Al-Risala · December 2014

شکایت کا نقصان

Al-Risala, December 2014, pp. 40–43

By Maulana Wahiduddin Khan

شکایت (complaint) نہایت مہلک چیز ہے۔ تمام اجتماعی خرابیاں ہمیشہ شکایت کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں۔ جب دو یا زیادہ آدمی ایک ساتھ رہیں، تو اُن کے درمیان لازماً ایسے اختلاف پیدا ہوتے ہیں، جو شکایت بن جاتے۔ پھر یہ شکایت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کو برا سمجھنے لگتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حالت اگر دیر تک باقی رہے، تو دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان ایسی نفرت پیدا ہو جاتی ہے جو پھر کبھی ختم نہیں ہوتی۔

شکایت کا واحد حل یہ ہے کہ اُس کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لیا جائے، بلکہ اُس کو بھلا دیا جائے۔ شکایت پیدا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ نہ تو اُس کی تحقیق کرے اور نہ اس کو یاد رکھے، بلکہ یک طرفہ طور پر اُس کو بھلا دے۔ اجتماعی زندگی میں شکایت کا پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن شکایت کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ اس کی پوچھ گچھ کی جائے، اور اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ موجودہ دنیا میں شکایت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہاں عملاً صرف یہ ہو سکتا ہے کہ شکایت کو یاد نہ رکھا جائے، اُس کا چر چا نہ کیا جائے، اُس کو تعلقات کی بنیاد نہ بنایا جائے، شکایت کے مسئلے کا یہی واحد حل ہے۔ عملی اعتبار سے شکایت کے مسئلے کا دوسرا کوئی حل نہیں۔ جو آدمی چاہتا ہو کہ وہ مثبت ذہن کے ساتھ اس دنیا میں رہے، اور مثبت ذہن کے ساتھ اس دنیا سے چلا جائے، اُس کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت عملاً ممکن نہیں۔ شکایت کا معاملہ ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ اس لئے شکایت کا عملی حل (practical solution) صرف یہ ہے کہ شکایت کو بحث کا موضوع نہ بنایا جائے بلکہ اس کو ایک ایسی چیز سمجھا جائے، جس کا حل اُس کو بھلا دینا ہے، نہ کہ یہ دیکھنا کہ وہ صحیح ہے یا غلط۔ تجربہ بتاتا ہے کہ پوچھ گچھ سے شکایت ختم نہیں ہوتی، بلکہ اکثر زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں شکایت کا عملی حل یہی ہے کہ اس کو بھلا دیا جائے۔

وقت کا سرمایه وقت کسی انسان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت ہر انسان کو ملتا ہے، لیکن وقت کو پانے والا وہ ہے جس نے ملے ہوئے وقت کو استعمال کیا۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ ــ کھویا ہوا مال دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن کھویا ہوا وقت دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے وقت کو نہایت ہوشمندی کے ساتھ استعمال کرے :

جس طرح یہ بات غلط ہے کہ آدمی اپنے وقت کو ضائع کر دے، اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ آدمی اپنے وقت کو بے فائدہ کاموں میں استعمال کرے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وقت کو ایسے کام کے لئے استعمال کرے جو اس کو فائدہ پہنچانے والا ہو۔ وقت ایک خارجی چیز ہے۔ وقت کا تعین کلنڈر کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن وقت کا درست استعمال ایک داخلی صفت ہے۔

آدمی داخلی طور پر جتنا زیادہ تیار ہو اتنا ہی زیادہ وہ وقت کا مفید استعمال کر سکتا ہے۔ وقت کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ وقت ایک محدود لمحے کا نام ہے۔ محدود لمحے کے لیے آپ کو وقت حاصل محدود لمحے کے ختم ہونے کے بعد وقت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک اردو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں ے وقت کو بدلنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے، وقت کے معاملہ میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ وقت کے صحیح استعمال اور وقت کے غلط استعمال کے درمیان فرق کرے۔ وہ وقت کے غلط استعمال سے اُسی طرح بچے، جس طرح کوئی شخص حرام چیز سے بچتا ہے۔ وقت کے غلط استعمال کے بارے میں شدید حساسیت ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے وقت کو بھرپور طور پر استعمال کرے۔

