مغرب کا ایجنڈا
Al-Risala, November 2014, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے کے علماء اور مسلم دانشور عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیائے اسلام کے بارے میں مغرب کا ایک ایجنڈا ہے اور اس ایجنڈے کو وہ پوری طاقت کے ساتھ نافذ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بطور مثال یہاں ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے۔ یہ حوالہ موجودہ مسلم دنیا کے مشہور دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات: 2010) کا ہے۔ انھوں نے الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ، پاکستان کے تحت ایک محاضرے میں بتایا کہ 2003 میں وہ جرمنی کی ایک کانفرنس میں شریک ہوئے۔ اس کا عنوان یہ تھا: Is Islam a Threat to the West and Europe? اس کانفرنس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا کہ مسلم مفکرین کی بڑی تعداد کا نقطہ نظر مغرب کے بارے میں یہ ہے کہ اس کے مثبت پہلوؤں سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہئے اور اس کے منفی پہلوؤں کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے جواب میں کانفرنس میں موجود مغربی نمائندوں نے کہا کہ مغرب ان شرائط پر اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی تہذیب و تمدن سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ یہ ایک پورا پیکیج ہے جس کو آپ کو جوں کا توں قبول کرنا اس میں مغرب آپ کو اخذ و انتخاب (pick and choose) کی اجازت نہیں دے گا (ماہ نامہ الشریعہ، مارچ 2005، صفحہ: 12-10)
یہ پورا بیان عصرِ حاضر سے بے خبری کی پیداوار ہے۔ اس معاملے میں عصرِ حاضر کا ذہن وہی ہے جو امریکا کے بارے کہا گیا ہے، یعنی: