امت کا دور زوال
Al-Risala, February 2014, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
امت مسلمہ کے دور زوال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں گو یا پیشگی تنبیہ (advance warning) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان روایتوں کا مقصد یہ ہے کہ امت کے رہنما پیشگی طور پر زوال کی علامتوں کو جان لیں اور اُن کی اصلاح کے لیے سرگرم اگرچہ اس معاملے میں امت مسلمہ کا حال بھی عملاً وہی ہوا جو پچھلی امتوں کا ہوا تھا، یعنی پیشگی تنبیہات کے باوجود اصلاح حال میں ناکامی۔
اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایتیں آئی ہیں، اُن میں سے ایک روایت یہ ہے: لينقضن عرى الإسلام عروة عروة ـ فكلما انتقضت عروة، تشبث الناس بالتي تليها ـ وأولهن نقضا الحكم، وآخر هن الصلاة (مسند أحمد: 251/5) یعنی اسلام کے حلقے (زنجیر) ٹوٹتے رہیں گے، ایک کے بعد دوسری کڑی۔ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ باقی ماندہ کڑی سے جڑ جائیں گے۔ پہلی کڑی جو ٹوٹے گی، وہ الحكم ہے اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی، وہ الصلاة ہے۔
موجودہ زمانے میں امت مسلمہ کے درمیان جو انقلابی رہنما پیدا ہوئے، انھوں نے دور زوال میں پیش آنے والی خرابی کی وہ تشخیص کی جس کو "دین اور سیاست کے درمیان جدائی" کہا جاتا ہے۔ اس غلط تشخیص کی بنا پر ساری امت بے نتیجہ طور پر سیاسی ہنگامہ آرائی میں مشغول ہوگئی۔ صحیح بات یہ ہے کہ دور زوال میں امت کے اندر جو خرابی پیدا ہوتی ہے، وہ دین اور سیاست کے درمیان جدائی نہیں ہے، بلکہ وہ دین اور مظاہر دین کے مابین جدائی ہے، یعنی دین کی اصل روح کا مفقود ہو جانا اور دین کی ظاہری شکلوں کا باقی رہنا۔ اس تفریق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت کے درمیان بظاہر دین کے نام پر طرح طرح کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے، عملاً موجود نہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بظاہر دین داری کے باوجود مسلمان دین کی اُن رحمتوں اور برکتوں سے
تمہیں ہو جانا چاہیے تھا، روح کے اندر ایک اور دنیا بس گئی ہے، جو محروم ہو جاتے ہیں جو سچے اہل دین کے لیے مقدر کی لئی ہیں ۔
کسی امت کے اوپر زوال کا دور اچانک نہیں آتا ، بلکہ تدریجی (gradual) طور پر آتا تدریجی زوال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ دھیرے دھیرے اُس سے مانوس ہو جاتے ہیں، وہ زوال کی حالت ہی کو درست حالت سمجھنے لگتے ہیں۔ اِسی زوال کو دوسرے الفاظ میں ، تدریجی تحویل (gradual shift) کہا جاسکتا ہے، یعنی ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچ جانا۔ حدیث میں "عُروة، عُروَةً" تبدیلی کا لفظ آیا ہے۔ اس حدیث میں دراصل تمثیل کی زبان میں اِس تدریجی تحویل کو بتایا گیا ہے۔ اِس تحویل کی کچھ صورتیں یہاں درج کی جاتی ہیں : آئیڈیالا جکل اسلام سے کلچرل اسلام کی طرف تدبر قرآن سے تلاوتِ قرآن کی طرف مخلصانہ دین داری سے ظاہر داری کی طرف امن سے تشدد کی طرف آخرت پسندی سے دنیا پرستی کی طرف حقیقت پسندی سے تصنع کی طرف اسپرٹ سے فارم کی طرف تخلیقیت سے تقلید کی طرف امت سے سیاست کی طرف جہاد سے قتال کی طرف خاموش عمل سے شور وغُل کی طرف سادگی سے تکلفات کی طرف دورِ زوال میں ان تبدیلیوں کی بنا پر دینِ خداوندی کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه (البيهقي في شعب الإيمان، رقم الحديث: 1908) یعنی دورِ زوال میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہے گا۔ اس حالتِ زوال کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ قشر (shell) کا باقی رہنا اور مغز (kernel) کا عملاً باقی نہ رہنا۔ دورِ زوال میں امت کی اصلاح کا صحیح طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے ۔ حکیمانہ دعوت و تبلیغ کے ذریعے امت کو دوبارہ قشر کی حالت سے مغز کی ایسا ہے اور رہا ہے ۔ ... مانا درست اس روپ حالت کی طرف لے جانا۔