانچ جاری کرنے والے کی کمیشن 33 فی صد ہے، 50 ریپل، ٹیلی اسلام کی مووی مندرجہ تعدار کمیژن۔

1 - الرسالہ کی ایجنسی کم از کم پانچ پرچوں پر دی جاتی ہے۔ کمیشن 33 فی صد ہے۔ 50 پرچوں سے زیادہ تعداد پر کمیشن 40 فی صد ہے۔ پیکنگ اور روانگی کے تمام اخراجات ادارہ الرسالہ کے ذمہ ہوتے ہیں۔ زیادہ تعداد والی ایجنسیوں کو ہر ماہ پرچے بذریعہ وی پی روانہ کئے جاتے ہیں۔ کم تعداد والی ایجنسی کے لئے ادائیگی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ پرچے ہر ماہ سادہ ڈاک سے بھیجے جائیں، اور صاحب ایجنسی ہر ماہ یا دو تین ماہ بعد اس کی رقم بذریعہ منی آرڈر روانہ کردے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تین مہینے تک پرچے سادہ ڈاک سے بھیجے جائیں اور اس کے بعد والے مہینے میں تمام پرچوں کی مجموعی رقم کی وی پی روانہ کی جائے۔ زر تعاون الرساله ہندوستان کے لئے بیرونی ممالک کے لئے (هوائی ڈاک)

Rs. 200 $20 ایک سال Rs. 400 $40 دو سال Rs. 600 $60 تین سال Maulana Wahiduddin Khan Tuesday-Friday 5.00 am ISLAM FOR KIDS

اسلام: ایک تعارف اسلام: ایک عظیم جدوجہد اسلام اور عصرِ حاضر اسلام پندرہویں صدی میں اسلام دورِ جدید کا خالق اسلام دینِ فطرت اسلام کا تعارف اسلام کیا ہے تاریخِ دعوتِ حق تاریخ کا سبق تعبیر کی غلطی تعمیر کی طرف حقیقت کی تلاش حل یہیں ہے عورت معمارِ انسانیت فسادات کا مسئلہ قال اللہ وقال الرسول قرآن کا مطلوب انسان کشمیر میں امن مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے مذہب اور جدید چیلنج مذہب اور سائنس مطالعهٔ سیرت (پمفلٹ) راہیں بند نہیں رہنماء حیات (پمفلٹ)

سبق آموز واقعات سفرنامہ اسپین و فلسطین سفرنامه (غیرملکی اسفار، جلد اول) سفرنامه (غیرملکی اسفار، جلد دوم) سوشلزم اور اسلام سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ خاندانی زندگی (پمفلٹ) شتم رسول کا مسئلہ منزل کی طرف امہات المومنین (ڈاکٹر فریدہ خانم) خلیج ڈائری انسان اپنے آپ کو پہچان دعوت اسلام انسان کی منزل خدا اور انسان دین کی سیاسی تعبیر دین کیا ہے طلاقِ اسلام میں علما اور دورِ جدید مولانا مودودی، شخصیت اور تحریک (ڈاکٹر فریدہ خانم) میوات کا سفر نئے عہد کے دروازے پر ہندوستان آزادی کے بعد یکساں سول کوڈ

Licenced to Post without Prepayment U (SE) 12/2012-14 دورِ حاضر کی نسبت سے اسلام کو سمجھنے کے لیے ایک جامع کتاب از : مولانا وحیدالدین خاں دور حاضر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دورِ اسلام ہے۔ دورِ حاضر کی علمی ترقیوں نے اسلام کی عالمی اہمیت کو از سر نو واضح کیا ہے۔

سائنس اسلام کا علم کلام ہے۔

دورِ جدید کو ایک آئیڈیالوجی کی ضرورت اسلام اسی آئیڈیالوجی کا دوسرا نام روحِ عصر سب سے زیادہ جس چیز کی طالب ہے، وہ بلاشبہ دین اسلام ہے۔ اسلام دنیا اور آخرت کی سعادتوں کے لیے ایک مستند گائڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام اپنے نظریے کے اعتبار سے، مبنی بر توحید دین ہے اور اپنے طریق کار کے اعتبار سے، مبنی بر امن دین عصری اسلوب میں اسلام کے ان تمام پہلوؤں کو جاننے کے لیے 'اظہارِ دین' کا مطالعہ کیجیے۔ ملنے والی چیز پر قناعت نہ کرنا، اور اُس چیز کی طرف دوڑنا جو سرے سے ملنے والی ہی نہیں، یہی انسان کی سب سے زیادہ عام کمزوری ہے۔

Printed page