Mob. 09755300295, 07556542231
Al-Risala, December 2014, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کا آغاز مکہ میں کیا۔ تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت کیا اور مدینہ میں قیام فرمایا۔ جب آپ مدینہ کی سرحد پر پہنچے، اس وقت اہل مدینہ کے ایک گروہ نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا۔ اس وقت آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر بھی تھے۔ خطاب کرتے ہوئے اہل مدینہ نے کہا: أدخلا آمنين مطاعين (مسند احمد، رقم الحدیث: 12234) یعنی آپ دونوں مدینہ میں داخل ہو جائیں، آپ دونوں کے لیے یہاں امن ہے، اور آپ دونوں ہمارے لیے قابل اتباع ہیں۔
مدینہ میں اس حیثیت سے آپ کا استقبال کیوں کر ممکن ہوا ۔ وہ قبل از ہجرت عمل کی بنا پر ممکن ہجرت سے پہلے کچھ اصحاب مدینہ گئے، وہاں وہ لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت پیش اس وقت مطبوعہ قرآن موجود نہ تھا، اس لئے وہ اپنے حافظہ سے لوگوں کو قرآن پڑھ کر اس بنا پر وہ وہاں مقری کہے جاتے تھے۔ یہ گویا ہجرت سے پہلے ابتدائی تیاری کا معاملہ اس ابتدائی تیاری کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مدینہ میں اسلام گھر گھر میں داخل ہو گیا ۔ روایت میں آیا ہے: لم تبق دار من دور الأنصار إلا وفيها ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم (السيرة النبوية لابن كثير: 2/179) یعنی مدینہ کے گھروں میں سے کوئی گھر نہ بچا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چر چا نہ ہو رہا ہو۔
یہ معاملہ جو مدینہ میں پیش آیا، وہ بھی رسول اور اصحاب رسول کی سنتوں میں سے ایک سنت کوئی دعوتی مشن اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب کہ اس کے افراد اس سنت پر منظم انداز میں عمل وہ مشن سے پہلے قبل مشن (pre-mission) کی اہمیت کو سمجھیں، اور اس پر عمل کریں۔ صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ وہ پر امن ہو اور اس کو مکمل طور پر لو پروفائل (low profile) کے انداز میں انجام دیا جائے۔
اللہ کے فضل سے الرساله مشن کے ساتھ ایسے ہی معاملہ پیش آیا۔ اسلامی مرکز 1970 میں قائم اس کے بعد ماہ نامہ الرسالہ 1976 میں جاری ہوا۔ اس طرح یہ دعوتی مشن تقریباً چالیس سال تک برابر چلتا رہا۔ اس کے بعد اس کے معاون کے طور پر الرسالہ انگریزی، فروری 1984 میں جاری ہوا جو کہ اب ماہ نامہ اسپرٹ آف اسلام کی صورت میں بنگلور سے نکل رہا ہے۔ اس درمیان دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بھی بقدر امکان کام ہو تا رہا۔
یہ گویا ابتدائی تیاری کا عمل تھا، جو تقریبا چالیس سال تک جاری رہا۔ اس مسلسل کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہر جگہ ایسے لوگ قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں، جو پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ نیز انھوں نے الرسالہ مشن کے تحت شائع ہونے والی کتابوں کو بھی وسیع پیمانے پر پڑھا ہے۔ ایسے افراد اور ایسے حلقے نہ صرف انڈیا میں، بلکہ مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ایسے لوگ وسیع پیمانے پر متحرک ہو گئے ہیں۔ وہ ہر جگہ مختلف طریقوں سے اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کام کسی مرکزی ہدایت یا کنٹرول کے بغیر خود اپنے جذبہ (spirit) کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو لأجل الله (for the sake of God) اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ جدید حالات کے لحاظ سے نئے طریقوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ کام انتہائی حد تک غیر سیاسی (non-political) انداز میں انجام دیا جا رہا ہے۔
یہ گویا مذکورہ سنت رسول کا احیاء ہے۔ دونوں کے درمیان اگر فرق ہے تو وہ صرف ظاہر کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اسپرٹ کے اعتبار سے۔ اس سنت پر عمل، قدیم زمانے میں اُس وقت کے حالات کے مطابق کیا گیا تھا۔ موجودہ زمانے میں اِس سنت پر عمل، جدید حالات کے اعتبار سے انجام پا رہا اس سنت پر عمل کا نتیجہ پہلے قدیم حالات کے اعتبار سے ظاہر ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں اس سنت پر عمل کا نتیجہ جدید حالات کے اعتبار سے پیش آرہا ہے۔