آلاء اللہ کا مطلب
Al-Risala, December 2014, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 55 میں ایک آیت 31 بار آئی ہے : فبأیّ آلاء ربّکما تکذبان (سورہ الرحمن) یعنی تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اس آیت میں ”آلاء“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ آلاء کی واحد إلِیٌّ ہے۔ عربی لغت میں عام طور پر اس کے معنیٰ ”نعمت“ بتائے گئے ہیں، مگر اس سے مراد عام نعمت نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ نعمت ہے جو حیرت خیز حد تک عظیم ہو۔ آلاء کا لفظ دراصل پر استعجاب نعمتوں (wondrous bounties) کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورہ الرحمن میں اللہ کی مختلف نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اُس کے بعد بار بار یہ آیت آئی ہے کہ تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اس آیت میں آلاء سے مراد پر استعجاب نعمتیں ہیں، اور جھٹلانا (تکذیب) کا مطلب ہے اُس کو نظر انداز کرنا اور اپنے آپ کو اُس کا معترف نہ بنانا۔ یہی موجودہ دنیا میں انسانوں کی اکثریت کا حال ہے۔ وہ ہر وقت اللہ کی انتہائی عظیم نعمتوں کو دیکھتے ہیں، لیکن اُن پر غور نہیں کرتے۔ وہ اُن کو فار گرانٹیڈ (for granted) لیتے رہتے ہیں۔ بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ پر استعجاب نعمتیں بھی اُن کو غیر اہم نظر آتی ہیں۔ ان نعمتوں کے مقابلہ میں جو رسپانس (response) اُن کو دینا چاہئے، اُس کو دینے سے وہ قاصر رہتے ہیں۔
یہی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ انسان کو عقل اس لیے دی گئی کہ وہ ان نعمتوں کو دیکھ کر اُن پر غور کرے، وہ اُن کا اعلیٰ اعتراف کرے، وہ ان نعمتوں کے خالق کے آگے پوری طرح جھک مگر انسان ایسا نہیں کرتا ۔ انسان کی یہ حقیقت فراموشی معاف نہیں کی جائے گی ۔ فراموش رویہ کی بنا پر آخرت میں، اُس کی سخت پکڑ ہوگی۔ البتہ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں اور حقیقت شناسی کی زندگی گزاریں، وہ آخرت میں اُس کا اعلیٰ انعام پائیں گے۔ ایمانی زندگی دراصل عارفانہ زندگی کا دوسرا نام ہے۔ عارفانہ زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے، اور شکر و اعتراف کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارے۔