دور جدید کا مسئلہ
Al-Risala, November 2014, pp. 20–22
By Maulana Wahiduddin Khan
دور جدید (modern age) کا ظہور اچانک نہیں ہوا۔ دور جدید در اصل ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کا نقطہ انتہا (culmination) تھا۔ یہ تاریخی عمل ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ جدید دور ہی کو دوسرے الفاظ میں، جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے جدید تہذیب ایک موافق اسلام تہذیب تھی، نہ کہ مخالف اسلام تہذیب۔
جدید تہذیب کے موافق اسلام ہونے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کے تمام اجزا اپنی تمام تفصیل کے ساتھ عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جب بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو وہ اس طرح نہیں آتا کہ انسانی آزادی (human freedom) کو مکمل طور پر حذف کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب معیاری انقلاب نہیں ہوتا۔ قدر و قیمت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اس کے کچھ اجزا حقیقی ہوتے ہیں اور کچھ اجزا وہ ہوتے ہیں جو انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے میں اسلامی انقلاب کا بھی کوئی استثناء (exception) نہیں۔ ساتویں اور آٹھویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا، اس نے تاریخ انسانی کو بہت سے قیمتی تحفے دئے۔ مثلاً شرک کے دور کو ختم کر کے توحید کے دور کو دنیا میں لانا۔ تاہم اسلامی انقلاب میں بھی زمانی اسباب کے تحت ایسے اجزا شامل ہو گئے جو معیار مطلوب کے مطابق نہ تھے۔ مثلاً شورائی خلافت کی جگہ خاندانی حکمرانی (dynasty) کا قائم ہو جانا۔ اسلام کے نام پر باہمی لڑائیاں، وغیرہ۔ اسلام کا ظہور بلاشبہ تاریخ بشری کے لیے ایک نعمت کا ظہور تھا۔ لیکن اس نعمت کو حقیقی طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی تاریخ کو اُن اجزا سے الگ کر کے دیکھا جائے جو خدا داد انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہو گئے۔ ٹھیک یہی معاملہ جدید مغربی تہذیب کا بھی ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے انسانی تاریخ کو
بہت بڑی بڑی چیزیں عطا کیں، جو اس سے پہلے کبھی انسان کو حاصل نہ تھیں۔ مثلاً فطرت میں چھپے ہوئے قوانین (natural laws) کو دریافت کرنا، سیاسی زندگی میں بادشاہت کے بجائے جمہوریت کو رواج دینا، انسانی زندگی سے مذہبی جبر کو ختم کرنا، علمی مطالعے کے لیے سائنسی طریقہ (scientific method) کو رواج دینا، عالمی مسائل کے لیے اقوام متحدہ کی صورت میں ایک انٹرنیشنل فورم کا قیام، ایسے نئے علوم کا رواج جو اسلام کے لیے بے حد مفید تھے۔
لیکن مغربی تہذیب جب دنیا میں آئی تو وہ اس طرح نہیں آئی کہ انسانی آزادی حذَف اس کے ساتھ فطری طور پر مطلوب اجزا کے ساتھ ایسے غیر مطلوب اجزا بھی شامل تھے، جو اصلاً خود تہذیب کا حصہ نہ تھے، مگر انسانی آزادی کی بنا پر بظاہر وہ اس کا حصہ بن گئے۔ مثلاً سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے لیے لڑائیاں، انسان کے مادہ پرستانہ مزاج کی بنا پر پیدا ہونے والے مفاسد، استغلال (exploitation)، شخصی اور قومی مفاد (interest) سے پیدا ہونے والی برائیاں، وغیرہ۔ مغربی تہذیب کے اندازہ (evaluation) کے لیے ضروری ہے کہ اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے مغربی تہذیب کا مطالعہ کیا جائے، ورنہ مطالعہ کرنے والا منصفانہ مطالعہ کرنے سے قاصر رہے گا۔ مغربی تہذیب کے ظہور کے بعد جو حالات پیدا ہوئے، اُن کو اگر خالص معیار (ideal) کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے کچھ اجزا یقیناً مطلوب اجزا نظر آئیں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب۔ ان تمام اجزا کو ایک فہرست میں شامل کر کے اگر یہ کہا جائے کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے تو یہ ایک غیر فطری تجزیہ ہوگا۔ اگر ایجنڈے کے نظریے کو اصولی طور پر درست مان لیا جائے تو عین یہی تبصرہ اسلام کی تاریخ پر صادق آجائے گا۔ ایک مبصر یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام اگر چہ توحید کا علم بردار تھا، لیکن اس کے ایجنڈے میں یہ بھی شامل تھا کہ خلافت کے نام پر خاندانی حکمرانی قائم کی جائے، اسلام کی مختلف تعبیرات کر کے لوگ آپس میں لڑائیاں کریں، دار الاسلام اور در الکفر کا نظریہ وضع کر کے غیر مسلم اقوام کے خلاف نفرت کلچر پیدا کیا جائے، وغیرہ۔
ایک عالم کا مشہور قول ہے: خذ ماصفا ودع ماکدر ۔ اس قول میں روایتی الفاظ میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا، یعنی انسانی زندگی یا انسانی انقلاب میں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ اس کے کچھ اجزا مطلوب اجزا ہوں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب اجزا ۔ مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو معیار سے مطابقت رکھتے ہوں ، اور غیر مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو انسانی آزادی کی بنا پر اس میں شامل ہو جائیں۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو آزادانہ اختیار(free choice) کا حق انسان کا یہ حق قیامت تک منسوخ ہونے والا نہیں۔ اس آزادی کو قرآن میں امانت (33:72) کہا گیا ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اس خدا داد آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے، خواہ دوسروں کی نظر میں وہ صحیح ہو یا غلط۔ انسانی زندگی کے تمام واقعات میں انسانی آزادی کے یہ اجزا ہمیشہ شامل رہتے ہیں، حتی کہ اسلام کے ظہور کے بعد امت مسلمہ کی تاریخ میں بھی۔ انسانی کے مطالعے کے معاملے میں اس نکتے کی بے حد اہمیت ہے۔ جو لوگ اس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ صحیح نتائج تک پہنچیں گے، اور جو لوگ اس نکتے کو ملحوظ رکھے بغیر انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ کبھی انسانی تاریخ کے معاملے میں صحیح نتائج تک نہیں پہنچ سکتے۔ نیا ہندی ترجمہ قرآن ہندی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دو ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک، قرآن کا آسان ہندی ترجمہ۔
دوسرا، قرآن کا خالص ہندی ترجمہ۔ یہ نیا ترجمہ قرآن خاص طور پر برادرانِ وطن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سے درخواست ہے کہ اس ترجمہ قرآن کو زیادہ سے زیادہ برادرانِ وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی فریضہ انجام دیں۔