Man is a great creation by God
Al-Risala, October 2014, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی وجود کی اس دلیل میں، علمی غور و فکر سے بہت پہلے فلسفہ می پیش خدا کے وجود کے بارے میں علمی غوروفکر سب سے پہلے فلسفہ میں شروع ہوا۔ معاملے میں کسی حتمی انجام تک نہ پہنچ سکا۔ گلیلیو اور نیوٹن کے بعد غور و فکر کا سائنسی انداز شروع ہوا۔ کا موضوع اگر چہ خالق نہیں تھا، بلکہ اس کے اپنے الفاظ میں، نیچر (nature) تھا۔ مگر نیچر کیا ہے۔ نیچر تخلیق کا دوسرا نام ہے۔ گویا سائنس کا موضوع ہے — خالق کے حوالے کے بغیر مخلوق کا مطالعہ کرنا۔ میں پہلے، نیوٹن کے زمانے میں، یہ مان لیا گیا تھا کہ دنیا ایک میکانیکل ڈیزائن (mechanical design) اس کے بعد ردرفورڈ (Ernest Rutherford) کے زمانے میں معلوم ہوا کہ دنیا ایک میننگ فل ڈیزائن (meaningful design) ہے۔ اس کے بعد فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کا زمانہ آیا، جب کہ یہ دریافت ہوا کہ دنیا ایک انٹیلیجنٹ ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ ان دریافتوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا کا وجود علمی طور پر دریافت ہو چکا اب سارا معاملہ صرف تسمیہ (nomenclature) کا ہے، یعنی یہ کہ اس دریافت شدہ حقیقت کا نام کیا ہو۔ فلسفیوں نے اس حقیقت کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) کہا تھا۔ سائنس اس کو انٹیلیجنٹ ڈیزائن کہہ رہی ہے۔ اہل مذہب کی زبان میں اسی حقیقت کا نام خدا (God) ہے۔ سائنس نے صرف تخلیق کو دریافت کیا، لیکن تخلیق کے دریافت کے ساتھ ہی خالق اپنے آپ دریافت ہو جاتا ہے۔