تنبیہہ خداوندی یا ظلم انسانی
Al-Risala, October 2014, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے کے تمام مسلم رہنما متفقہ طور پر اعلان کر رہے ہیں کہ تمام دنیا کے مسلمان غیر مسلم قوموں کی طرف سے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک غلط رہنمائی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ جو ناموافق حالات پیش آ رہے ہیں، وہ قرآن کے مطابق، تنبیہہ خداوندی کی حیثیت رکھتے ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا۔ یہ واقعات چوں کہ بظاہر کچھ انسانوں کی طرف سے پیش آتے ہیں، اس لیے ہمارے رہنماؤں نے ان واقعات کو مفروضہ ظالموں کے ساتھ منسوب کر کے اُن کے خلاف احتجاج اور جوابی تشدد شروع کر دیا۔ اگر وہ ان واقعات کو خدا کی تنبیہات (warnings) سمجھتے تو وہ مسلمانوں کو داخلی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا کہ مسلمان اصلاحِ خویش میں مشغول ہوجاتے، نہ کہ شکایت غیر میں۔
موجودہ صورتِ حال میں قرآن کی یہ آیت ایک خدائی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے: فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (6:43) یعنی جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو وہ کیوں نہ گڑگڑائے، بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب قوم کے اندر بگاڑ آيا تو اللہ کی طرف سے تنبیہات آئیں۔ اُس وقت چاہیے تھا کہ قوم کے اندر محاسبہ کا جذبہ پیدا ہوتا اور وہ اصلاحِ خویش کی طرف متوجہ ہوجاتے، لیکن عملاً یہ ہوا کہ انھوں نے خود ساختہ توجیہات کے ذریعے اس کو مفروضہ ظالموں کا ظلم قرار دے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی غلط سوچ میں اور زیادہ پختہ ہو گئے۔ تنبیہہ خداوندی کو ظلم انسانی قرار دینا ہمیشہ شیطان کی تزئین کے تحت ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہی نامطلوب تزئین ہے۔ تنبیہہ خداوندی کو ظلم انسانی سمجھنا، بلاشبہ ایک تباہ کن غلطی ہے۔