پیغمبر کا اُسوہ
Al-Risala, December 2014, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 12 میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس قصے کو قرآن میں احسن القصص (یوسف: 2) کہا گیا ہے۔ اس قصے کے احسن القصص ہونے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں، لیکن اُس کا ایک پہلو، حضرت یوسف کا وہ طریق کار ہے جو انھوں نے بادشاہ وقت کے معاملے میں اختیار کیا۔
اس طریق معاملہ کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ بادشاہ مصر نے حضرت یوسف کی شخصی صلاحیت سے متاثر ہو کر اُن سے کہا کہ تم کو میری سلطنت کے خزائن پر اختیار ہوگا، تاہم جہاں تک ملک کے قانونی نظام کا تعلق ہے، اُس میں حسبِ سابق، بادشاہ کا قانون جاری رہے گا۔ اس بات کو بائبل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
"اور فرعون (شاہ مصر) نے یوسف سے کہا: چوں کہ خدا نے تجھے یہ سب کچھ سمجھا دیا ہے، اِس لیے تیری مانند دانشور اور عقل مند کوئی نہیں۔ سو، تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا۔ (پیدائش 40-39: 41)
حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کا جو بادشاہ تھا، وہ منفعِل مزاج کا آدمی تھا۔ کی طرح وہ جارحانہ مزاج کا انسان نہ تھا۔ چناں چہ وہ راضی ہو گیا کہ تخت کا مالک وہ رہے، لیکن امور سلطنت کو حضرت یوسف انجام دیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کی اس پیش کش کو قبول کر لیا۔ بادشاہ کے برائے نام اقتدار کے تحت، وہ اپنا پیغمبرانہ مشن چلاتے رہے۔ قرآن کے مطابق، ہر پیغمبر کا عمل ہمارے لیے یکساں طور پر درست نمونہ ہے۔ اس بنا پر حضرت یوسف کا نمونہ بھی ہمارے لیے اتنا ہی قابلِ اتباع ہے، جتنا کہ پیغمبر اسلام یا اور کوئی پیغمبر کا نمونہ۔ یہ نمونہ اس اصول پر مبنی ہے کہ اگر سیاسی حاکم اصل مشن میں کوئی رکاوٹ نہ
ڈالے تو اُس سے ٹکراؤ نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اُس کو تسلیم کرتے ہوئے اُس کے تحت، اپنے کام کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔
حضرت یوسف کو یہ موقع اس لیے ملا تھا کہ ان کا معاصر بادشاہ منفعل مزاج کا آدمی تھا۔ زمانے میں اب یہ معاملہ کسی کے شخصی مزاج کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ یُوسفی اصول اب عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول (universally accepted norm) کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اب اس دور آزادی میں تمام حکمرانوں نے یہ مان لیا ہے کہ وہ اپنے مخصوص سیاسی دائرے کے باہر کسی معاملے میں تعرض نہیں کریں گے ۔ لوگوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جس طرح چاہیں اپنے امور کی تنظیم کریں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے خلاف تشدد کا کوئی فعل نہیں کریں گے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں جو چیز استثنائی موقع کی حیثیت رکھتی تھی، وہ اب عمومی موقع کی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ اس موقع کو دعوتِ حق کے لیے استعمال کرنا، پیغمبر کے طریقے کی پیروی اور اس کے خلاف عمل کرنا، پیغمبر کے طریقے سے انحراف کے ہم معنی ہے۔ ہندی ترجمہ قرآن ہندی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دو ترجمے شائع ہو چکے ہیں— ایک، قرآن کا آسان ہندی ترجمہ۔ دوسرا، قرآن کا خالص ہندی یہ نیا ترجمہ قرآن خاص طور پر برادرانِ وطن کے لیے تیار کیا آپ سے درخواست ہے کہ اس ترجمہ قرآن کو زیادہ سے زیادہ برادرانِ وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی فریضہ انجام دیں۔ بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم فرمائیں: 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)