فقہی معاملے میں توسع
Al-Risala, October 2014, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کی روایتوں میں سے ایک روایت یہ ہے کہ اہل مدینہ نے عبداللہ بن عباس سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا کہ اس نے (زمانہ حج میں طواف کیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی۔ کہا کہ وہ مدینہ واپس چلی جائے ۔ اہل مدینہ نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ ہم آپ کے قول کو لیں اور زید بن ثابت الانصاری کے قول کو چھوڑ دیں: لا نأخذ بقولك و ندع قول زيد (صحيح البخاري، كتاب الحج، رقم الحديث : 1759-1758)
عبداللہ بن عباس اور زید بن ثابت دونوں صحابی تھے، لیکن مذکورہ مسئلے میں دونوں کے درمیان عبداللہ بن عباس کا کہنا یہ تھا کہ مذکورہ کیس میں عورت کے لیے رخصت ہے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر اپنے گھر واپس چلی جائے۔ لیکن زید بن ثابت انصاری کا مسلک یہ تھا کہ ایسی عورت کو حیض کے بعد سات دن قیام کرنا چاہیے اور پھر طواف وداع کر کے اپنے گھر واپس جانا چاہیے۔ رائے کے اس اختلاف کے باوجود دونوں صحابہ کے درمیان یا اُن کے پیروؤں کے درمیان وہ غیر مطلوب اختلاف پیدا نہیں ہوا جو موجودہ زمانے میں اس طرح کی صورتِ حال میں پایا جاتا ہے۔ سبب مسلک میں اختلاف کو برداشت کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کا سبب مسلک میں توسع (diversity) تھا، یعنی یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک ہے۔ مذکورہ عورت اگر حیض کے بعد طواف وداع کے بغیر واپس جائے تو اس کو اس کی رخصت ہے اور اگر وہ ٹھہر جائے اور ایک ہفتے کے بعد طواف وداع کر کے واپس جائے ، تب بھی ٹھیک ۔ فقہی مسلک میں اختلاف ہمیشہ جزئی نوعیت کا ہوتا ہے، اور جزئی نوعیت کے اختلاف میں ہمیشہ توسع مطلوب ہوتا ہے، نہ کہ تو حد ، یعنی ایک مسلک درست ہے اور دوسرا مسلک غلط۔ یہی وہ حقیقت ہے جو کہ حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے : فبأيهم اقتديتم، اهتديتم (مشكاة المصابيح، رقم الحديث : 6018) فقہی مسائل میں اختلاف مسلک کو توسع پر محمول کرنا چاہئے، نہ یہ کہ ایک مسلک صحیح ہے، اور دوسرا مسلک غلط۔