اسپرٹ آف اسلام الرساله مشن کا انگریزی ترجمان الرساله مشن کا انگریزی ترجمان اسپرٹ آف اسلام (Spirit of Islam) کے نام سے بنگلور سے نکل رہا ہے۔ یہ ماہ نامہ جنوری 2013 سے شائع کیا جا رہا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک معیاری میگزین ہے۔ انگریزی زبان کی حیثیت انٹرنیشنل زبان کی ہے۔ یہ بے حد ضروری ہے کہ الرسالہ مشن کے پرامن افکار کو انگریزی داں طبقہ میں وسیع پیمانہ پر پھیلایا جائے ۔ یہ بلا شبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ الرسالہ مشن سے وابستہ ہر فرد اسپرٹ آف اسلام کی ایجنسی لے، حتی کہ جو لوگ انگریزی نہ جانتے ہوں وہ بھی اسپرٹ آف اسلام کی ایجنسی ضرور لیں، اور اس کو انگریزی داں طبقہ تک پھیلائیں۔ انگریزی داں طبقہ، وقت کا کار فرما طبقہ ہے۔ الرسالہ کے پرامن مشن سے اس کو واقف کرانا لازمی طور پر ضروری ہے۔

اس کی عملی صورت یہ ہے کہ الرسالہ مشن سے وابستہ ہر فرد اسپرٹ آف اسلام کی ایجنسی لے۔ کے لیے کم سے کم تعداد دس شمارہ کی ہے، زیادہ تعداد کی کوئی حد نہیں۔ ایجنسی لینے والے کے نام اسپرٹ آف اسلام کی مقرر تعداد بذریعہ وی پی روانہ ہوگی۔ صاحب ایجنسی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ان شماروں کو اپنے قریبی حلقہ میں بذریعہ قیمت لوگوں تک پہنچائیں۔ صاحب استطاعت افراد اس ماہنامہ کو فری تقسیم کر سکتے ہیں۔ اسپرٹ آف اسلام کی ایجنسی لینا، اپنے آپ کو اس دعوتی مشن میں شریک کرنا ہے، جو وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

سوال و جواب قرآن کی ایک آیت میں ہے کہ : اے پیغمبر، جو کچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو پہنچادو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا (5:67)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنے نبیوں کی حفاظت کا ذمہ لے لیا اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ نبیوں کو ستایا گیا، حتی کہ بہت سے نبیوں کو قتل بھی کر دیا گیا۔ حالت میں، "والله يعصمك من الناس" کا مطلب کیا ہوگا ۔ قرآن کی اس آیت میں بلاشبہ پیغمبروں کے لیے اور داعیانِ حق کے لیے حفاظت کا وعدہ ہے، لیکن حفاظت کا یہ وعدہ ذات کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ مشن کے اعتبار سے ہے۔ اس وعدہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی پیغمبر کا جو مشن ہے وہ لازماً پورا ہو کر رہتا ہے۔ اللہ کی حفاظت اس بات کی گارنٹی ہوتی ہے کہ اس کو اللہ کی مدد حاصل ہو، اور اللہ کی مدد سے وہ تکمیل تک پہنچے۔ تکمیل سے مراد کسی عملی نظام کا قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ابلاغ اور انذار و تبشیر ہے۔

اس حفاظت کے باوجود دوسروں کے لیے یہ موقع باقی رہتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے پیغمبر یا داعی کو بظاہر کوئی نقصان پہنچائیں۔ مگر اس نقصان کا تعلق آزمایش کے قانون سے ہے، نہ کہ ”عصمت من الناس“کے قانون سے۔

Printed page