صحبتِ رسول
Al-Risala, November 2014, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عالم نے کہا ہے: من كان في بيته مجموعة من الأحاديث، فكأنما فيه نبي يتكلم (جس آدمی کے گھر میں حدیث رسول کا ایک مجموعہ موجود ہو تو گویا کہ اُس گھر میں کلام کرتا ہوا ایک پیغمبر موجود ہے)۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص سچے جذبے کے ساتھ حدیث کی کتاب کو کھولے گا، اور اِس میں موجود اقوالِ رسول کو پڑھے گا تو اِس کو محسوس ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے ہم کلام ہو کر اُس کو براہ راست نصیحت کر رہے ہیں۔
یہی معاملہ صحبت رسول کا بھی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سچی اسپرٹ زندہ ہو، اور اُس کے اندر صحیح معنوں میں اتباعِ رسول کا جذبہ موجود ہو تو آج بھی وہ صحبت رسول کا تجربہ کر سکتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے دشمن سے نفرت نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ اُس کے ساتھ اعلیٰ انسانی سلوک کرتے تھے، اور اُس کی ہدایت کے لیے خدا سے دعا کرتے تھے۔ اب اگر آپ کا کوئی دشمن ہو، مگر آپ اُس کے ساتھ جوابی دشمنی نہ کریں، بلکہ یہ سوچیں کہ رسول اللہ نے اپنے دشمن کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، وہی سلوک مجھ کو بھی اپنے دشمن کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اِس طرح سوچ کر جب آپ اپنے دشمن کے ساتھ پیغمبر والا برتاؤ کریں تو اُس وقت آپ کو رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص نسبت حاصل ہو جائے گی۔ آپ اپنی سوچ اور جذبات کے اعتبار سے، رسول اللہ کے ساتھ خصوصی مناسبت محسوس کرنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ یہ جذبہ اتنا ترقی کرے گا کہ آپ کو محسوس ہوگا کہ زمانی دوری ختم ہو گئی ہے اور آپ گو یا کہ رسول اللہ کی صحبت میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ بلا شبہ ایک فطری حقیقت ہے، اور کوئی بھی شخص کسی بھی مقام پر اس کا تجربہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے مخالفین کی طرف سے نہایت نازیبا سلوک کیا گیا۔ مثلاً آپ کو مجنوں کہا گیا۔ آپ کو مذمم کہا گیا ۔ آپ کو ساحر اور کذاب کہا گیا،
وغیرہ، لیکن آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو منفی جواب نہیں دیا۔ آپ نے اس کے خلاف نہ شکایت کی، نہ احتجاج، بلکہ آپ ایسے لوگوں کے لیے خدا سے دعا کرتے رہے۔ اب اگر کسی کو اس قسم کا منفی تجربہ ہو، مگر وہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ رسول اللہ کے طریقے کو اختیار کرلے تو ایسے موقع پر اُس کے اندر مخصوص جذبات ابھریں گے۔ وہ اپنے اندر رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس کرے گا۔ وہ صحبتِ رسول کا تجربہ کرنے لگے گا۔
صحبت رسول کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، جسمانی صحبت (physical companionship)
اور دوسری ہے روحانی یا نفسیاتی صحبت (psychological companionship)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر اہلِ ایمان کو آپ کے ساتھ جسمانی صحبت حاصل ہوئی، لیکن بعد کے زمانے کے اہل ایمان کو بھی آپ کی روحانی یا نفسیاتی صحبت حاصل ہوسکتی ہے، بشرطیکہ وہ اُس کی شرط کو پورا کریں، اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گہری مزاجی مناسبت۔
صحبت صرف ساتھ بیٹھنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کا مدار تمام تر مزاجی مناسبت پر ہے۔ میں بھی اس کی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ اُس وقت اسلام قبول کرنے والوں میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاجی مناسبت رکھتے تھے، ان کو آپ کی صحبت کا فائدہ ملا۔ اور جو لوگ آپ سے مزاجی مناسبت نہیں رکھتے تھے، وہ بظاہر آپ سے قریب ہونے کے باوجود صحبت کے فائدے سے محروم سچے صحابہ اور منافقین کے درمیان جو فرق ہے، وہ اسی بنا پر ہے۔ سچے صحابہ کے اندر رسول اللہ سے مزاجی مناسبت تھی، اس لیے ان کو صحبتِ رسول کا پورا فائدہ ملا، اور منافقین کے اندر یہ مزاجی مناسبت موجود نہ تھی، اس لیے وہ رسول اللہ سے قریب رہتے ہوئے بھی صحبت رسول کے حقیقی فائدے سے محروم رہے۔