سوال و جواب
Al-Risala, December 2014, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے اپنی کتاب ”امن عالم‘ صفحہ 7 میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ ”ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب“۔ پھر آپ نے آگے بیان کیا ہے کہ علامہ ابن حجر نے اس سے استدلال کیا ہے کہ عقل قلب میں ہوتی ہے اور آپ نے کہا کہ مگر یہ بات درست نہیں ، اس حدیث میں قلب سے مراد مرکز تفکیر نہیں ہے بلکہ مرکز دوران خون ہے۔ قلب اور جسد
کا ذکر اس حدیث میں بطور تمثیل ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (فیضان صدیقی، کیرالا) قلب کا لفظ دل (heart) کے معنی میں بھی آتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قلب کا لفظ دماغ (mind) کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن فزیالوجی کی کتاب نہیں، قرآن تفکر اور تدبر کی اس لیے قرآن میں قلب کو ذہن کے معنی میں لیا جائے گا۔ قرآنی آیات میں قلب کو دل کے معنی میں لینا صحیح نہیں۔
قلب کا لفظ عربی زبان میں عام طور پر عقل یا ذہن کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ کی مشہور لغت لسان العرب میں قلب کے لفظ کے تحت یہ الفاظ درج ہیں: وقد يعبر بالقلب عن العقل - قال الفراء في قوله تعالى : إن في ذلك لذكرى لمن كان له قلب، أي عقل - قال الفراء : وجائز في العربية أن تقول : مالك قلب، وما قلب معك، تقول: ما عقلك معك، و أين ذهب قلبك؟ أي أين ذهب عقلك؟ وقال غيره لمن كان له قلب أي تفهم وتدبر (لسان العرب: 1/687)۔ ترجمہ: قلب کی تعبیر عقل سے بھی کی جاتی ہے۔ فراء نے کہا کہ قرآن کی آیت 'إن فی ذلك لذکرى لمن كان له قلب میں قلب سے مراد عقل ہے۔ فراء نے کہا کہ عربی میں یہ کہنا درست ہے کہ تمھارے اندر قلب نہیں، اور تمھا را قلب تمھارے ساتھ نہیں۔ اس کا مطلب ہے تمھارے اندر عقل اور تمھا را قلب کہاں گیا؟ یعنی تمھاری عقل کہاں گئی۔ دوسرے اہل لغت نے بھی کہا ہے کہ قرآن کی آیت لمن كان لہ قلب میں قلب سے مراد سوچنا اور غور کرنا ہے۔
قرآن میں قلب کا لفظ جہاں جہاں آیا ہے، ہر جگہ وہ تدبر اور تفکر کے سیاق میں آیا ہے۔ لئے ان آیتوں میں قلب سے مراد ذہن یا عقل لیا جائے گا، نہ کہ دل بمعنی ہارٹ (heart)۔ دل کو سوچنے والا دل (thinking heart) کے معنی میں لینا، ایک قدیم توہماتی نظریہ تھا۔ اس کا قرآن سے یا حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات سے یہ تصور غلط ثابت ہو چکا ہے کہ دل سوچنے اور غور کرنے کا مرکز ہے۔