Al-Risala · October 2014

اختلاف کا مسئلہ

Al-Risala, October 2014, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر مذہبی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف بڑھ کر ککبھی تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ان اختلافات کا سبب مدارس کا ان کے خیال کے مطابق، اگر مدارس کے نصاب میں اصلاح کر دی جائے تو اختلاف کا خاتمہ ہو جائے گا اور لوگوں کے اندر اتحاد و اتفاق کی حالت قائم ہو جائے گی۔ مگر یہ اصل صورتِ حال کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کا سبب فطرت انسانی ہے، نہ کہ مدارس کے نصاب میں۔ پیدائش کے اعتبار سے، ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ (Mr. Different) ہوتا ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔

یہی فطری فرق اختلاف کا اصل سبب ہے۔ اگر تمام مدارس کا نصاب ایک کر دیا جائے تب بھی اختلاف باقی رہے گا ، کیوں کہ خواہ نصاب کی سطح پر اختلاف نہ ہو تب بھی فطرت کی سطح پر اختلاف موجود رہے گا ، وہ بھی ختم ہونے والا نہیں ۔

حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں ایک ہی مدرسہ ، مدرسہ نبوت ، کے تعلیم یافتہ تھے ، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ ابو الحسن اشعری اور واصل بن عطا دونوں ایک ہی مدرسے کے تعلیم یافتہ تھے ، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔

موجودہ زمانہ میں سرسید احمد خاں اور مولا نا قاسم نانوتوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے ، اِس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا حسین احمد مدنی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے ، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ سید سلیمان ندوی اور مولانا مسعود علی ندوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے ، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔

اصل یہ ہے کہ خواہ دو آدمیوں نے ایک ہی مدرسہ اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم پائی ہو، لیکن طرزِ فکر (way of thinking) کی سطح پر ہمیشہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق ہے جو اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑھ کر نفرت اور تشدد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اختلاف یا فرق چوں کہ فطرت انسانی کا حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اختلاف کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ ناکام طور پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو اُس اصول کی تعلیم دی جائے جس کو اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، لیکن سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔

انسانوں کے طرزِ فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ اس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طور پر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لئے نہیں۔

بنگلور میں مولا نا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسبِ ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22118978, Mob. 09060511653 کشن گنج (بہار) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ حسبِ ذیل پتے پر دستیاب ہیں: CPG Messege Forum At+P.O. Bahadurganj, Main Road, Dist. Kishanganj. Pin-855101, Bihar Mob. 9470272115, 9430900563

Printed page