Al-Risala · December 2014

زندگی المیہ کیوں

Al-Risala, December 2014, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

شیلے (P. B. Shelley) ایک انگریز شاعر تھا۔ اس کی وفات 1822 میں ہوئی۔ وہ پر درد شاعری کے لیے مشہور ہے۔ اس کا ایک شعریہ ہے۔ ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ غم ناک خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں:

Our sweetest songs are those that tell of saddest thought ایسا کیوں ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ بیشتر لوگ اس احساس میں جیتے ہیں کہ زندگی اُن کے لیے ایک المناک تجربہ تھی۔ وہ جو کچھ پانا چاہتے تھے، اُس کو وہ نہ پاسکے۔ وہ اپنے آپ کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک نا کام انسان سمجھتے ہیں۔ اس صورت حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی درد ناک نغمہ سنتے ہیں، یا کوئی درد ناک کہانی پڑھتے ہیں، تو وہ اپنی محروم نفسیات کی بنا پر اُس کو اپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت واقعہ کا بیان ہے۔ اس کے برعکس جب وہ بظاہر کوئی پر مسرت نغمہ سنتے ہیں یا پر مسرت کہانی پڑھتے ہیں تو وہ اس کو اپنے احساس کی بنا پر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ایک غیر واقعی بات ہے۔ لوگوں کی اس نفسیات کا سبب کیا ہے؟ اُس کا سبب یہ ہے کہ لوگ خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو سمجھے بغیر، اپنی زندگی کا منصوبہ وہ اپنے لئے ایک ایسی چیز پانا چاہتے ہیں جس کا حصول خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اس دنیا میں ممکن نہیں۔ یہی تضاد، مذکورہ صورت حال کا اصل سبب ہے۔

خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، موجود دنیا میں انسان اپنے لیے صرف بقدر ضرورت پا سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ ایسی حالت میں انسان اگر بقدر ضرورت پر قناعت کرے، تو وہ مذکورہ نفسیات سے بچ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کو چاہئے کہ وہ موجودہ دنیا میں صرف بقدر ضرورت چاہے، اور اس سے زیادہ کو آخرت کی چیز سمجھے۔ یہی موجودہ دنیا میں پر سکون زندگی کا واحد راز ہے۔ کا نام پر مسرت زندگی ہے اور غیر فطری زندگی کا نام مسرت سے خالی زندگی۔

Printed page