اپنی حد کو جانیے
Al-Risala, October 2014, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرے، ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرے ۔ لوگوں کے اس مزاج کی بنا پر یہ مقولہ بنا ہے کہ ـــ آسمان ہی اس کی حد ہے: Sky is the limit یہ مقولہ بہت مشہور ہے۔ لیکن وہ ایک غیر فطری مقولہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی صلاحیتیں بہت محدود ہیں، انسان اپنی محدودیت (limitations) کی وجہ سے ایک حد تک ہی آگے جاسکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ مذکورہ قسم کے مقولے کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ آدمی اپنے نشانے کو نہ پائے، البتہ وہ شدید قسم کی مایوسی میں مبتلا ہو جائے، یہاں تک کہ اسی مایوسی کی حالت میں وہ اس دنیا سے چلا جائے۔ انسان کے لیے صحیح نشانہ ’’آسمان‘‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی فطری حد کو جانے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے صحیح نشانہ یہ ہے کہ وہ خود نے جانیں، اپنے رندوں کا درجہ بنائے رکھیں تا کہ ان میں اپنے اعتبار سے اپنا نشانہ مقرر کرے، وہ یہ کہے کہ: