فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت
Al-Risala, November 2014, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بناتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی شخصیتیں افسانوی شخصیت (legendary figure) کی حیثیت اختیار کرلیتی یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بنا رکھی ہے۔ اس کے نتیجے میں دو بڑا نقصان مسلمانوں کے حصے میں آیا ہے— ماضی کا ضرورت سے زیادہ اندازہ (overestimation) اور حال کا ضرورت سے کم اندازہ (underestimation)۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے عام طور پر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کو یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات کو بدلنے کی ایک ہی شکل ہے، وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر قدیم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں، مگر اس قسم کی باتیں خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔
مثلاً مشہور عرب مورخ خیر الدین الزرکلی (وفات: 1976) نے ماضی کی مشہور مسلم شخصیتوں پر کئی جلدوں میں ایک کتاب تیار کی ہے، اس کا نام ہے: الأعلام۔ وہ مسلمانوں کے احیاء نو کا راز اس میں سمجھتے تھے کہ ماضی جیسی مسلم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ — صلاح الدین ایوبی کو ہمارے درمیان دوبارہ لے آؤ، حطین یا حطین جیسے معرکے دوبارہ گرم کرو: هات صلاح الدین ثانية فينا جدّدی حطين أو شبه حطينا خیر الدین الزرکلی کا یہ شعر صرف صاحب کلام کی زمانے سے کامل بے خبری کی ایک مثال ہے۔ آج کا زمانہ اور آج کے حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں کوئی کام کرنے کے لیے پہلی شرط بصیرت زمانہ ہے، نہ کہ صلاح الدین کا دوبارہ پیدا ہونا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں صلاح الدین ایوبی جیسی شخصیت کے لوگ پیدا ہوئے، مگر عملاً وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کر سکے، کیوں کہ
وہ بصیرت زمانہ سے بالکل بے خبر تھے۔ اس کی ایک مثال فلسطینی لیڈر یاسر عرفات (وفات: 2004) فطری صلاحیت کے اعتبار سے وہ گویا صلاح الدین ثانی تھے، مگر ساری قربانیوں کے باوجود وہ مکمل طور پر نا کام رہے۔
اسی طرح کی ایک مثال ڈاکٹر محمد اقبال کی ہے۔ انھوں نے شیخ احمد سرہندی کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصور قائم کر رکھا تھا۔ چناں چہ انھوں نے لکھا ہے کہ مسلم ہندستان نے سب سے بڑا جو مذہبی عبقری پیدا کیا، شیخ احمد سرہندی تھے:
The greatest religious genius produced by Muslim India was Shaikh Ahmad Sarhindi. شیخ احمد سرہندی جیسی شخصیت تخلیق کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مولد تخلیق کے کارخانے میں ختم ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر فطری صلاحیت کے اعتبار سے مولانا ابوالکلام آزاد اسی درجے کی شخصیت تھے جس درجے کی شخصیت شیخ احمد سرہندی کی تھی۔ مولانا آزاد کوئی نتیجہ خیز کام نہ کر سکے۔ اس کا سبب دونوں کے درمیان زمانی حالات کا فرق تھا۔ مشہور مسلم دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات: 2010) نے اپنے ایک مقالہ میں عہد ماضی کی مسلم شخصیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”اس نظام تعلیم میں نواب سعد اللہ خاں بھی تیار ہوا جو مجدد الف ثانی کا کلاس فیلو تھا اور جو سلطنت مغلیہ کا وزیر اعظم بنا۔ وہ سلطنت مغلیہ جو موجودہ افغانستان، پاکستان، ہندستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، سکم، برما، ان سب ریاستوں پر مشتمل تھی۔ کے نظام کو سعد اللہ خاں نے شاہ جہاں کے زمانے میں کامیابی کے ساتھ چلایا تھا۔ ‘‘ (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، مارچ 2005، صفحہ: 14)
سعد اللہ خاں کوئی منفرد شخصیت نہیں تھے۔ اس طرح کی شخصیتیں قدرت کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے کسی بھی درجے میں کم نہ تھے۔ لیکن غیر معمولی سرگرمیوں کے باوجود وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کر سکے۔
ہے کہ کارنامے کے معاملے میں کسی شخصیت کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے کم ہوتا ہے اور حالات کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے زیادہ۔
موجودہ زمانے کے مسلم مقررین اور محررین کی یہ عام غلطی ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کا تصور ان کے حقیقی قد سے زیادہ (larger than life size) قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ شخصیتیں دوبارہ پیدا ہو جائیں تو موجودہ زمانے میں بھی وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہیں۔ مگر اس قسم کا تصور مبالغہ آمیز خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ قدیم روایتی دور (ancient traditional age)، اور جدید سائنسی دور (modern scientific age)۔ دونوں دوروں میں ہر اعتبار سے نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ قدیم زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا شخص اگر آج پیدا ہو تو وہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ ایسا آدمی آج کے حالات میں صرف بے جوڑ (misfit) ہو کر رہ جائے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کام کرنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ کام کرنے والے لوگ جدید دور کا گہرا مطالعہ کریں۔ وہ اپنے آپ کو جدید حالات کے اعتبار سے تیار وہ کامل معنوں میں بصیر زمانہ (بصیر أب زمانہ) بنیں۔ اس کے بعد ہی وہ آج کے دور میں کوئی حقیقی کام انجام دے سکتے ہیں، خواہ تعلیم و تدریس کا معاملہ ہو یا تصنیف و تالیف کا معاملہ، خواہ ایک ادارہ چلانے کا معاملہ ہو یا حکومت چلانے کا معاملہ، امت کی اصلاح کا معاملہ ہو یا زمانے کی قیادت کا معاملہ، کسی سیمنار کو خطاب کرنے کا معاملہ ہو یا کسی انٹرنیشنل تنظیم کو خطاب کرنے کا معاملہ۔ غرض زندگی کا جو معاملہ بھی ہو، اس میں رہنمائی کرنے کے لیے دورِ جدید سے کامل واقفیت لازمی طور پر ضروری ہے۔ جو لوگ یہ واقفیت نہ رکھتے ہوں، وہ اگر جدید دور میں رہنمائی کا منصب سنبھالیں تو اُن کا انجام وہی ہوگا جس کو ایک شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے: