Al-Risala · November 2014

إذا كان الغراب رئيس قوم سيهديهم إلى دار البوار

Al-Risala, November 2014, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ اپنے دورِ زوال میں ہے۔ آج کی یہ ایک اہم ضرورت ہے کہ امت کا احیا (revival) کیا جائے، لیکن اس احیا کی لازمی شرط یہ ہے کہ یہ کام صحیح ماڈل کے مطابق کیا غلط ماڈل اختیار کرنے سے کبھی امت کا احیا نہیں ہوگا، خواہ ہزاروں سال تک اس کی کوشش کی

احیائے امت کا صحیح ماڈل صرف ایک ہے، اور وہ پیغمبرانہ ماڈل ہے۔ یہ ماڈل سنت کی صورت میں پوری طرح محفوظ ہے۔ ہم کو چاہیے کہ سنتِ رسول کے اس محفوظ ماڈل کو مطالعہ کتب کے ذریعے دریافت کریں اور پھر اس کی روشنی میں امت کے احیا کا کام انجام دیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی ۔ اس کے بعد امتِ مسلمہ کی ایک یہ تاریخ ہزار سال سے زیادہ مدت پر پھیلی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے ایسا ہوا کہ ہر مسلم اہلِ علم نے اس تاریخ کو نہایت مبالغہ آمیز انداز میں دہرایا۔ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابیں سب کی سب تاریخِ امت کی مبالغہ آمیز تصویر کشی کرتی رہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر امت کے ذہن سے پیغمبرانہ ماڈل پسِ پشت چلا گیا اور تاریخی ماڈل ایک شان دار یاد کے طور پر ہر مسلمان کے دل میں نقش ہو گیا۔

اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ آج جو شخص احیائے امت کے لیے اٹھتا ہے، وہ بظاہر اگر چہ اسلام کا نام لیتا ہے، لیکن عملاً مسلم تاریخ کا احیا اس کا نشانہ بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں احیائے امت کی تمام تحریکوں کا یہی انجام ہوا ہے۔ ان میں سے کوئی مسلم دورِ حکومت کے احیا کی بات کرتا ہے اور کوئی مسلم تہذیب کے احیا کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے، کوئی شرعی قانون کے نفاذ میں مسلم احیا کا راز بتاتا ہے، کوئی جہاد کے نام پر تشدد کلچر پھیلائے ہوئے ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کا احیا کر رہا ہے، وغیرہ۔

اس قسم کی تحریکیں موجودہ زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر اٹھیں، مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے باوجود وہ عملاً ناکام ثابت ہوئیں۔ اس ناکامی کا سبب صرف ایک تھا، وہ یہ کہ ان تحریکوں کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں ہوئی۔ نصرتِ خداوندی سے محرومی کا سبب مشترک طور پر یہ تھا کہ یہ سب تحریکیں تاریخی ماڈل کو لے کر کھڑی ہوئیں ۔ اُن میں سے کوئی بھی تحریک حقیقی طور پر پیغمبرانہ ماڈل کو لے کر نہیں اٹھی۔ پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ پیغمبرانہ ماڈل مبنی بر دعوتِ ماڈل ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس ، تاریخی ماڈل مبنی بر سیاست ، مبنی بر تہذیب ، مبنی بر قومیت ہوتا ہے ۔ میں کوئی تحریک اللہ کی نصرت سے کامیاب ہوتی ہے اور اللہ کی نصرت صرف پیغمبرانہ ماڈل پر آتی ہے ، اس میں ریئٹ اللہ کی نصرت ہے ، جب ہوگی وہ دوسری کسی اور ماڈل پر اللہ کی نصرت کبھی آنے والی نہیں ۔

اور حقیقت کے اس ماڈل کے مقابلے کا کوئی دوسرا A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mob. 09308477841, 09852208744 چمپارن (بہار) ماہ نامہ الرسالة اور مطبوعاتِ الرسالة حسبِ ذیل پتے پر دستیابهیں: Jama Masjid, Main Road, Motihari East Champaran-845401, Bihar لگائی جا سکتی ہے اور حقیقت جو ہمارے سامنے ہے اس کا اندازہ اس بنگلور میں ماہ قرآن مجید کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر حاصل کرنے کے لیے رابطہ فرمائیں:

Printed page