Al-Risala · December 2014

تنقید یا الزام تراشی

Al-Risala, December 2014, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی شخص کو غلط بتانے کے لیے جب آپ کے پاس کوئی دلیل نہ ہو بلکہ صرف الزام ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ خود غلطی پر ہیں۔ عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی کے خلاف بولے تو صرف اُس وقت بولے، جب کہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے اُس کے پاس کوئی حقیقی دلیل ہو۔ کے پاس حقیقی دلیل نہیں ہے، اور وہ عیب زنی اور الزام تراشی کی زبان میں اپنی بات پیش کر رہا ہے تو یہ بلاشبہہ ایک عظیم گناہ ہے۔ وہ انسان کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے شخص سے آخرت میں کہا جائے گا کہ تم دوسرے کے خلاف جو الزام لگاتے تھے، اُس کو دلیل سے ثابت کرو اور جب وہ اپنی بات کو دلیل سے ثابت نہ کر سکے گا تو اُس سے کہا جائے گا کہ جو الزام تم نے دوسرے کے اوپر لگایا تھا، اُس کی سخت تر سزا تم خود بھگتنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

عیب زنی اور الزام تراشی کے لیے، صحیح لفظ کردار کشی (character assassination) کسی کے خلاف الزام تراشی کرنا، اُس کو کردار کے اعتبار سے قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ قتل سے کم گناہ نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مومن پر دوسرے مومن کی تین چیزیں حرام ہیں۔ اُس کا خون، اُس کا مال، اور اُس کی عزت (کل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه) صحیح مسلم، رقم الحدیث: 6706۔ اس حدیث میں بظاہر مسلم کا لفظ ہے۔ لیکن وسیع تر انطباق کے اعتبار سے، اس کا تعلق ہر انسان، ہر عورت اور ہر مرد سے ہے۔ جو آدمی اس بات کو جانتا ہو کہ آخر کار اُس کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ اس معاملہ میں کانپ اٹھے گا۔ وہ اس حرام فعل سے، اُس سے بھی زیادہ بچے گا جتنا کہ کوئی شخص سانپ اور بچھو سے بچتا ہے۔

تنقید (criticism) ہر انسان کا ایک جائز حق ہے۔ مگر تنقید کو لازماً مبنی بر دلیل ہونا جس تنقید کے ساتھ دلیل شامل نہ ہو، وہ سخت گناہ ہے۔ علمی تنقید بلا شبہہ ایک خیر ہے، مگر غیر علمی تنقید بلا شبہہ ایک شر۔

Printed page