ایک اہم کتاب
Al-Risala, October 2014, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
مستشرقین کے جواب میں موجودہ زمانے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر ان کا اصل جواب یہ ہے کہ علوم اسلام پر ایسی اعلی کتابیں تیار کی جائیں جو اپنی تحقیق اور معلومات کے اعتبار سے مستشرقین کی باتوں کا مثبت جواب بن جائیں۔ اس سلسلے میں یہاں ہم عظیم ترکی عالم فواد سیزگین (Fuad Sezgin) کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے اس میدان میں انتہائی قابلِ قدر کام انجام دیا ہے۔ 25 سالہ مطالعے کے بعد حسبِ ذیل کتاب جرمن زبان میں تیار کی ہے:
Geschichte des Arabischen, Schrifttums, Leiden, 1967 اس کتاب کا معیاری عربی ترجمہ ڈاکٹر محمود فہمی حجازی اور ڈاکٹر فہمی ابو الفضل نے کیا ہے۔ اس کا نام تاريخ التراث العربي ہے۔ وہ تین جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کو الہيئة المصرية العامة للكتاب، قاہرہ نے 1978 میں شائع کیا ہے۔ پہلی جلد تین حصوں پر مشتمل ہے اور اسی طرح دوسری جلد بھی: المجلد الاول: (1) علوم القرآن (2) علم الحديث (3) التدوين التاريخي الى غاية سنة 430 هجرية تقريباً المجلد الثاني: (1) الفقه (2) العقائد (3) التصوف الي غاية سنة 430 هجرية تقريباً کتاب کی تیسری جلد تاریخِ شعرِ عربی سے متعلق ہے۔
ہر فصل کے شروع میں نہایت قیمتی مقدمہ ہے جس میں خالص علمی اور تاریخی انداز میں متعلق فصل کا اس کے بعد صحابہ سے لے کر پانچویں صدی ہجری کے ابتدائی نصف تک اُن اسلامی شخصیت کے حالات اور کارنامہ کا محققانہ تذکرہ ہے جو ان موضوعات پر مستند حوالہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ کتاب بلاشبہ اپنی قسم کی واحد کتاب ہے اور اس قابل ہے کہ تمام اسلامی اداروں کے کتب خانوں میں کتبِ حوالہ کی الماری میں موجود ہو۔ اس موضوع پر ماضی میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً ابن الندیم کی الفہر ست (377) طاش کبری زاده (968ھ) کی مفتاح السعادة - حاجی خلیفہ (1067ھ) کی کشف الظنون - اسماعیل البغدادی (1339ھ) کی ہدية العارفین، وغیرہ۔
جون 2014 کو بنگلور میں ایک دعوہ میٹ ہوئی۔ اس دعوہ میٹ میں الرسالہ مشن سے وابستہ انڈیا کے تقریباً 86 ایکٹیو ممبران شریک ہوئے۔ اس موقع پر دعوت اور تربیت کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کے کئی پروگرام ہوئے ۔ اس کے علاوہ حاضرین نے اپنے تاثرات بیان کیے اور دعوہ ورک کی پلاننگ کی۔ اس پروگرام کے درمیان صدر اسلامی مرکز کی نئی کتاب اظہار دین کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ یہ دعوہ میٹ بنگلور کے باہر نیچرل ماحول میں بنے ہوئے ہوٹل وسْتار میں ہوئی۔ مسارہ فاطمہ نے مقامی ٹیم کے تعاون سے اس پروگرام کو آرگنائز کیا تھا۔ میٹ کے لکچرز کو اس لنک پر سنا جاسکتا ہے: